موجودہ دور کے مختلف فرقے

 

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں، مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لئے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا۔ اب ان مختلف گروہوں کے نظریات میں مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی۔ یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق دین حق سے تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے، البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔
آج کے موجودہ دور میں اگر ہم اپنا محاسبہ کر لیں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت، گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کے کسی ایک موضوع کو اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔
مثال کے طور پر، ایک گروہ قرآن میں سے چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر اور تقریر کا موضوع بناتا ہے جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہی حصہ اپنے لئے منتخب کر لیا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ ’’کہیے کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں‘‘ (قُلْ إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مّثْلُكُمْ، الکہف: 110) اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو اس کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور ’’أَلَا إنَّ أَوْليَاءَ اللَّه لَا خَوْفٌ عَلَيْهمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ‘‘ (یونس: 62) ہی ہوتا ہے۔
قصہ مختصر، ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور دیا جاتا ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آج کے اس موجودہ دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لئے ہر صاحب علم کو اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنی چاہیے، تاکہ عوام الناس پر یہ شعر صادق آ سکے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
پھر نہ کوئی بندہ رہا، نہ بندہ نواز
بیان القرآن سے ماخوذ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

موجودہ دور کے مختلف فرقے

 

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں، مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لئے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا۔ اب ان مختلف گروہوں کے نظریات میں مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی۔ یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق دین حق سے تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے، البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔
آج کے موجودہ دور میں اگر ہم اپنا محاسبہ کر لیں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت، گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کے کسی ایک موضوع کو اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔
مثال کے طور پر، ایک گروہ قرآن میں سے چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر اور تقریر کا موضوع بناتا ہے جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہی حصہ اپنے لئے منتخب کر لیا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ ’’کہیے کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں‘‘ (قُلْ إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مّثْلُكُمْ، الکہف: 110) اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو اس کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور ’’أَلَا إنَّ أَوْليَاءَ اللَّه لَا خَوْفٌ عَلَيْهمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ‘‘ (یونس: 62) ہی ہوتا ہے۔
قصہ مختصر، ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور دیا جاتا ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آج کے اس موجودہ دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لئے ہر صاحب علم کو اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنی چاہیے، تاکہ عوام الناس پر یہ شعر صادق آ سکے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
پھر نہ کوئی بندہ رہا، نہ بندہ نواز
بیان القرآن سے ماخوذ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں