زندگی سے امید نکال دی جائے تو یہ ناکارہ ہو جاتی ہے

قیصر محمود عراقی
جو الفاظ منہ سے نکلتے ہیں ہمیں ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ یہی الفاظ ہی ہمارے لئے حقیقت بن جاتے ہیں۔ یہ سچائی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ کامیابی ہو یا ناکامی، یہ اچانک ہمارے حصے میں نہیں لکھ دی جاتی بلکہ یہ دونوں اپنے آنے کی اطلاع یا خبر دیتی ہیں۔کامیابی اور ناکامی کی اپنی اپنی علامتیں اور آثار ہوتے ہیں۔ کامیاب ہونے والوں کی چند خوبیاں ہوتی ہیں جو انہیں ناکام ہونے والوں سے مختلف بناتی ہیں۔ یہ خوبیاں انہیں اس قابل بناتی ہیں کہ وہ زندگی میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ کر سکیں، لوگوں سے اچھے تعلقات رکھ سکیں، جذباتی زندگی میں ایک توازن رکھیں، خوش رہیں اور اپنے اہداف حاصل کریں۔
ہم جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر اس کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے ہو تو اسے حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ ہمیں بہتر بننا ہے یا اپنی اصلاح کرنی ہے تو یہ ایک غیر واضح معاملہ ہے۔ ہمارے سامنے متوازن اور کامیاب شخصیت کا واضح خاکہ ہونا چاہیے۔ڈاکٹر میکسویل مالٹز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب سائیکو سائبرنیٹکس (Psycho-Cybernetics) میں کامیاب شخصیت کے لئے سات خوبیوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ یہ سات خوبیاں ہمارے لئے بھی رہنما بن سکتی ہیں۔
کامیاب شخصیت کے لئے پہلی شرط اہداف کا تعین ہے۔ ہماری زندگی امید، خوابوں اور منصوبوں سے ہی آگے بڑھتی ہے۔ یہ اہداف ایسے ہونے چاہئیں جو ہمارے وقت اور محنت کا صحیح بدل ہوں، جو ایک باوقار زندگی کے شایانِ شان ہوں۔ زندگی کا مزہ اسی میں ہے کہ ہمارے پاس واضح اہداف ہوں اور پھر ہم انہیں حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں۔ ہماری ساری صلاحیتیں اسی وقت سامنے آتی ہیں جب ہمارے پاس اعلیٰ مقاصد یا اہداف ہوتے ہیں۔
یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ جلد ہی زندگی سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اب ان کے پاس کرنے کے لئے کچھ خاص نہیں ہوتا۔ اسی سے اہداف کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جن کے پاس کرنے کے لئے ہمیشہ کچھ ہوتا ہے وہ پرُامید رہتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور آگے دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر زندگی سے امید نکال دی جائے تو وہ ناکارہ ہو جاتی ہے اور مایوسی اور موت کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
کامیاب شخصیت کی دوسری خوبی کسی معاملے کو جانچنے کے بارے میں ہے، کسی دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کے متعلق ہے۔ اس خوبی کی انسانی تعلقات میں بڑی اہمیت ہے۔ بسا اوقات ہمیں دوسروں کے رویے برے لگتے ہیں، ہم ان کی نظر سے صورتحال یا معاملے کو نہیں دیکھتے۔ ہم یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بغض یا عناد کی وجہ سے یہ رویہ اپنا رہے ہیں اور ہمیں ستانے اور آزار پہنچانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔اسی طرح اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنا بھی معاملات کو الجھا دیتا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی غلطی نظر ہی نہیں آتی، انہیں اپنی غلطی، اپنی کوتاہی تسلیم کرنا اچھا نہیں لگتا، جبکہ کامیاب لوگوں میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی، اپنا قصور تسلیم کر لیتے ہیں، پھر اصلاح کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔
کامیاب ہونے کے لئے محض اہداف طے کر لینا کافی نہیں بلکہ ہم میں جرات اور حوصلہ بھی ہونا چاہیے، کیونکہ عمل کے ذریعے ہی خوابوں اور منصوبوں کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔ رکاوٹیں اور مسائل ہمیں خوفزدہ کر دیتے ہیں، اگر ان کا مقابلہ شروع کر دیا جائے تو یہ پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔ کامیاب اور ناکام لوگوں میں صلاحیتوں کا فرق نہیں ہوتا بلکہ حوصلے اور جرات کا فرق ہوتا ہے۔ حوصلہ اور جرات کا مطلب محض میدانِ جنگ میں ہیرو جیسے کارنامے دکھانا نہیں بلکہ عام زندگی کو بااثر بنانے کے لئے بھی حوصلہ اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ صورتحال کا تجزیہ کریں اور جس بات پر اطمینان ہو جائے اس راستے کا انتخاب کر لیا جائے۔ ویسے آپ کوئی بھی راستہ اختیار کریں گے، آپ غلطیاں بھی کریں گے، آپ کا واسطہ ناکامیوں سے بھی پڑے گا، کیونکہ کسی بھی منزل کے بارے میں مکمل یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ چھوٹی بڑی کامیابیاں اس طرح رسک لینے سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے بہادر لوگ اپنی ساری زندگی شک اور بے یقینی میں گزار دیتے ہیں، جس وجہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل سے شکست کھا جاتے ہیں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ اکثر دوسروں کا احترام کرتے ہیں، وہ دوسروں کو اپنی طرح انسان ہی سمجھتے ہیں، انہیں محض اپنے فائدے کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کی ضروریات اور مسائل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ کامیاب لوگ ہر انسان کو خدا کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے عزت کا حقدار سمجھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اکثر رک کر سوچتے ہیں کہ دوسروں کے احساسات کیا ہیں، ان کے نقطہ نظر کیا ہیں، ان کی ضرورت اور خواہش کیا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری حیثیت اپنی نظروں میں اسی وقت بڑھتی ہے جب ہم دوسروں کی قدر کرتے ہیں اور انہیں انسان ہونے کی حیثیت سے قابلِ احترام سمجھتے ہیں۔
حقیقی کامیابی یا خوشی کے لئے خود اپنی ذات کو قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ خود کو قبولنے کا مطلب اپنی تمام خوبیوں اور مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنا ہے اور اسی طرح اپنی خامیاں، کمزوریاں اور غلطیاں تسلیم کرنا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ذات سے اس لئے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں کوئی بھی شخص کامل نہیں ہوتا، سب میں عیب اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ کامیاب شخص خود سے کہتا ہے کہ میری قدر و قیمت اور میرے پاس جو کچھ ہے میں نے اسی سے کام لینا ہے۔ان لوگوں کو یقین کم ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں۔ کامیاب لوگ خود کو بڑا سمجھتے ہیں اور پھر اسے ثابت کرتے ہیں۔ وہ مغرور نہیں ہوتے بلکہ وہ یقین، بھروسے اور اعتماد سے کام لیتے ہیں اور خدا کی دی گئی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں پوری توانائی صرف کرتے ہیں۔ کامیاب لوگ خود کو قبول کرتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔
کامیاب شخصیت کے اس تصور سے یہ بات واضح ہے کہ اگر کوئی اپنے اندر یہ کامل یقین پیدا کر لے کہ اسے خدا نے بہترین مخلوق کا شرف بخشا ہے اور اس نے خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے استعمال کرتا ہے، تو اس کے ہاتھ قوت اور طاقت کا نیا منبع ضرور آ جاتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

زندگی سے امید نکال دی جائے تو یہ ناکارہ ہو جاتی ہے

قیصر محمود عراقی
جو الفاظ منہ سے نکلتے ہیں ہمیں ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ یہی الفاظ ہی ہمارے لئے حقیقت بن جاتے ہیں۔ یہ سچائی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ کامیابی ہو یا ناکامی، یہ اچانک ہمارے حصے میں نہیں لکھ دی جاتی بلکہ یہ دونوں اپنے آنے کی اطلاع یا خبر دیتی ہیں۔کامیابی اور ناکامی کی اپنی اپنی علامتیں اور آثار ہوتے ہیں۔ کامیاب ہونے والوں کی چند خوبیاں ہوتی ہیں جو انہیں ناکام ہونے والوں سے مختلف بناتی ہیں۔ یہ خوبیاں انہیں اس قابل بناتی ہیں کہ وہ زندگی میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ کر سکیں، لوگوں سے اچھے تعلقات رکھ سکیں، جذباتی زندگی میں ایک توازن رکھیں، خوش رہیں اور اپنے اہداف حاصل کریں۔
ہم جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر اس کی ایک واضح تصویر ہمارے سامنے ہو تو اسے حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ ہمیں بہتر بننا ہے یا اپنی اصلاح کرنی ہے تو یہ ایک غیر واضح معاملہ ہے۔ ہمارے سامنے متوازن اور کامیاب شخصیت کا واضح خاکہ ہونا چاہیے۔ڈاکٹر میکسویل مالٹز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب سائیکو سائبرنیٹکس (Psycho-Cybernetics) میں کامیاب شخصیت کے لئے سات خوبیوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ یہ سات خوبیاں ہمارے لئے بھی رہنما بن سکتی ہیں۔
کامیاب شخصیت کے لئے پہلی شرط اہداف کا تعین ہے۔ ہماری زندگی امید، خوابوں اور منصوبوں سے ہی آگے بڑھتی ہے۔ یہ اہداف ایسے ہونے چاہئیں جو ہمارے وقت اور محنت کا صحیح بدل ہوں، جو ایک باوقار زندگی کے شایانِ شان ہوں۔ زندگی کا مزہ اسی میں ہے کہ ہمارے پاس واضح اہداف ہوں اور پھر ہم انہیں حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں۔ ہماری ساری صلاحیتیں اسی وقت سامنے آتی ہیں جب ہمارے پاس اعلیٰ مقاصد یا اہداف ہوتے ہیں۔
یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ جلد ہی زندگی سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اب ان کے پاس کرنے کے لئے کچھ خاص نہیں ہوتا۔ اسی سے اہداف کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جن کے پاس کرنے کے لئے ہمیشہ کچھ ہوتا ہے وہ پرُامید رہتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں اور آگے دیکھتے رہتے ہیں۔ اگر زندگی سے امید نکال دی جائے تو وہ ناکارہ ہو جاتی ہے اور مایوسی اور موت کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
کامیاب شخصیت کی دوسری خوبی کسی معاملے کو جانچنے کے بارے میں ہے، کسی دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کے متعلق ہے۔ اس خوبی کی انسانی تعلقات میں بڑی اہمیت ہے۔ بسا اوقات ہمیں دوسروں کے رویے برے لگتے ہیں، ہم ان کی نظر سے صورتحال یا معاملے کو نہیں دیکھتے۔ ہم یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بغض یا عناد کی وجہ سے یہ رویہ اپنا رہے ہیں اور ہمیں ستانے اور آزار پہنچانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔اسی طرح اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنا بھی معاملات کو الجھا دیتا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی غلطی نظر ہی نہیں آتی، انہیں اپنی غلطی، اپنی کوتاہی تسلیم کرنا اچھا نہیں لگتا، جبکہ کامیاب لوگوں میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی، اپنا قصور تسلیم کر لیتے ہیں، پھر اصلاح کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔
کامیاب ہونے کے لئے محض اہداف طے کر لینا کافی نہیں بلکہ ہم میں جرات اور حوصلہ بھی ہونا چاہیے، کیونکہ عمل کے ذریعے ہی خوابوں اور منصوبوں کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔ رکاوٹیں اور مسائل ہمیں خوفزدہ کر دیتے ہیں، اگر ان کا مقابلہ شروع کر دیا جائے تو یہ پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔ کامیاب اور ناکام لوگوں میں صلاحیتوں کا فرق نہیں ہوتا بلکہ حوصلے اور جرات کا فرق ہوتا ہے۔ حوصلہ اور جرات کا مطلب محض میدانِ جنگ میں ہیرو جیسے کارنامے دکھانا نہیں بلکہ عام زندگی کو بااثر بنانے کے لئے بھی حوصلہ اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ صورتحال کا تجزیہ کریں اور جس بات پر اطمینان ہو جائے اس راستے کا انتخاب کر لیا جائے۔ ویسے آپ کوئی بھی راستہ اختیار کریں گے، آپ غلطیاں بھی کریں گے، آپ کا واسطہ ناکامیوں سے بھی پڑے گا، کیونکہ کسی بھی منزل کے بارے میں مکمل یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ چھوٹی بڑی کامیابیاں اس طرح رسک لینے سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے بہادر لوگ اپنی ساری زندگی شک اور بے یقینی میں گزار دیتے ہیں، جس وجہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل سے شکست کھا جاتے ہیں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ اکثر دوسروں کا احترام کرتے ہیں، وہ دوسروں کو اپنی طرح انسان ہی سمجھتے ہیں، انہیں محض اپنے فائدے کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کی ضروریات اور مسائل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ کامیاب لوگ ہر انسان کو خدا کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے عزت کا حقدار سمجھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اکثر رک کر سوچتے ہیں کہ دوسروں کے احساسات کیا ہیں، ان کے نقطہ نظر کیا ہیں، ان کی ضرورت اور خواہش کیا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری حیثیت اپنی نظروں میں اسی وقت بڑھتی ہے جب ہم دوسروں کی قدر کرتے ہیں اور انہیں انسان ہونے کی حیثیت سے قابلِ احترام سمجھتے ہیں۔
حقیقی کامیابی یا خوشی کے لئے خود اپنی ذات کو قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ خود کو قبولنے کا مطلب اپنی تمام خوبیوں اور مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنا ہے اور اسی طرح اپنی خامیاں، کمزوریاں اور غلطیاں تسلیم کرنا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ذات سے اس لئے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں کوئی بھی شخص کامل نہیں ہوتا، سب میں عیب اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ کامیاب شخص خود سے کہتا ہے کہ میری قدر و قیمت اور میرے پاس جو کچھ ہے میں نے اسی سے کام لینا ہے۔ان لوگوں کو یقین کم ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں۔ کامیاب لوگ خود کو بڑا سمجھتے ہیں اور پھر اسے ثابت کرتے ہیں۔ وہ مغرور نہیں ہوتے بلکہ وہ یقین، بھروسے اور اعتماد سے کام لیتے ہیں اور خدا کی دی گئی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں پوری توانائی صرف کرتے ہیں۔ کامیاب لوگ خود کو قبول کرتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔
کامیاب شخصیت کے اس تصور سے یہ بات واضح ہے کہ اگر کوئی اپنے اندر یہ کامل یقین پیدا کر لے کہ اسے خدا نے بہترین مخلوق کا شرف بخشا ہے اور اس نے خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے استعمال کرتا ہے، تو اس کے ہاتھ قوت اور طاقت کا نیا منبع ضرور آ جاتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں