جموں و کشمیرخاص طور پر وادی میں آن لائن جوئے کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی آسان دستیابی نے نوجوان نسل کو ایسے ڈیجیٹل جوا خانوں اور بیٹنگ ایپس Betting Appsکے شکنجے میں جکڑ لیا ہے جو لمحوں میں دولت کا خواب دکھا کر انہیں ذہنی، معاشی اور سماجی بربادی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ایسے نازک وقت میں میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کا یہ مطالبہ کہ عدلیہ فوری طور پر آن لائن جوئے پر مکمل پابندی عائد کرے، نہایت بروقت، بصیرت افروز اور معاشرتی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ ان کا یہ بیان اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے خلاف ایک واضح اور اخلاقی موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔
آن لائن جوئے کے نقصانات اب محض مفروضہ نہیں رہے۔ وادی بھر میں متعدد خاندان اپنے نوجوان بچوں کے قرضوں، ذہنی دباؤ اور بعض اوقات خودکشی جیسے افسوسناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان بیٹنگ ایپس کی لت اس قدر شدید ہے کہ ایک دفعہ اس دلدل میں قدم رکھنے والا نوجوان اکثر مکمل طور پر برباد ہو جاتا ہے۔
مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ فینٹسی اسپورٹس اور دیگر تفریحی عنوانات کے پردے میں اس لعنت کو نہ صرف قانونی شکل دی جا رہی ہے بلکہ اسے روزمرہ کا معمول بنا کر ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو زک پہنچائی جا رہی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ محض تشویش کا اظہار نہ کیا جائے، بلکہ فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز کے خلاف سخت ضوابط متعارف کرائے اور ان کی رسائی کو فوری طور پر روکے۔ تعلیمی اداروں، دینی مراکز، اور سماجی رہنماؤں کی مدد سے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ والدین اور نوجوانوں کو اس خطرناک لت کے نقصانات سے روشناس کرایا جا سکے۔
میرواعظ کا بیان صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تحفظ کی اپیل ہے۔ نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی بقا کے لیے یہ ایک عملی قدم ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ایک بار پھر، میرواعظ نے نہ صرف ایک دینی رہنما کے طور پر بلکہ ایک سچے سماجی نگہبان کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔
اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت نہیں۔ پالیسی، قانون، شعور اور عزم ان سب کو بروئے کار لا کر اس بڑھتی ہوئی سماجی برائی کا خاتمہ ضروری ہے، قبل اس کے کہ یہ ہماری تہذیب و معاشرت پر دائمی داغ بن جائے۔
آن لائن جوا : میرواعظ کا مطالبہ بر وقت
آن لائن جوا : میرواعظ کا مطالبہ بر وقت
جموں و کشمیرخاص طور پر وادی میں آن لائن جوئے کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی آسان دستیابی نے نوجوان نسل کو ایسے ڈیجیٹل جوا خانوں اور بیٹنگ ایپس Betting Appsکے شکنجے میں جکڑ لیا ہے جو لمحوں میں دولت کا خواب دکھا کر انہیں ذہنی، معاشی اور سماجی بربادی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ایسے نازک وقت میں میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کا یہ مطالبہ کہ عدلیہ فوری طور پر آن لائن جوئے پر مکمل پابندی عائد کرے، نہایت بروقت، بصیرت افروز اور معاشرتی ذمہ داری کا مظہر ہے۔ ان کا یہ بیان اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے خلاف ایک واضح اور اخلاقی موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔
آن لائن جوئے کے نقصانات اب محض مفروضہ نہیں رہے۔ وادی بھر میں متعدد خاندان اپنے نوجوان بچوں کے قرضوں، ذہنی دباؤ اور بعض اوقات خودکشی جیسے افسوسناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان بیٹنگ ایپس کی لت اس قدر شدید ہے کہ ایک دفعہ اس دلدل میں قدم رکھنے والا نوجوان اکثر مکمل طور پر برباد ہو جاتا ہے۔
مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ فینٹسی اسپورٹس اور دیگر تفریحی عنوانات کے پردے میں اس لعنت کو نہ صرف قانونی شکل دی جا رہی ہے بلکہ اسے روزمرہ کا معمول بنا کر ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو زک پہنچائی جا رہی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ محض تشویش کا اظہار نہ کیا جائے، بلکہ فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز کے خلاف سخت ضوابط متعارف کرائے اور ان کی رسائی کو فوری طور پر روکے۔ تعلیمی اداروں، دینی مراکز، اور سماجی رہنماؤں کی مدد سے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ والدین اور نوجوانوں کو اس خطرناک لت کے نقصانات سے روشناس کرایا جا سکے۔
میرواعظ کا بیان صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تحفظ کی اپیل ہے۔ نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی بقا کے لیے یہ ایک عملی قدم ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ایک بار پھر، میرواعظ نے نہ صرف ایک دینی رہنما کے طور پر بلکہ ایک سچے سماجی نگہبان کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔
اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت نہیں۔ پالیسی، قانون، شعور اور عزم ان سب کو بروئے کار لا کر اس بڑھتی ہوئی سماجی برائی کا خاتمہ ضروری ہے، قبل اس کے کہ یہ ہماری تہذیب و معاشرت پر دائمی داغ بن جائے۔


