جنگ نیوز
سابق بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جج ناوی پلّے کو بین الاقوامی قانون اور امن کے فروغ کے لئے کوششوں کے اعتراف میں 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا ہے۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ یہ اعزاز ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب بین الاقوامی قانون اور اس کے ادارے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق طاقت کی سیاست کے مقابلے میں قانونی نظام اور انصاف کا تحفظ عالمی استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کے لئے ضروری ہے۔
85 سالہ جنوبی افریقی ناوی پلّے کئی بین الاقوامی عدالتوں میں جج رہ چکی ہیں، جن میں ICC اور روانڈا کے لئے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل شامل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہیں، جس نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ICC کے خلاف پابندیوں میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ امریکی حکومت نے عدالت کے بعض ججوں اور پراسیکیوٹرز کے بعد خود عدالت پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس اعزاز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوبل کمیٹی نے اپنا اخلاقی معیار کھو دیا ہے۔


