حوصلوں اور محبتوں کا شاعر: ارحم روحان


ڈاکٹر احسان تابش

وطن کی مٹی سے محبت اور مقصدی شعور کے ساتھ معنوی گہرائی والے اشعار لکھنے والے معتبر شاعر ارحم روحان کی ادبی خدمات قابل قدر ہیں۔ ان کی منفرد شخصیت پر لکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ سب سے پہلے ان کی شہرہ آفاق کتابوں "روشی کے رنگ”، "پھول خوشبو اور شبنم”، "میرے احساس میں تم ہو”، "ذرا تم حوصلہ رکھنا” اور "چلو تم مسکرا دینا” کی تقریب رونمائی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ارحم روحان متعدد کتابوں کے خالق، تخلیق کار میگزین کے مدیر، اور تخلیق کار انٹرنیشنل کے زیر اہتمام آن لائن عالمی مشاعروں کے منتظم ہیں۔
مشکلات سے نہ گھبرانے والے ارحم روحان اسلام آباد کے نامور شعرا و ادیبوں میں شامل ہیں۔ ان کی شاعری نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔ وہ دل کی بات کو سہار انگیز انداز میں لکھتے ہیں، جو قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "چلو تم مسکرا دینا” ان کی فکری وسعت اور زبان کی روانی کا آئینہ ہے۔ اس مجموعے میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، جن کا انداز دلکش اور معنویت سے بھرپور ہے۔
ارحم روحان کی تحریر سادہ مگر زندگی کی پیچیدگیوں اور معاشرتی ناہمواریوں کا عکس ہے۔ وہ گہرے مشاہدے کو خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں، جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ان کی شاعری عصری شعور کی ترجمان ہے۔ "چلو تم مسکرا دینا” اردو ادب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے، جو تازہ خیالات اور انسانی مسائل کا جواب پیش کرتا ہے۔ ان کا نعتیہ کلام سادہ بیانی اور عشق رسول کے جذبے سے منور ہے، جبکہ ان کی غزل اور نظم خیالات کی پاکیزگی اور جذبات کی گہرائی سے مزین ہیں۔
ارحم روحان کی شاعری انسانی روایات کی پاسدار، ماحول کی عکاس، اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ وہ ادب میں مقصدیت کے حامی ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ "چلو تم مسکرا دینا” مسحور کن کیفیت رکھتا ہے۔ ادبی گروہ بندی کے دور میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ عالمی ادب میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں اور ستائش کی پروا کیے بغیر ادبی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی تحریر حقیقت کے قریب اور گہرے مشاہدے سے مزین ہے۔
آن لائن مشاعروں کے ذریعے ارحم روحان سے متعارف ہوا اور ان کی شخصیت کا مداح بن گیا۔ ان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی غزل میں زبان کی پاکیزگی اور خیال کی پرواز دلکش ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
سانس کو آس کی ضرورت ہے
ترس کیوں بڑھ رہا ہے روز بروز
آپ مل جاؤ مجھے کاش ہمیشہ کے لیے
لب پہ پھر کاش نہ آئے خدا خیر کرے
لوگ رکھتے ہیں دکھاوے کا تعلق لیکن
بات کھلتی ہے تو ایک اور غزل ہوتی ہے
جن میں ہو تازگی وہ جھولتے ہیں شاخوں پر
خشک پتے ہی زمین بوس ہوا کرتے ہیں
ان کی شاعری جذبات کی آئینہ دار اور فکر کی اڑان ہے۔ امید کی کرن اور سماجی زندگی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ بقول ریاض ندیم نیازی، "ان کے کلام میں روح غزل اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔” صابر انصاری کہتے ہیں، "ارحم روحان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے سفر کا مسافر ہے۔”
ارحم روحان متعدد اعزازات سے نوازے جا چکے ہیں اور اب وہ عالمی ادیبوں کو اعزازات سے نواز رہے ہیں۔ وہ اشاروں میں بڑی بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی نظم "سوچ” معنویت سے بھرپور ہے:
سوچو تو دکھ ہوتا ہے
نہ سوچو تو کچھ نہیں ہوتا
اسی لیے تو یہ دکھ عزیز ہیں مجھ کو
کہ میں سوچنا نہیں چھوڑ سکتا
ارحم روحان کی شاعری فکری بنیاد پر پائیدار ہے۔ وہ غزل اور نظم دونوں میں باکمال ہیں۔ ان کی تحریر سیاسی، سماجی، اور اخلاقی مسائل کو مربوط کرتی ہے۔ وہ ادب کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں اور انکساری سے اپنی صلاحیت اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی شاعری ذہن و فکر کے دریچوں کو کھلا رکھتی ہے۔
ارحم روحان مہذب زبان کے مالک اور انسانیت کے علمبردار ہیں۔ ان کی شاعری سیاسی، سماجی، اور اخلاقی دستاویز ہے۔ وہ قاری کو شریک سفر بناتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ علم و آگہی کا سمندر اور امید کا روشن چراغ ہے۔ ان کی فکری وسعت اور محنت لاجواب ہے۔
ارحم روحان کی کتابیں ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ "چلو تم مسکرا دینا” علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

حوصلوں اور محبتوں کا شاعر: ارحم روحان


ڈاکٹر احسان تابش

وطن کی مٹی سے محبت اور مقصدی شعور کے ساتھ معنوی گہرائی والے اشعار لکھنے والے معتبر شاعر ارحم روحان کی ادبی خدمات قابل قدر ہیں۔ ان کی منفرد شخصیت پر لکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ سب سے پہلے ان کی شہرہ آفاق کتابوں "روشی کے رنگ”، "پھول خوشبو اور شبنم”، "میرے احساس میں تم ہو”، "ذرا تم حوصلہ رکھنا” اور "چلو تم مسکرا دینا” کی تقریب رونمائی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ارحم روحان متعدد کتابوں کے خالق، تخلیق کار میگزین کے مدیر، اور تخلیق کار انٹرنیشنل کے زیر اہتمام آن لائن عالمی مشاعروں کے منتظم ہیں۔
مشکلات سے نہ گھبرانے والے ارحم روحان اسلام آباد کے نامور شعرا و ادیبوں میں شامل ہیں۔ ان کی شاعری نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔ وہ دل کی بات کو سہار انگیز انداز میں لکھتے ہیں، جو قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "چلو تم مسکرا دینا” ان کی فکری وسعت اور زبان کی روانی کا آئینہ ہے۔ اس مجموعے میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، جن کا انداز دلکش اور معنویت سے بھرپور ہے۔
ارحم روحان کی تحریر سادہ مگر زندگی کی پیچیدگیوں اور معاشرتی ناہمواریوں کا عکس ہے۔ وہ گہرے مشاہدے کو خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں، جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ان کی شاعری عصری شعور کی ترجمان ہے۔ "چلو تم مسکرا دینا” اردو ادب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے، جو تازہ خیالات اور انسانی مسائل کا جواب پیش کرتا ہے۔ ان کا نعتیہ کلام سادہ بیانی اور عشق رسول کے جذبے سے منور ہے، جبکہ ان کی غزل اور نظم خیالات کی پاکیزگی اور جذبات کی گہرائی سے مزین ہیں۔
ارحم روحان کی شاعری انسانی روایات کی پاسدار، ماحول کی عکاس، اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ وہ ادب میں مقصدیت کے حامی ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ "چلو تم مسکرا دینا” مسحور کن کیفیت رکھتا ہے۔ ادبی گروہ بندی کے دور میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ عالمی ادب میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں اور ستائش کی پروا کیے بغیر ادبی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی تحریر حقیقت کے قریب اور گہرے مشاہدے سے مزین ہے۔
آن لائن مشاعروں کے ذریعے ارحم روحان سے متعارف ہوا اور ان کی شخصیت کا مداح بن گیا۔ ان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قاری اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی غزل میں زبان کی پاکیزگی اور خیال کی پرواز دلکش ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
سانس کو آس کی ضرورت ہے
ترس کیوں بڑھ رہا ہے روز بروز
آپ مل جاؤ مجھے کاش ہمیشہ کے لیے
لب پہ پھر کاش نہ آئے خدا خیر کرے
لوگ رکھتے ہیں دکھاوے کا تعلق لیکن
بات کھلتی ہے تو ایک اور غزل ہوتی ہے
جن میں ہو تازگی وہ جھولتے ہیں شاخوں پر
خشک پتے ہی زمین بوس ہوا کرتے ہیں
ان کی شاعری جذبات کی آئینہ دار اور فکر کی اڑان ہے۔ امید کی کرن اور سماجی زندگی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ بقول ریاض ندیم نیازی، "ان کے کلام میں روح غزل اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔” صابر انصاری کہتے ہیں، "ارحم روحان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے سفر کا مسافر ہے۔”
ارحم روحان متعدد اعزازات سے نوازے جا چکے ہیں اور اب وہ عالمی ادیبوں کو اعزازات سے نواز رہے ہیں۔ وہ اشاروں میں بڑی بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی نظم "سوچ” معنویت سے بھرپور ہے:
سوچو تو دکھ ہوتا ہے
نہ سوچو تو کچھ نہیں ہوتا
اسی لیے تو یہ دکھ عزیز ہیں مجھ کو
کہ میں سوچنا نہیں چھوڑ سکتا
ارحم روحان کی شاعری فکری بنیاد پر پائیدار ہے۔ وہ غزل اور نظم دونوں میں باکمال ہیں۔ ان کی تحریر سیاسی، سماجی، اور اخلاقی مسائل کو مربوط کرتی ہے۔ وہ ادب کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں اور انکساری سے اپنی صلاحیت اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی شاعری ذہن و فکر کے دریچوں کو کھلا رکھتی ہے۔
ارحم روحان مہذب زبان کے مالک اور انسانیت کے علمبردار ہیں۔ ان کی شاعری سیاسی، سماجی، اور اخلاقی دستاویز ہے۔ وہ قاری کو شریک سفر بناتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ علم و آگہی کا سمندر اور امید کا روشن چراغ ہے۔ ان کی فکری وسعت اور محنت لاجواب ہے۔
ارحم روحان کی کتابیں ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ "چلو تم مسکرا دینا” علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں