جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ جموں و کشمیر کے نایاب ہانگل کی تعداد 2025 کی مردم شماری میں بڑھ کر 323 ہو گئی ہے، جو 2023 میں 289 اور 2008 میں 127 تھی۔ تاہم ماہرین کے مطابق ہانگل کے طویل مدتی تحفظ کے لئے صرف تعداد میں اضافہ کافی نہیں بلکہ اس کے مسکن اور نقل و حرکت کی گزرگاہوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
دسمبر 2025 میں جموں و کشمیر وائلڈ لائف بورڈ کے چھٹے اجلاس میں تازہ تعداد پیش کی گئی، جبکہ ترال میں ہانگل بریڈنگ سینٹر کو فعال بنانے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا کے ہانگل ریکوری پروجیکٹ نے کپواڑہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ اور اننت ناگ کے بعض علاقوں میں ہانگل کی موجودگی اور ڈاچھی گام نیشنل پارک سے جڑی نقل و حرکت کی گزرگاہوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں بعض گزرگاہیں منقطع ہیں اور ہانگل موسم سرما میں محفوظ علاقوں سے باہر بھی منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث انسانی سرگرمیوں اور مختلف اراضی مالکان کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے ترال ہانگل بریڈنگ سینٹر کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر نگرانی اور وائلڈ لائف واچرز کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ہانگل کی تعداد میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، تاہم مسکنوں کا باہمی ربط، نقل و حرکت کی گزرگاہوں کا تحفظ اور انسانی دباؤ کا مؤثر انتظام اس کی بقا کے لئے اہم ہیں۔


