آپریشن درشٹی کے تحت وادی میں 364 افراد کی بینائی بحال کی گئی

جنگ  نیوز
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج ’آپریشن درشٹی‘کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھ سرجری کیمپ کی اِختتامی تقریب میں شرکت کی جو یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوج کی صحت کی رسائی کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا شکریہ اَدا کیا اور ہندوستانی فوج کی لگن کو سراہا۔ اُنہوں نے بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا اور ان کی ٹیم کی بے لوث خدمات کی بھی سراہنا کی۔
اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ آپریشن درِشٹی خدمت، ہمدردی، بہادری اور عزم کی زندہ مثال ہے۔ اُنہوں نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ سری نگر کیمپ میں 144 سرجریاں کامیابی سے کی گئیںجبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈار کیمپ نے سرحد پر پہلے میگا آنکھ سرجری کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔ مشکل ترین علاقے اور مسلسل خطرات کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیرِ زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف دو دنوں میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
اُنہوں نے کہا ،’’جو لوگ ٹنگڈار کے جغرافیائی حالات جانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں اِمداد لے کر پہنچنا خود ایک چیلنج ہے۔ اِس کے لئے پہاڑوں کو عبور کرنا، مشکل راستوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرات کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اِس کے باوجود ایسے مشکل اور غیر یقینی ماحول میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں اُمید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جدید جراحی کے آلات ٹنگڈھار کے لئے ہوائی جہازوں سے پہنچائے گئے جس سے اس علاقے میں جدید آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے ایسی سہولیات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خاور پورہ، ٹنگڈھار، باغ بیلا اور آس پاس کے دیہات کے مریضوںنے اس کیمپ سے اِستفادہ کیا۔
اُنہوں نے کہا،’’یہ حقیقی بہادری فرض کے لئے لگن اور خدمت کااصل مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کوئی بھی مشکل، چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اِنڈین آرمی کی جانب سے اِنسانی خدمت کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
منوج سِنہانے اس بات پر زور دیا کہ سری نگر اور ٹنگڈھار میں کی گئی 364 سرجریاں محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ لوگوں کی بدلتی ہوئی زندگیوں کی عکاس ہے ل۔ اُنہوں نے کہا کہ اِنڈین آرمی کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر سرجری عزتِ نفس بحال کرنے اور اُمید کے احیأ کی ایک داستان بن گئی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر’ آپریشن درشٹی ‘کے تحت 10 شہروں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کے آنکھوں کے معائینہ کیا گیا اور 3,500 سے زیادہ سرجریاں کی گئیں۔
اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ آپریشن درشٹی نے فوج اور مقامی کمیونٹیوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اوریہ ثابت کیا ہے کہ اِنڈین آرمی نہ صرف دفاعی قوت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ اُنہوں نے معاون عملے ، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی ہمت کو سلام پیش کیا جنہوں نے سامان کی ترسیل، زیرِ زمین تھیٹرز کی تیاری اور مشکل حالات میں پیچیدہ سرجریاں یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اِنڈین آرمی صرف وہ قوت نہیں جو ملک کو بیرونی خطرات سے بچاتی ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لئے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ فوج نے بینائی بحال کر کے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا ویژن دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اس سفر کا اختتام نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ اُنہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آپریشن درِشٹی ملک بھر کے مزید دیہاتوںاور قصبوں تک پہنچے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنگڈھار کیمپ پورے ہندوستان کے دُور دراز علاقوں کے لئے ایک متاثر کن مثال ہے۔
اُنہوں نے کہا ،’’آپریشن درِشٹی کا تجربہ ہمیں یہ اعتماد دیتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طبی سہولیات ملک کے ہر کونے تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ یہ ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس، سب کا وِشواس‘کا عزم ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران گرانقدر خدمات اِنجام دینے پر دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سراہا۔ اُنہوں نے مستحقین کو آپریشن کے بعد درکار طبی کِٹس بھی فراہم کیں۔
اِختتامی تقریب میں چنار کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ( جی او سی )لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، آرمی ہسپتال آر اینڈ آر کے شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ اور سینئر کنسلٹنٹ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا،92بیس ہسپتال کے کمانڈنٹ  بریگیڈیئر بی وی راؤ اور دفاعی افواج کے سینئر اِفسران نے شرکت کی۔
اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ ، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندِیپ چکرورتی،ضلع ترقیاتی کمشنر سر ی نگر اکشے لابرو بھی موجود تھے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

آپریشن درشٹی کے تحت وادی میں 364 افراد کی بینائی بحال کی گئی

جنگ  نیوز
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج ’آپریشن درشٹی‘کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھ سرجری کیمپ کی اِختتامی تقریب میں شرکت کی جو یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوج کی صحت کی رسائی کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا شکریہ اَدا کیا اور ہندوستانی فوج کی لگن کو سراہا۔ اُنہوں نے بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا اور ان کی ٹیم کی بے لوث خدمات کی بھی سراہنا کی۔
اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ آپریشن درِشٹی خدمت، ہمدردی، بہادری اور عزم کی زندہ مثال ہے۔ اُنہوں نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ سری نگر کیمپ میں 144 سرجریاں کامیابی سے کی گئیںجبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈار کیمپ نے سرحد پر پہلے میگا آنکھ سرجری کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا۔ مشکل ترین علاقے اور مسلسل خطرات کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیرِ زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف دو دنوں میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
اُنہوں نے کہا ،’’جو لوگ ٹنگڈار کے جغرافیائی حالات جانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں اِمداد لے کر پہنچنا خود ایک چیلنج ہے۔ اِس کے لئے پہاڑوں کو عبور کرنا، مشکل راستوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرات کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اِس کے باوجود ایسے مشکل اور غیر یقینی ماحول میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں اُمید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جدید جراحی کے آلات ٹنگڈھار کے لئے ہوائی جہازوں سے پہنچائے گئے جس سے اس علاقے میں جدید آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے ایسی سہولیات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خاور پورہ، ٹنگڈھار، باغ بیلا اور آس پاس کے دیہات کے مریضوںنے اس کیمپ سے اِستفادہ کیا۔
اُنہوں نے کہا،’’یہ حقیقی بہادری فرض کے لئے لگن اور خدمت کااصل مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کوئی بھی مشکل، چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اِنڈین آرمی کی جانب سے اِنسانی خدمت کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
منوج سِنہانے اس بات پر زور دیا کہ سری نگر اور ٹنگڈھار میں کی گئی 364 سرجریاں محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ لوگوں کی بدلتی ہوئی زندگیوں کی عکاس ہے ل۔ اُنہوں نے کہا کہ اِنڈین آرمی کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر سرجری عزتِ نفس بحال کرنے اور اُمید کے احیأ کی ایک داستان بن گئی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر’ آپریشن درشٹی ‘کے تحت 10 شہروں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کے آنکھوں کے معائینہ کیا گیا اور 3,500 سے زیادہ سرجریاں کی گئیں۔
اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ آپریشن درشٹی نے فوج اور مقامی کمیونٹیوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اوریہ ثابت کیا ہے کہ اِنڈین آرمی نہ صرف دفاعی قوت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ اُنہوں نے معاون عملے ، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی ہمت کو سلام پیش کیا جنہوں نے سامان کی ترسیل، زیرِ زمین تھیٹرز کی تیاری اور مشکل حالات میں پیچیدہ سرجریاں یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اِنڈین آرمی صرف وہ قوت نہیں جو ملک کو بیرونی خطرات سے بچاتی ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لئے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ فوج نے بینائی بحال کر کے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا ویژن دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اس سفر کا اختتام نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے۔ اُنہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آپریشن درِشٹی ملک بھر کے مزید دیہاتوںاور قصبوں تک پہنچے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنگڈھار کیمپ پورے ہندوستان کے دُور دراز علاقوں کے لئے ایک متاثر کن مثال ہے۔
اُنہوں نے کہا ،’’آپریشن درِشٹی کا تجربہ ہمیں یہ اعتماد دیتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طبی سہولیات ملک کے ہر کونے تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ یہ ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس، سب کا وِشواس‘کا عزم ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران گرانقدر خدمات اِنجام دینے پر دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سراہا۔ اُنہوں نے مستحقین کو آپریشن کے بعد درکار طبی کِٹس بھی فراہم کیں۔
اِختتامی تقریب میں چنار کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ( جی او سی )لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، آرمی ہسپتال آر اینڈ آر کے شعبہ امراضِ چشم کے سربراہ اور سینئر کنسلٹنٹ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا،92بیس ہسپتال کے کمانڈنٹ  بریگیڈیئر بی وی راؤ اور دفاعی افواج کے سینئر اِفسران نے شرکت کی۔
اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ ، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندِیپ چکرورتی،ضلع ترقیاتی کمشنر سر ی نگر اکشے لابرو بھی موجود تھے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں