شہر خاص پارکنگ زون میں تبدیل

سرینگر کے پرانے شہر کی گلیاں اور سڑکیں جو کبھی تہذیب، روایت اور روزمرہ زندگی کی روانی کی علامت ہوا کرتی تھیں، آج ایک گمبھیر مسئلے سے دوچار ہیں ۔سڑک کنارے غیرقانونی اور بے ہنگم پارکنگ۔ خاص طور پر نوہٹہ، گوجوارہ، نالہ مار روڈ اور زینہ کدل کا علاقہ اس بدنظمی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں سڑکیں اب گاڑیوں کی مستقل پارکنگ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ زینہ کدل پُل، جو ایک اہم گزرگاہ ہے، دن کے اوقات میں تو پارکنگ زون کی شکل اختیار کر ہی چکا تھا، لیکن اب رات کو بھی وہاں گاڑیاں قطار میں کھڑی رہتی ہیں، گویا یہ علاقہ عوامی راستہ نہیں بلکہ کوئی نجی گیراج ہو۔
یہ صورت حال نہ صرف ٹریفک کی روانی میں شدید رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ شہری زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔ ایمبولینسوں کو مریض لے جانے میں دیر ہو رہی ہے، اسکول جانے والے بچے وقت پر نہیں پہنچ پاتے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مقامی باشندے روزمرہ کی نقل و حرکت کے لئے بھی کوفت کا شکار ہیں۔ اکثر مقامات پر لوگ اپنی سہولت کے لئے سڑک کے کنارے گاڑیاں چھوڑ دیتے ہیں، دوکاندار اپنی دوکانوں کے آگے گاڑی کھڑی کر کے جگہ گھیر لیتے ہیں، اور بعض افراد نے تو سڑک کو کرایے پر دے کر ذاتی مفاد کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی اور صرف رسمی کارروائیوں نے اس بدنظمی کو مزید ہوا دی ہے۔ قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ سڑکیں کس کی ملکیت ہیں؟ کیا صرف چند خودغرض افراد کے لئے؟ یا یہ سب کی اجتماعی سہولت کے لئے بنائی گئی تھیں؟
مسئلہ صرف پارکنگ کا نہیں، یہ اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کی کمی کا عکاس ہے۔ سڑکیں، جن کا مقصد آمد و رفت کی سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، اگر پارکنگ کے مستقل اڈے بن جائیں تو شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں صرف تنقید یا وقتی کارروائی کافی نہیں۔ مستقل اور سنجیدہ منصوبہ بندی کے بغیر اس بدنظمی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل ہو، شہریوں کو شعور دیا جائے، اور عوامی جگہوں کو ذاتی مفاد سے محفوظ رکھا جائے۔
سرینگر جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر کے لئے یہ صورت حال کسی سانحے سے کم نہیں۔ اگر سڑکیں یوں ہی بند ہوتی رہیں، اگر پل اور گزرگاہیں پارکنگ میں بدلتی رہیں، تو نہ صرف شہر کی شناخت کو نقصان پہنچے گا بلکہ شہری زندگی کی بنیادی روانی بھی ختم ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں، شعور پیدا کریں اور اس بدنظمی کو ختم کرنے کے لئے سخت مگر مثبت قدم اٹھائیں کیونکہ سڑکیں پارکنگ کے لئے نہیں، سفر کے لئے ہوتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

شہر خاص پارکنگ زون میں تبدیل

سرینگر کے پرانے شہر کی گلیاں اور سڑکیں جو کبھی تہذیب، روایت اور روزمرہ زندگی کی روانی کی علامت ہوا کرتی تھیں، آج ایک گمبھیر مسئلے سے دوچار ہیں ۔سڑک کنارے غیرقانونی اور بے ہنگم پارکنگ۔ خاص طور پر نوہٹہ، گوجوارہ، نالہ مار روڈ اور زینہ کدل کا علاقہ اس بدنظمی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں سڑکیں اب گاڑیوں کی مستقل پارکنگ میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ زینہ کدل پُل، جو ایک اہم گزرگاہ ہے، دن کے اوقات میں تو پارکنگ زون کی شکل اختیار کر ہی چکا تھا، لیکن اب رات کو بھی وہاں گاڑیاں قطار میں کھڑی رہتی ہیں، گویا یہ علاقہ عوامی راستہ نہیں بلکہ کوئی نجی گیراج ہو۔
یہ صورت حال نہ صرف ٹریفک کی روانی میں شدید رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ شہری زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔ ایمبولینسوں کو مریض لے جانے میں دیر ہو رہی ہے، اسکول جانے والے بچے وقت پر نہیں پہنچ پاتے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مقامی باشندے روزمرہ کی نقل و حرکت کے لئے بھی کوفت کا شکار ہیں۔ اکثر مقامات پر لوگ اپنی سہولت کے لئے سڑک کے کنارے گاڑیاں چھوڑ دیتے ہیں، دوکاندار اپنی دوکانوں کے آگے گاڑی کھڑی کر کے جگہ گھیر لیتے ہیں، اور بعض افراد نے تو سڑک کو کرایے پر دے کر ذاتی مفاد کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی اور صرف رسمی کارروائیوں نے اس بدنظمی کو مزید ہوا دی ہے۔ قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ سڑکیں کس کی ملکیت ہیں؟ کیا صرف چند خودغرض افراد کے لئے؟ یا یہ سب کی اجتماعی سہولت کے لئے بنائی گئی تھیں؟
مسئلہ صرف پارکنگ کا نہیں، یہ اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کی کمی کا عکاس ہے۔ سڑکیں، جن کا مقصد آمد و رفت کی سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، اگر پارکنگ کے مستقل اڈے بن جائیں تو شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں صرف تنقید یا وقتی کارروائی کافی نہیں۔ مستقل اور سنجیدہ منصوبہ بندی کے بغیر اس بدنظمی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل ہو، شہریوں کو شعور دیا جائے، اور عوامی جگہوں کو ذاتی مفاد سے محفوظ رکھا جائے۔
سرینگر جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر کے لئے یہ صورت حال کسی سانحے سے کم نہیں۔ اگر سڑکیں یوں ہی بند ہوتی رہیں، اگر پل اور گزرگاہیں پارکنگ میں بدلتی رہیں، تو نہ صرف شہر کی شناخت کو نقصان پہنچے گا بلکہ شہری زندگی کی بنیادی روانی بھی ختم ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں، شعور پیدا کریں اور اس بدنظمی کو ختم کرنے کے لئے سخت مگر مثبت قدم اٹھائیں کیونکہ سڑکیں پارکنگ کے لئے نہیں، سفر کے لئے ہوتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں