اسرائیل کے خلاف یوروپ کی بڑھتی ناراضگی


سراج نقوی

امریکہ اور یوروپ کے اسرائیل کے تعلق سے بدلتے ہوئے رویے پر بہت جلد کوئی رائے قائم کرنا تو ان ممالک کی منافقت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے مناسب نہ ہوگا،لیکن ظاہری طور پر اب اسرائیل کے خلاف وہ ممالک بھی صف بستہ ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ جو غزہ اور اسرائیل کی جنگ میں اب تک اسرائیل کی صرف اخلاقی ہی نہیں بلکہ مالی اور دفاعی مدد بھی کر رہے تھے۔اس کا ظاہری سبب غزہ کے معصوم بچوں اور عام شہریوں کو عالمی برادری کی طرف سے بھیجی جانے والی غذائی امداد کو اسرائیل کے ذریعہ روکا جانا اور غزہ کے شہریوں کا مسلسل کیا جانے والا قتل اور ان ممالک کے عوام کی ناراضگی ہے۔
فرانس ،برطانیہ اور کناڈا کا اسرائیل کے تعلق سے تازہ موقف ان ممالک کے بدلے ہوئے رخ کا اشارہ ہے۔مذکورہ تینوں ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر اپنے حملے روک دینے چاہئیں۔
جبکہ دوسری طرف اسرائیل غزہ کو حماس سے خالی کرانے اور اس پر اپنا قبضہ جمانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔جنگی مجرم نیتن یاہو غزہ پر اپنے حملوں کے لیے جواز پیش کر رہا ہے کہ ایسے حملوں سے ہی حماس کا خاتمہ ہوگا،غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول قائم ہو جائیگا۔نیتن یاہو کے اس بیان سے صاف ہے کہ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے اس کا مقصد صرف اور صرف غزہ پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے ،اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے بے گناہ فلسطینی شہریوںکا روز قتل عام کیا جا رہا ہے۔اسی لیے اسرائیل کی غزہ میں جنگی کارروائیوں پر اپنے رد عمل میں فرانس،برطانیہ اور کناڈا نے ان کارروائیوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ،’’غزہ میں انسانی اذیت کی سطح ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘ان ممالک نے یہ بھی کہا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں جتنی غذائی امدد بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں وہ ناکافی ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ بھی خبردار کر چکا ہے کہ اگر غزہ میں جلد ہی غذائی امداد نہیں پہنچی تو 14000بچّوں کی جان جا سکتی ہے۔لیکن اقوام متحدہ کی وارننگ اور مذکورہ تین ممالک کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار نیتن یاہو نے جنگ روکنے کی جو شرط رکھی ہے اس کا مقصد غزہ پر ناجائز قبضہ کرنے اور حماس کا وجود ختم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ایسے میں حالات میں کسی بڑی تبدیلی کی امید لاحاصل ہی ہے۔اسرائیل کی جابرانہ کارروائیوں پر صرف مذکورہ تین ممالک نے ہی فکرمندی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یوروپی یونین اور برطانیہ کے درمیان حالیہ چوٹی کانفرنس میں بھی یوروپی یونین کے صدر اینٹونیو کوسٹا نے نے غزہ میں انسانی بحران کو ایک ’’ٹریجڈی‘‘ قرار دیتے ہوئے صاف طور پر کہا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،اور غزہ کی پوری آبادی کو فوج کے تحت کیا جا رہا ہے۔اینٹونیو کا یہ بیان غزہ کے سنگین اور باعث تشویش حالات کے تعلق سے یوروپی ممالک کی بڑھتی ہوئی فکرمندی کا ثبوت ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کے تعلق سے یوروپ کے رخ میں یہ واضح تبدیلی جنگ بندی کے پانچ روز بعد ایک اسرائیلی فوجی یونٹ کے ذریعہ ایک میڈیکل قافلے پر حملہ کے بعد آئی۔اس حملے کے بعد فلسطینی شہیدوں کو اسرائیلی فوجیوں نے ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا تھا ۔اس ظالمانہ کارروائی پر اپنی وضاحتوں میں ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کو یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ اس نے جس میڈیکل قافلے پر حملہ کیا اس میں سے کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔اس واقعے کے بعد سے ہی یوروپی ممالک میں اسرائیل کے خلاف ناراضگی بڑھی ہے اور اب فرانس نے صاف طور پر کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنے فوجی حملے بند نہیں کیے اور غزہ بھیجی جانے والی انسانی امداد پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائیں تو اسرائیل کے خلاف مزید ٹھوس قدم اٹھائے جائینگے۔قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ ان سخت اقدامات میں اسرائیل کے خلاف پابندیا ںلگانا یا آزاد فلسطینی ریاست کو ان ممالک کے ذریعہ تسلیم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔فرانس اور برطانیہ کے بارے میں قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ یہ ممالک فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کے قیام میں برطانیہ کا ہی سب سے اہم رول رہا ہے اور برطانیہ کا تازہ موقف اس کے اب تک کے موقف کے برعکس ہی ہے۔معاملہ صرف مذکورہ تین ممالک کا ہی نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف کئی یوروپی ممالک سمیت بائیس ممالک نےجاری کیے گئے اپنے بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کو ملنے والی انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیںکھڑی نہ کرے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلسطین کی حمایت میں کھڑے ہونے والے ان بائیس ممالک میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ہے۔ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے موقع پر اپنی آنکھوں کو فرش راہ کرنے والوں کا یہ رویہ ہی دراصل اسرائیل کی اب تک کی جارحیت اور فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے کا اصل سبب رہا ہے۔ورنہ چاروں طرف سے مسلم ممالک سے محصور اسرائیل کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ اس طرح جاری رکھتا۔بھلے ہی اسے اب تک امریکہ اور یوروپ کی سرگرم حمایت حاصل رہی ہو۔تازہ حالات میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی میں صدر ٹرمپ نے بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ٹرمپ واقعی اسرائیل سے ناراض ہیں یا پھر اسرائیل کے خلاف یوروپ اور امریکہ کے عوام میں بڑھتی ہوئی مخالفت نے انھیں اپنے رویے میں ظاہری تبدیلی لانے کے لیے مجبور کیا ہے اس پر تو یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا ،لیکن ٹرمپ نے بہرحال اسرائیل کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے غزہ میں جنگ بند نہیں کی تو اسے امریکہ کی حمایت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس حماس کو اسرائیل نیست نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اس کے اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں،اور ظاہر ہے یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کہ امریکہ حماس کے ساتھ راست مذاکرات کر رہا ہے۔امریکہ صرف حماس کے ساتھ ہی مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ ایران کے ساتھ بھی راست مذاکرات کے لیے کوشاں ہے،یہ الگ بات کہ ابھی تک ایران نے امریکی عیاریوںکو دیکھتے ہوئے اس معاملے میںمحطاط رویہ اپنایا ہے۔البتہ ایران کے ساتھ بھی امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔جبکہ دوسری طرف امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کہتی ہے کہ اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔امریکی نیو ز چینل کی رپورٹ کو درست مانا جائے تو اس کے مطابق اسرائیل ایران کے ساتھ کسی ناقص معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔دراصل معاملہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو اسرائیل اپنے لیے خطرہ مانتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو وہ امریکہ کی مدد کے بغیر ہی نشانہ بنائے۔حالانکہ ایران نے ان خبروں کے درمیان واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایسا کوئی حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ایران نے یہ تک کہا ہے کہ اگر اسرائیل ایسا کوئی حملہ کرتا ہے تو ایران اس کے لیے امریکہ کو بھی ذمہ دار مانیگا اور اس حملے کے نتائج امریکہ کو بھی بھگتنے پڑینگے۔ظاہر ہے یہ صورتحال کم از کم اس وقت ٹرمپ کی ایران کے تعلق سے حکمت عملی کے حق میں نہیں ہے۔ٹرمپ نہیں چاہینگے کہ ایران کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑکر اسرائیل امریکی ’منصوبوں‘ کو نقصان پہنچائے۔حالانکہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس کی اعلیٰ قیادت نہ صرف اسرائیل کے خلاف کمر بستہ ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ ہونے والے ایٹمی مذاکرات کے تعلق سے بھی اس کی دلچسپی نہیں ہے،اور اس کا سبب امریکہ کا ایران کے تعلق سے اب تک کا رویہ ہی ہے۔لیکن فی الحال ٹرمپ اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کی حمایت کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے ۔جہاں تک یوروپ کا تعلق ہے تو جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ بیشتر یوروپی ممالک غزہ میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں سے ناراض ہیں اور یہ ناراضگی اب اس مقام پر پہنچتی نظر آرہی ہے کہ جس کے نتیجے میں اسرائیل عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

اسرائیل کے خلاف یوروپ کی بڑھتی ناراضگی


سراج نقوی

امریکہ اور یوروپ کے اسرائیل کے تعلق سے بدلتے ہوئے رویے پر بہت جلد کوئی رائے قائم کرنا تو ان ممالک کی منافقت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے مناسب نہ ہوگا،لیکن ظاہری طور پر اب اسرائیل کے خلاف وہ ممالک بھی صف بستہ ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ جو غزہ اور اسرائیل کی جنگ میں اب تک اسرائیل کی صرف اخلاقی ہی نہیں بلکہ مالی اور دفاعی مدد بھی کر رہے تھے۔اس کا ظاہری سبب غزہ کے معصوم بچوں اور عام شہریوں کو عالمی برادری کی طرف سے بھیجی جانے والی غذائی امداد کو اسرائیل کے ذریعہ روکا جانا اور غزہ کے شہریوں کا مسلسل کیا جانے والا قتل اور ان ممالک کے عوام کی ناراضگی ہے۔
فرانس ،برطانیہ اور کناڈا کا اسرائیل کے تعلق سے تازہ موقف ان ممالک کے بدلے ہوئے رخ کا اشارہ ہے۔مذکورہ تینوں ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر اپنے حملے روک دینے چاہئیں۔
جبکہ دوسری طرف اسرائیل غزہ کو حماس سے خالی کرانے اور اس پر اپنا قبضہ جمانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔جنگی مجرم نیتن یاہو غزہ پر اپنے حملوں کے لیے جواز پیش کر رہا ہے کہ ایسے حملوں سے ہی حماس کا خاتمہ ہوگا،غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول قائم ہو جائیگا۔نیتن یاہو کے اس بیان سے صاف ہے کہ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے اس کا مقصد صرف اور صرف غزہ پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے ،اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے بے گناہ فلسطینی شہریوںکا روز قتل عام کیا جا رہا ہے۔اسی لیے اسرائیل کی غزہ میں جنگی کارروائیوں پر اپنے رد عمل میں فرانس،برطانیہ اور کناڈا نے ان کارروائیوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ،’’غزہ میں انسانی اذیت کی سطح ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘ان ممالک نے یہ بھی کہا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں جتنی غذائی امدد بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں وہ ناکافی ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ بھی خبردار کر چکا ہے کہ اگر غزہ میں جلد ہی غذائی امداد نہیں پہنچی تو 14000بچّوں کی جان جا سکتی ہے۔لیکن اقوام متحدہ کی وارننگ اور مذکورہ تین ممالک کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار نیتن یاہو نے جنگ روکنے کی جو شرط رکھی ہے اس کا مقصد غزہ پر ناجائز قبضہ کرنے اور حماس کا وجود ختم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ایسے میں حالات میں کسی بڑی تبدیلی کی امید لاحاصل ہی ہے۔اسرائیل کی جابرانہ کارروائیوں پر صرف مذکورہ تین ممالک نے ہی فکرمندی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یوروپی یونین اور برطانیہ کے درمیان حالیہ چوٹی کانفرنس میں بھی یوروپی یونین کے صدر اینٹونیو کوسٹا نے نے غزہ میں انسانی بحران کو ایک ’’ٹریجڈی‘‘ قرار دیتے ہوئے صاف طور پر کہا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،اور غزہ کی پوری آبادی کو فوج کے تحت کیا جا رہا ہے۔اینٹونیو کا یہ بیان غزہ کے سنگین اور باعث تشویش حالات کے تعلق سے یوروپی ممالک کی بڑھتی ہوئی فکرمندی کا ثبوت ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کے تعلق سے یوروپ کے رخ میں یہ واضح تبدیلی جنگ بندی کے پانچ روز بعد ایک اسرائیلی فوجی یونٹ کے ذریعہ ایک میڈیکل قافلے پر حملہ کے بعد آئی۔اس حملے کے بعد فلسطینی شہیدوں کو اسرائیلی فوجیوں نے ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا تھا ۔اس ظالمانہ کارروائی پر اپنی وضاحتوں میں ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کو یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ اس نے جس میڈیکل قافلے پر حملہ کیا اس میں سے کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔اس واقعے کے بعد سے ہی یوروپی ممالک میں اسرائیل کے خلاف ناراضگی بڑھی ہے اور اب فرانس نے صاف طور پر کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنے فوجی حملے بند نہیں کیے اور غزہ بھیجی جانے والی انسانی امداد پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائیں تو اسرائیل کے خلاف مزید ٹھوس قدم اٹھائے جائینگے۔قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ ان سخت اقدامات میں اسرائیل کے خلاف پابندیا ںلگانا یا آزاد فلسطینی ریاست کو ان ممالک کے ذریعہ تسلیم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔فرانس اور برطانیہ کے بارے میں قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ یہ ممالک فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کے قیام میں برطانیہ کا ہی سب سے اہم رول رہا ہے اور برطانیہ کا تازہ موقف اس کے اب تک کے موقف کے برعکس ہی ہے۔معاملہ صرف مذکورہ تین ممالک کا ہی نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف کئی یوروپی ممالک سمیت بائیس ممالک نےجاری کیے گئے اپنے بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کو ملنے والی انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیںکھڑی نہ کرے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلسطین کی حمایت میں کھڑے ہونے والے ان بائیس ممالک میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ہے۔ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے موقع پر اپنی آنکھوں کو فرش راہ کرنے والوں کا یہ رویہ ہی دراصل اسرائیل کی اب تک کی جارحیت اور فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے کا اصل سبب رہا ہے۔ورنہ چاروں طرف سے مسلم ممالک سے محصور اسرائیل کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ اس طرح جاری رکھتا۔بھلے ہی اسے اب تک امریکہ اور یوروپ کی سرگرم حمایت حاصل رہی ہو۔تازہ حالات میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی میں صدر ٹرمپ نے بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ٹرمپ واقعی اسرائیل سے ناراض ہیں یا پھر اسرائیل کے خلاف یوروپ اور امریکہ کے عوام میں بڑھتی ہوئی مخالفت نے انھیں اپنے رویے میں ظاہری تبدیلی لانے کے لیے مجبور کیا ہے اس پر تو یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا ،لیکن ٹرمپ نے بہرحال اسرائیل کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے غزہ میں جنگ بند نہیں کی تو اسے امریکہ کی حمایت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس حماس کو اسرائیل نیست نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اس کے اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں،اور ظاہر ہے یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کہ امریکہ حماس کے ساتھ راست مذاکرات کر رہا ہے۔امریکہ صرف حماس کے ساتھ ہی مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ ایران کے ساتھ بھی راست مذاکرات کے لیے کوشاں ہے،یہ الگ بات کہ ابھی تک ایران نے امریکی عیاریوںکو دیکھتے ہوئے اس معاملے میںمحطاط رویہ اپنایا ہے۔البتہ ایران کے ساتھ بھی امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔جبکہ دوسری طرف امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کہتی ہے کہ اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔امریکی نیو ز چینل کی رپورٹ کو درست مانا جائے تو اس کے مطابق اسرائیل ایران کے ساتھ کسی ناقص معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔دراصل معاملہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو اسرائیل اپنے لیے خطرہ مانتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو وہ امریکہ کی مدد کے بغیر ہی نشانہ بنائے۔حالانکہ ایران نے ان خبروں کے درمیان واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایسا کوئی حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ایران نے یہ تک کہا ہے کہ اگر اسرائیل ایسا کوئی حملہ کرتا ہے تو ایران اس کے لیے امریکہ کو بھی ذمہ دار مانیگا اور اس حملے کے نتائج امریکہ کو بھی بھگتنے پڑینگے۔ظاہر ہے یہ صورتحال کم از کم اس وقت ٹرمپ کی ایران کے تعلق سے حکمت عملی کے حق میں نہیں ہے۔ٹرمپ نہیں چاہینگے کہ ایران کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑکر اسرائیل امریکی ’منصوبوں‘ کو نقصان پہنچائے۔حالانکہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس کی اعلیٰ قیادت نہ صرف اسرائیل کے خلاف کمر بستہ ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ ہونے والے ایٹمی مذاکرات کے تعلق سے بھی اس کی دلچسپی نہیں ہے،اور اس کا سبب امریکہ کا ایران کے تعلق سے اب تک کا رویہ ہی ہے۔لیکن فی الحال ٹرمپ اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کی حمایت کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے ۔جہاں تک یوروپ کا تعلق ہے تو جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ بیشتر یوروپی ممالک غزہ میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں سے ناراض ہیں اور یہ ناراضگی اب اس مقام پر پہنچتی نظر آرہی ہے کہ جس کے نتیجے میں اسرائیل عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں