جنگ نیوز
نئی دہلی/ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ طاقت کا اصل مقصد دوسروں پر غلبہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو بااختیار بنانا اور ان کے لئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اختراع اور عالمی تعاون کو جامع ترقی کے اہم ذرائع قرار دیا۔
نئی دہلی میں بلومبرگ نیواکنامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی، معلومات، علم اور اختراع طاقت کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے فوائد معاشرے کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔
وزیر اعظم نے سستے موبائل ڈیٹا، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرکاری امداد کی براہ راست منتقلی کو عوام کو بااختیار بنانے کی مثالیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ نئے کاروباری ادارے قائم ہو چکے ہیں اور گزشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ افراد غربت سے باہر آئے ہیں۔
مودی نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 2014 کے تقریباً 75 گیگاواٹ سے بڑھ کر تقریباً 300 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے شمسی توانائی سے متعلق سرکاری منصوبوں کو ماحولیات کے تحفظ اور عوامی فائدے کے لئے اہم قرار دیا۔
عالمی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگوں، تجارتی رکاوٹوں اور رسدی سلسلوں میں خلل کے باعث دنیا کو اعتماد اور مستحکم شراکت داری کی ضرورت ہے۔ بھارت اپنی ترقی کو دوسروں کے نقصان کے بجائے عالمی تعاون اور مشترکہ خوش حالی سے جوڑتا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت میں معاشی اصلاحات جاری ہیں۔ ان کے مطابق، رواں مالی سال کی اپریل تا جون سہ ماہی میں ملک کی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
مودی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، صحت، پانی کے انتظام اور نئی ٹیکنالوجی جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے باہمی تعاون، مکالمے اور ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔


