جنگ نیوز
سرینگر/وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی روایتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے مقامی صنعت کاروں اور ملکی و غیر ملکی خریداروں کے درمیان مستقل تجارتی شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) میں جموں و کشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (JKTPO) اور ٹریڈ پروموشن کونسل آف انڈیا کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی خریدار و فروخت کنندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے ساتھ کاروباری طریقہ کار آسان بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کاروبار میں آسانی سے متعلق قانون کے تحت غیر ضروری اجازت ناموں، تاخیر اور معائنے کے عمل کو کم کیا گیا ہے، جبکہ مقررہ مدت میں درخواستوں پر کارروائی نہ ہونے کی صورت میں بعض معاملات میں خودکار منظوری کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ معمولی خلاف ورزیوں کو جرم سے مستثنیٰ بنانے کا مقصد تاجروں کو غیر ضروری عدالتی کارروائی سے بچانا ہے۔
انہوں نے کشمیری پشمینہ، شالوں، قالینوں، نمدا، اخروٹ، اون اور پیپر ماشی مصنوعات کی اصل شناخت اور جغرافیائی اشاریہ (GI) تحفظ برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے نام سے فروخت ہونے والی مصنوعات مقامی ہنرمندوں کی تیار کردہ ہونی چاہئیں تاکہ ان کا فائدہ بھی یہیں کے لوگوں کو پہنچے۔
وزیرِ اعلیٰ نے خریداروں پر زور دیا کہ وہ اس اجلاس کو ایک وقتی کاروباری سرگرمی کے بجائے مستقل تجارتی تعلقات قائم کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے دیہی خواتین کے خود امدادی گروپوں کی کاوشوں کو بھی سراہا اور خریداروں کو ان کی مصنوعات میں دلچسپی لینے کی دعوت دی۔
اجلاس میں 12 سے زائد ممالک کے 25 سے زیادہ بین الاقوامی خریداروں، 15 سے زائد ملکی خریداروں اور 80 سے زیادہ نمائش کنندگان نے شرکت کی، جہاں دستکاری، دست بافی اور زرعی و غذائی شعبوں کی 200 سے زائد مصنوعات پیش کی گئیں۔
اس موقع پر نائب وزیرِ اعلیٰ سریندر چودھری، وزیرِ اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیراج گپتا، کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ، وائس چانسلر SKUAST-K نذیر احمد گنائی اور JKTPO کے منیجنگ ڈائریکٹر سدرشن کمار سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
بعد ازاں عمر عبداللہ نے مختلف اسٹالوں کا معائنہ کیا اور مقامی صنعت کاروں سے تبادلہ خیال کیا۔


