جنگ نیوز
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں اپنے خطابِ جمعہ کے دوران موت کی حقیقت، آخرت میں جوابدہی اور اس ضرورت پر زور دیا کہ انسان اپنی زندگی، اپنے طرزِ عمل اور دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔
میرواعظ نے کہا کہ موت کی یاد انسان کو خوف یا مایوسی میں مبتلا کرنے کے بجائے اس کے اندر عاجزی، اصلاحِ نفس اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے رویّوں کا محاسبہ کریں، اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو اس کی تلافی کریں، اہلِ خانہ اور دیگر لوگوں کے حقوق ادا کریں اور دلوں کو نفرت، حسد، کدورت اور غیر ضروری تنازعات سے پاک رکھیں۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور کمزور ہوتے سماجی رشتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ موجودہ وقت میں دنیاوی مصروفیات اور مفادات میں انسان اس قدر الجھ کررہ گیا ہے کہ رشتے، ہمدردی اور دوسروں کی فکر پسِ پشت چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مال، منصب اور حیثیت عارضی ہیں، جبکہ انسان کا کردار، اس کا طرزِ عمل اور دوسروں کے ساتھ اس کا برتاؤ دیرپا اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خاندانی اختلافات کو سلجھائیں، والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور جن لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے ہوں، ان سے معافی مانگنے اور ان کے حقوق کی تلافی کرنے میں پہل کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب افراد خود احتسابی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور یہ سمجھیں کہ ہر عمل کے ساتھ ذمہ داری اور جوابدہی وابستہ ہے، تو معاشرہ زیادہ صحت مند، پُرامن اور ہمدرد بن سکتا ہے۔


