قیصر محمود عراقی
اس وقت پوری دنیا میں منشیات کے استعمال کا جو عام رواج چل پڑا ہے، خاص طور سے نوجوان نسل جس بری طرح سے نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ ہر صاحب فکر کیلئے بے حد تشویش ناک صورتحال ہے۔ تمام احتیاطی تدبیروں کے باوجود منشیات کے استعمال کی شرح میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دولت کے ہوس میں سرمایہ داروں کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ مسلسل منشیات کے کاروبار کو مختلف خوشنما انداز کے ساتھ بڑھاوا دیکر نوجوانوں کو جسمانی واخلاقی ، اقتصادی ومعاشرتی یعنی ہر اعتبار سے بدحالی کی اخری سطح تک پہنچانے کے درپے ہوچکے ہیں۔ خوردونوش کی مختلف چیزوں (مثلاً چاکلیٹ وغیرہ وغیرہ)میں مخفی طور پر نشہ آور مادے شامل کرکے نوجوانوں کو ان کا عادی بنایا جاتا ہے اور اس طرح پھر ان کو منشیات کا خوگر کردیا جاتا ہے۔ معاشرے میں نشے کی لعنت عام ہونے کے اسباب ومحرکات کیا ہیں؟ ذیل میں ان سے متعلق چند اہم امور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
(ایمانی جذبے اور خوف خدا کی کمی) ہمارے معاشرے میں منشیات کی وبا عام ہونے کی سب سے پہلے بنیادی وجہ یہی ہے کہ ایمانی جذبات کمزور اور سرد پڑگئے ہیں، بے خوفی اور جرأت بڑھ گئی ہے، اللہ کا خوف رخصت ہورہا ہے، موت کی یاد سے غفلت عام ہے، آخرت کی فکر اور بارگاہ رب العزت میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار باقی نہیں رہااس کا نتیجہ یہ ہے کہ گناہوں کی طرف لوگ سر پٹ دوڑرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے لگام ان کے نفس کے قبضے میں ہے۔ آج منشیات کے رواج عام کا بہت بنیادی سبب یہی ہے کہ امت ایمان قوت سے محروم اور بارگاہِ الہیٰ میں باز پرُس کی حقیقت سے بے فکری اور بے خوفی میںمبتلا ہیں۔ (اخلاقی تعلیم وتربیت کا فقدان)اولاد کو بنانے یا بگاڑنے میںسب سے نمایا کردار گھر کی اخلاقی تعلیم وتربیت کا ہوتا ہے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے ہنگاموں اور مشغولیات میں والدین کو اپنی والدین کی دینی واخلاقی تربیت کی فرصت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ضروری ہونے کا انہیں احساس ہے۔ اولاد بے حیائی کی راہ پر کس طرح جارہی ہے اور منشیات کی لعنت میں کس طرح مبتلا ہورہی ہے اس کی کوئی فکر والدین کو نہیں رہتی ہے۔ نتیجہ سامنے ہے کہ نوجوانوں کی نسل سامنے آرہی ہے جو شراب کی رسیااور بگاڑ کا مرکب ہے۔ (بے کاری اور بے روزگاری)بے کاری اور کسی مثبت ، صحت مند اور مفید مشغولیت کا نہ ہونا انسان کو بگاڑ کی راہ پر لے جانے کا بہت طاقتور ذریعہ ہوتا ہے، ایسے لوگوں تک شیطان کی رسائی بہت آسان سی ہوتی ہے، پھر شیطان دل کو اپنے قابو میں کرلیتا ہے، جیسے جانور کو قابوں میں کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ شیطان انسان کو ہلاکت کے گڑھوں تک پہنچادیتا ہے، اس لئے مثبت اور مفید مشغولیات میں لگے رہنا بہت بڑی نعمت ہے اور بگاڑ سے سلامتی کا ذریعہ بھی ہے۔ موجودہ حالات میں جب معاشی بدحالی کا دور دورہ ہے، ایک بہت بڑا طبقہ بے روزگاری کی زندگی گذار رہا ہے اور مایوسی ، نفسیاتی کرب اور اضطراب کا شکار ہے اور یہ کرب بسا اوقات اسے اپنے غم غلط کرنے کیلئے شراب و نشہ کے مہلک راستے پر لے جاتا ہے، یہ بھی سماج میں نشے کے عموم کا ایک سبب ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں نشے کی لت کا ایک محرک نشے باز ساتھیوں کی صحبت ورفاقت بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں منشیات اور دیگر فواحش کے عام ہونے کے پیچھے بنیادی کردار ہماری اندھی نقالی اور غلامی کے مزاج کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ جوانوں میں وہ بھی ہے جو بگاڑ پھیلانے والوں کی طرف سے رائج نشہ آور گولیوں کے جھانسے میں آکر انہیںمقوی دواسمجھ کر استعمال کرلیتا ہے اور اسے پتا بھی نہیں ہوتا کہ اس طرح اس نے نشے کا زہر اپنے وجود میں اتار لیا ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ ان دوائوں کا عادی ہوجاتا ہے اورپھر یہ عادت اسے برباد کرڈالتی ہے۔
قارئین محترم! سماج میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور سماج کو اس برائی سے بچانے کیلئے کیا تدبیریں ہوسکتی ہیںوہ جان لیں۔ تمام برائیوں کے سد باب اور ہر نوع کی مجرمانہ عادتوں کو ختم کرنے کیلئے ایمانی جذبات بالکل بیدار کیا جائے اور اللہ کا خوف جگایا جائے کیونکہ برائیوں سے اور طرح طرح کی منشیات سے نفرت پیدا کرنے کا سب سے کارگر نسخہ ایمانی جذبات کی بیداری اور اللہ کی بارگاہ میں جواب دہی کا مکمل احساس ہے۔ والدین کی طرف سے گھروں میں اور اساتذہ کی طرف سے تعلیم گاہوں میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ اولاد خیر کی طرف راغب ہو، برائیوں سے نفرت کرنے والی بنیں، منشیات کے مضر اثرات سے باخبر ہو، ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ نشہ سمیت تمام جرائم سے بالکلیہ نفرت کرنے والے بن جائیں، کیونکہ کردار سازی میں تعلیم وتربیت کا کردار سب سے بنیادی ہوتا ہے اور اس حوالے سے سب سے بڑھ کر ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ صحیح خطوط پر اولاد کی رہنمائی کریں، ان کو برے ماحول سے اور مخرب اخلاق امور وعناصر واسباب سے مکمل بچائیں۔ یہ سچ ہے کہ بے روزگاری اور پھر اس کی وجہ سے آنے والے افلاس کی صورت حال انسان سے وہ سب کچھ کراسکتی ہے جو نہیں کرنا چاہئے، مایوسی اور اضطراب کی کیفیات انسان کو منشیات کا عادی بھی بنادیتی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم سماج سے بے روزگاری کے خاتمے کی مہم میں حصہ لیں، کسی بے روز گار کو روز گارفراہم کرنا ایک اعلیٰ درجے کا عمل خیر ہے اور گناہوں سے بچانے کا بابرکت کام بھی ہے۔ منشیات سمیت تمام برائیوں سے دور رہنے کا یہ کارگر نسخہ ہے کہ نوجوان برے لوگوں کی ہم نشینی سے بالکل اجتناب کریںاور اچھے دیندار اور نیک افراد کے ساتھ رفاقت رکھیں۔
مانا کہ ہمارے ملک میں شراب کا کاروبار اور دیگر منشیات پر حکومت کی طرف سے ممنوع ہے لیکن اسی حکومت کی سرپرستی میں شراب اور دیگر نشے کا کاروبار ناسور کی طرح معاشرے میں رائج ہے جس سے آنے والی تباہی عیاں ہے۔ لہذا سماج سے منشیات کی لعنت ختم کرنے کیلئے سماج کے مصلحین کی طرف سے مسلسل منصوبہ بند مہم چلائی جائے، افسوس کا مقام یہ ہے کہ سماجی اصلاح کا علم اٹھانے والے افراد اور تحریکات کی طرف سے منشیات سے پاک سماج تشکیل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اور موثر اقدام نہیں ہورہا ہے، جبکہ بنیادی ضرورت ہے کہ ایک ہمہ گیر تحریک کے انداز میں اس پر کام کیا جائے۔ سماج کے تمام طبقات پر یہ پیغام پہنچایا جائے، نشے کے نقصانات سے ہر سطح پر لوگوں کو باخبر کیا جائے، ان تمام اسباب وعوامل پر بند باندھنے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی بھی قسم کے نشے سے پاک رہے تو انہیں ہمیشہ اپنی نگرانی میں رکھیںتاکہ نشے سے پاک ایک نسل پروان چڑھ سکے۔
ززز


