تعلیمی نظام میں اصلاحات ضرورت

جموں و کشمیر کا محکمہ تعلیم اگرچہ ابتدائی سطح پر تعلیمی بہتری کے لئے کئی قابلِ قدر اقدامات کر چکا ہے، لیکن معیاری تعلیم کا اصل ہدف ابھی تک حاصل نہیں ہو پایا۔ یہ ہدف ناقابلِ حصول نہیں، مگر اس کے لئے سنجیدہ پالیسی سازی، مؤثر منصوبہ بندی اور عملی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت، کمزور طلبہ کے لئے خصوصی کلاسیں، اور استاد و شاگرد کے تناسب میں بہتری جیسے اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر زمینی سطح پر تعلیمی معیار اب بھی تشویش ناک ہے۔

ماہرین تعلیم، اساتذہ اور عوام سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ سرکاری اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔پرائیویٹ اسکولوں کے مقابلے میں سرکاری ادارے اس لئے پیچھے ہیں کہ وہاں تعلیم کو محض نصاب کی حد تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ بچوں کو خوشگوار، دلچسپ اور خوف سے پاک ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ سیکھنے کے اس عمل میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور منتظمین سب شامل ہوتے ہیں۔

جب تک سرکاری اسکولوں میں بھی ایسا ماحول قائم نہیں ہوگا، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی، قبل از ابتدائی کلاسوں کا آغاز، اساتذہ کی بروقت تنخواہیں، ان کی تقرریاں تعلیمی ضرورت کے مطابق، اور کارکردگی کی بنیاد پر ان کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنیاد دی جا سکے۔اگر ان اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے، تو سرکاری اسکول بھی معیار، اعتبار اور کارکردگی کے میدان میں پرائیویٹ اداروں کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ابتدائی تعلیم کو زوال سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

تازہ ترین خبریں

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

تعلیمی نظام میں اصلاحات ضرورت

جموں و کشمیر کا محکمہ تعلیم اگرچہ ابتدائی سطح پر تعلیمی بہتری کے لئے کئی قابلِ قدر اقدامات کر چکا ہے، لیکن معیاری تعلیم کا اصل ہدف ابھی تک حاصل نہیں ہو پایا۔ یہ ہدف ناقابلِ حصول نہیں، مگر اس کے لئے سنجیدہ پالیسی سازی، مؤثر منصوبہ بندی اور عملی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت، کمزور طلبہ کے لئے خصوصی کلاسیں، اور استاد و شاگرد کے تناسب میں بہتری جیسے اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، مگر زمینی سطح پر تعلیمی معیار اب بھی تشویش ناک ہے۔

ماہرین تعلیم، اساتذہ اور عوام سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ سرکاری اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔پرائیویٹ اسکولوں کے مقابلے میں سرکاری ادارے اس لئے پیچھے ہیں کہ وہاں تعلیم کو محض نصاب کی حد تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ بچوں کو خوشگوار، دلچسپ اور خوف سے پاک ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ سیکھنے کے اس عمل میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور منتظمین سب شامل ہوتے ہیں۔

جب تک سرکاری اسکولوں میں بھی ایسا ماحول قائم نہیں ہوگا، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی، قبل از ابتدائی کلاسوں کا آغاز، اساتذہ کی بروقت تنخواہیں، ان کی تقرریاں تعلیمی ضرورت کے مطابق، اور کارکردگی کی بنیاد پر ان کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنیاد دی جا سکے۔اگر ان اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے، تو سرکاری اسکول بھی معیار، اعتبار اور کارکردگی کے میدان میں پرائیویٹ اداروں کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ابتدائی تعلیم کو زوال سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں