قدرتی مناظر سے آگے، اب کشمیر اپنی کہانی خود سنانے کو تیار

 

 

جنگ فیچرڈیسک

وادی کشمیر میں 23 برس کی طویل خاموشی کے بعد سینما ایک بار پھر نئی زندگی کی جانب گامزن ہے۔ سرینگر کے آئی این او ایکس ملٹی پلیکس اور شیرِ کشمیر کنونشن سینٹر میں منعقدہ بین الاقوامی فلمی میلے کے دوران کشمیری فلموں (Tasrufdar) اور (Batt Koch) کی نمائش پر شائقین کا غیر معمولی جوش دیکھنے کو ملا، جبکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کی پانچ فلموں میں سے تین نے پہلے بین الاقوامی فلمی میلے میں اعزازات حاصل کیے۔
یہ منظر محض تفریحی سرگرمیوں کی بحالی نہیں بلکہ کشمیری سینما کی ایک نئی تحریک کا آغاز ہے، جہاں مقامی فنکار اپنی سرزمین کی کہانیاں خود بیان کرنے کے لئے میدان میں اتر رہے ہیں۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تنازعات، کرفیو اور ثقافتی جمود کا سامنا کرنے والے کشمیر میں اب ایک مقامی فلمی صنعت کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ اداکار، ہدایت کار، موسیقار اور فلم ساز اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں، تاہم اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید تکنیکی سہولیات، تربیت اور بعد از تیاری کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔
معروف اداکار میر سرور کے مطابق کشمیر میں فلم سازی کے لئے صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف اجتماعی کوشش اور ایک دوسرے پر اعتماد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی فلم سازوں کو ہر کام کے لئے باہر کا رخ کرنے کے بجائے اپنی صنعت کی بنیاد خود رکھنی ہوگی۔ ان کے بقول، فلم سٹی کی تعمیر کا انتظار کیے بغیر فلمیں بنانا شروع کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں فلم سٹی کا قیام بھی ممکن ہوسکے۔
وادی کا بدلتا ہوا فلمی منظرنامہ
کشمیر دہائیوں تک بالی ووڈ کے لئے ایک دلکش پس منظر کی حیثیت رکھتا رہا۔ (Kashmir Ki Kali)، (Jab Jab Phool Khile)، (Bajrangi Bhaijaan)، (Haider) اور (Raazi) جیسی فلموں نے وادی کے قدرتی حسن کو پردۂ سیمیں پر نمایاں کیا، تاہم کشمیریوں کی اپنی کہانیاں اکثر سیاست اور تنازعات تک محدود رہیں۔
اب مقامی فلم ساز اس تصور کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہجرت، بچھڑنے کا کرب، کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کے باہمی رشتے، محبت، روزمرہ زندگی اور مزاح جیسے موضوعات کو فلموں کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں (Welcome to Kashmir)، (Harmukh) اور دیگر آزاد فلموں نے اس نئی پیش رفت کو تقویت بخشی ہے۔ تاہم محدود نمائش اور اسکرینوں کی کمی کے باعث ان فلموں کی آمدنی کے مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
فلم ساز دانش رینزو کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ اب کوئی بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ مقامی فنکار اور تکنیکی عملہ دستیاب ہے، لیکن فلموں کی تدوین، رنگوں کی درستی، صوتی ترتیب اور دیگر تکنیکی مراحل کے لئے ممبئی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر فلم سازی کی باقاعدہ تعلیم اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے مواقع نہ ہونے کے باعث بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو درست سمت نہیں دے پاتے۔
23 برس بعد سینما گھروں کی رونق بحال
وادی کا آخری فعال سینما گھر 1999 میں بند ہوگیا تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک کشمیری عوام بڑے پردے پر فلم دیکھنے کی سہولت سے محروم رہے۔
ستمبر 2022 میں سرینگر میں آئی این او ایکس ملٹی پلیکس کے افتتاح کے ساتھ 23 برس بعد سینما کی واپسی ہوئی اور فلم (Laal Singh Chaddha) کی نمائش نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
بعد ازاں (Welcome to Kashmir)، (Harmukh)، (Shushur – The Frozen Times) اور (Tasrufdar) جیسی مقامی فلمیں بھی اسی پردے پر دکھائی گئیں۔
اگرچہ یہ فلمیں تجارتی اعتبار سے بڑی کامیابیاں حاصل نہ کرسکیں، تاہم ان کی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ کشمیری سرمایہ، کشمیری فنکاروں اور مقامی کہانیوں پر مبنی فلمیں پہلی مرتبہ اپنی ہی سرزمین پر عوام کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔
فلم ساز کیپٹن راہل بالی نے اس تبدیلی کو ’’نئی صبح‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک بار پھر اس ثقافتی فضا کی طرف لوٹ رہا ہے جہاں فلم سازی اور فنونِ لطیفہ کو فروغ حاصل تھا۔
انہوں نے 2022 میں منعقدہ مختصر فلمی میلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سے 15 ہزار فلمیں موصول ہوئیں، جن میں کسی ایک نے بھی منفی موضوع کو مرکزی حیثیت نہیں دی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کہانی سنانے کا ہنر موجود ہے، جسے صرف رہنمائی اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔
غم و الم سے آگے، زندگی کے رنگ بھی
کشمیر پر بننے والی متعدد فلموں میں گزشتہ دہائی کے دوران تنازعات، نقل مکانی اور انسانی المیوں کو موضوع بنایا گیا۔ تاہم فلمی حلقوں میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ کشمیر کی شناخت کو صرف دکھ، سیاست اور تشدد تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔
فلم ساز کپل مٹو کی (Tasrufdar) ایک کشمیری مسلمان اور اس کے مرحوم والد کے کشمیری پنڈت دوست شمبو ناتھ کے درمیان تعلق کو روحانی اور جذباتی انداز میں پیش کرتی ہے۔
اسی طرح (Batt Koch) میں معروف اداکار ایم کے رائنا نے ایک ایسے عمر رسیدہ کشمیری پنڈت کا کردار ادا کیا ہے جو 35 برس بعد اپنے آبائی گھر لوٹتا ہے۔ فلم ہجرت، یادداشت، شناخت اور بچھڑنے کے کرب کو انتقام کے بجائے انسانی احساسات کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔
ہدایت کاروں امتیاز علی اور سری رام راگھون نے بھی کشمیری سینما میں مزاحیہ فلموں، خاندانی کہانیوں اور روزمرہ زندگی کی عکاسی پر زور دیا۔
حکومتی پالیسی اور مقامی صنعت کی ضرورت
جموں و کشمیر فلم پالیسی، جسے 2021 میں متعارف اور 2024 میں تازہ کیا گیا، نے فلموں کی شوٹنگ کے لئے سبسڈی اور سنگل ونڈو منظوری کا نظام فراہم کیا۔ حکام کے مطابق پالیسی کے بعد پانچ برسوں میں 350 سے زائد فلموں اور ویب سیریز کی شوٹنگ جموں و کشمیر میں ہوئی، جن میں (Dunki)، (Article 370)، (Vedaa) اور (Leo) شامل ہیں۔
تاہم مقامی فلم سازوں کا کہنا ہے کہ بیرونی فلموں کی شوٹنگ سے حاصل ہونے والی سرگرمی کو ایک مستحکم مقامی صنعت میں تبدیل کرنے کے لئے مزید اقدامات درکار ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بین الاقوامی فلمی میلے IFFJK 2026کے افتتاح کے موقع پر مقامی نوجوانوں کو کیمرے اٹھانے اور اپنی کہانیاں خود بیان کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے جدید اسٹوڈیوز، آلات، بعد از تیاری کی سہولیات اور فلمی تعلیم کے ادارے قائم کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
ان کے مطابق حکومت کا مقصد کشمیر کو محض فلموں کی شوٹنگ کے مقام کے بجائے ایک مکمل فلمی صنعت میں تبدیل کرنا ہے، جہاں مقامی فنکاروں، تکنیکی ماہرین اور عملے کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔
کامیابی کی داستانیں اور نئی نسل کے خواب
میر سرور، فریحانہ بھٹ، سعدیہ خطیب ، دانش رینزواور راحت کاظمیجیسے فنکاروں اور فلم سازوں نے اپنی محنت سے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری صلاحیتیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔
میر سرور نے ممبئی میں جدوجہد کے دوران محدود وسائل کے باوجود فلم (Kashmir Daily) تیار کی، جبکہ دانش رینزو نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وادی واپس آکر مقامی فنکاروں کے ساتھ فلم سازی کا آغاز کیا۔
راحت کاظمی کی فلم (Mantostaan) بھی محدود بجٹ میں تیار ہوئی اور بعد ازاں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کے ساتھ نیٹ فلکس تک پہنچی۔
موسیقی کے شعبے میں بھی کشمیری فنکار اپنی شناخت مستحکم کررہے ہیں۔ اشفاق کاوا ، راسق امتیاز خان اور دیگر گلوکاروں نے مقامی زبان میں موسیقی تخلیق کرکے وسیع سامعین تک رسائی حاصل کی ہے۔ دانش رینزو کے مطابق کشمیری موسیقی میں پورے ہندوستان کے سامعین کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
پکچر ابھی باقی ہے
کشمیری سینما کی ترقی کے لئے سب سے اہم ضرورت ایک مخصوص فلمی تعلیمی ادارے، جدید پوسٹ پروڈکشن اسٹوڈیوز، سرکاری مالی معاونت، اسکرین رائٹنگ کی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے نظام کا قیام ہے۔
فی الحال مقامی فلم سازوں کو کیمرے اور صوتی آلات کرائے پر حاصل کرنے سے لے کر فلموں کی آخری تیاری تک کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ بیشتر نوجوانوں کو تربیت کے لئے ممبئی، دہلی یا بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے، جس سے فلم سازی ایک محدود طبقے تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔
میر سرور اور دانش رینزو سمیت کئی فلم سازوں کا ماننا ہے کہ مسلسل تربیت، سرپرستی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے بغیر یہ تحریک ایک مستحکم صنعت کی شکل اختیار نہیں کرسکے گی۔
سرینگر میں منعقدہ پہلے بین الاقوامی فلمی میلے IFFJKنے بلاشبہ کشمیری سینما کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھولے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب مقامی کہانیوں کو مقامی وسائل، تربیت یافتہ فنکاروں اور جدید تکنیکی سہولیات کے ذریعے عالمی سطح تک پہنچانے کا مستقل نظام قائم ہوگا۔
کشمیر کے پاس کہانیاں بھی ہیں، فنکار بھی اور انہیں بیان کرنے کا ہنر بھی؛ اب ضرورت اس مشینری کی ہے جو اس صلاحیت کو ایک مکمل صنعت میں ڈھال سکے۔

بشکریہ : تریا گلاٹی
The PRINT

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

قدرتی مناظر سے آگے، اب کشمیر اپنی کہانی خود سنانے کو تیار

 

 

جنگ فیچرڈیسک

وادی کشمیر میں 23 برس کی طویل خاموشی کے بعد سینما ایک بار پھر نئی زندگی کی جانب گامزن ہے۔ سرینگر کے آئی این او ایکس ملٹی پلیکس اور شیرِ کشمیر کنونشن سینٹر میں منعقدہ بین الاقوامی فلمی میلے کے دوران کشمیری فلموں (Tasrufdar) اور (Batt Koch) کی نمائش پر شائقین کا غیر معمولی جوش دیکھنے کو ملا، جبکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کی پانچ فلموں میں سے تین نے پہلے بین الاقوامی فلمی میلے میں اعزازات حاصل کیے۔
یہ منظر محض تفریحی سرگرمیوں کی بحالی نہیں بلکہ کشمیری سینما کی ایک نئی تحریک کا آغاز ہے، جہاں مقامی فنکار اپنی سرزمین کی کہانیاں خود بیان کرنے کے لئے میدان میں اتر رہے ہیں۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تنازعات، کرفیو اور ثقافتی جمود کا سامنا کرنے والے کشمیر میں اب ایک مقامی فلمی صنعت کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ اداکار، ہدایت کار، موسیقار اور فلم ساز اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں، تاہم اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید تکنیکی سہولیات، تربیت اور بعد از تیاری کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔
معروف اداکار میر سرور کے مطابق کشمیر میں فلم سازی کے لئے صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف اجتماعی کوشش اور ایک دوسرے پر اعتماد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی فلم سازوں کو ہر کام کے لئے باہر کا رخ کرنے کے بجائے اپنی صنعت کی بنیاد خود رکھنی ہوگی۔ ان کے بقول، فلم سٹی کی تعمیر کا انتظار کیے بغیر فلمیں بنانا شروع کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں فلم سٹی کا قیام بھی ممکن ہوسکے۔
وادی کا بدلتا ہوا فلمی منظرنامہ
کشمیر دہائیوں تک بالی ووڈ کے لئے ایک دلکش پس منظر کی حیثیت رکھتا رہا۔ (Kashmir Ki Kali)، (Jab Jab Phool Khile)، (Bajrangi Bhaijaan)، (Haider) اور (Raazi) جیسی فلموں نے وادی کے قدرتی حسن کو پردۂ سیمیں پر نمایاں کیا، تاہم کشمیریوں کی اپنی کہانیاں اکثر سیاست اور تنازعات تک محدود رہیں۔
اب مقامی فلم ساز اس تصور کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہجرت، بچھڑنے کا کرب، کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کے باہمی رشتے، محبت، روزمرہ زندگی اور مزاح جیسے موضوعات کو فلموں کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں (Welcome to Kashmir)، (Harmukh) اور دیگر آزاد فلموں نے اس نئی پیش رفت کو تقویت بخشی ہے۔ تاہم محدود نمائش اور اسکرینوں کی کمی کے باعث ان فلموں کی آمدنی کے مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
فلم ساز دانش رینزو کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ اب کوئی بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ مقامی فنکار اور تکنیکی عملہ دستیاب ہے، لیکن فلموں کی تدوین، رنگوں کی درستی، صوتی ترتیب اور دیگر تکنیکی مراحل کے لئے ممبئی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر فلم سازی کی باقاعدہ تعلیم اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے مواقع نہ ہونے کے باعث بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو درست سمت نہیں دے پاتے۔
23 برس بعد سینما گھروں کی رونق بحال
وادی کا آخری فعال سینما گھر 1999 میں بند ہوگیا تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک کشمیری عوام بڑے پردے پر فلم دیکھنے کی سہولت سے محروم رہے۔
ستمبر 2022 میں سرینگر میں آئی این او ایکس ملٹی پلیکس کے افتتاح کے ساتھ 23 برس بعد سینما کی واپسی ہوئی اور فلم (Laal Singh Chaddha) کی نمائش نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
بعد ازاں (Welcome to Kashmir)، (Harmukh)، (Shushur – The Frozen Times) اور (Tasrufdar) جیسی مقامی فلمیں بھی اسی پردے پر دکھائی گئیں۔
اگرچہ یہ فلمیں تجارتی اعتبار سے بڑی کامیابیاں حاصل نہ کرسکیں، تاہم ان کی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ کشمیری سرمایہ، کشمیری فنکاروں اور مقامی کہانیوں پر مبنی فلمیں پہلی مرتبہ اپنی ہی سرزمین پر عوام کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔
فلم ساز کیپٹن راہل بالی نے اس تبدیلی کو ’’نئی صبح‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک بار پھر اس ثقافتی فضا کی طرف لوٹ رہا ہے جہاں فلم سازی اور فنونِ لطیفہ کو فروغ حاصل تھا۔
انہوں نے 2022 میں منعقدہ مختصر فلمی میلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سے 15 ہزار فلمیں موصول ہوئیں، جن میں کسی ایک نے بھی منفی موضوع کو مرکزی حیثیت نہیں دی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کہانی سنانے کا ہنر موجود ہے، جسے صرف رہنمائی اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔
غم و الم سے آگے، زندگی کے رنگ بھی
کشمیر پر بننے والی متعدد فلموں میں گزشتہ دہائی کے دوران تنازعات، نقل مکانی اور انسانی المیوں کو موضوع بنایا گیا۔ تاہم فلمی حلقوں میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ کشمیر کی شناخت کو صرف دکھ، سیاست اور تشدد تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔
فلم ساز کپل مٹو کی (Tasrufdar) ایک کشمیری مسلمان اور اس کے مرحوم والد کے کشمیری پنڈت دوست شمبو ناتھ کے درمیان تعلق کو روحانی اور جذباتی انداز میں پیش کرتی ہے۔
اسی طرح (Batt Koch) میں معروف اداکار ایم کے رائنا نے ایک ایسے عمر رسیدہ کشمیری پنڈت کا کردار ادا کیا ہے جو 35 برس بعد اپنے آبائی گھر لوٹتا ہے۔ فلم ہجرت، یادداشت، شناخت اور بچھڑنے کے کرب کو انتقام کے بجائے انسانی احساسات کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔
ہدایت کاروں امتیاز علی اور سری رام راگھون نے بھی کشمیری سینما میں مزاحیہ فلموں، خاندانی کہانیوں اور روزمرہ زندگی کی عکاسی پر زور دیا۔
حکومتی پالیسی اور مقامی صنعت کی ضرورت
جموں و کشمیر فلم پالیسی، جسے 2021 میں متعارف اور 2024 میں تازہ کیا گیا، نے فلموں کی شوٹنگ کے لئے سبسڈی اور سنگل ونڈو منظوری کا نظام فراہم کیا۔ حکام کے مطابق پالیسی کے بعد پانچ برسوں میں 350 سے زائد فلموں اور ویب سیریز کی شوٹنگ جموں و کشمیر میں ہوئی، جن میں (Dunki)، (Article 370)، (Vedaa) اور (Leo) شامل ہیں۔
تاہم مقامی فلم سازوں کا کہنا ہے کہ بیرونی فلموں کی شوٹنگ سے حاصل ہونے والی سرگرمی کو ایک مستحکم مقامی صنعت میں تبدیل کرنے کے لئے مزید اقدامات درکار ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بین الاقوامی فلمی میلے IFFJK 2026کے افتتاح کے موقع پر مقامی نوجوانوں کو کیمرے اٹھانے اور اپنی کہانیاں خود بیان کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے جدید اسٹوڈیوز، آلات، بعد از تیاری کی سہولیات اور فلمی تعلیم کے ادارے قائم کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
ان کے مطابق حکومت کا مقصد کشمیر کو محض فلموں کی شوٹنگ کے مقام کے بجائے ایک مکمل فلمی صنعت میں تبدیل کرنا ہے، جہاں مقامی فنکاروں، تکنیکی ماہرین اور عملے کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔
کامیابی کی داستانیں اور نئی نسل کے خواب
میر سرور، فریحانہ بھٹ، سعدیہ خطیب ، دانش رینزواور راحت کاظمیجیسے فنکاروں اور فلم سازوں نے اپنی محنت سے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری صلاحیتیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔
میر سرور نے ممبئی میں جدوجہد کے دوران محدود وسائل کے باوجود فلم (Kashmir Daily) تیار کی، جبکہ دانش رینزو نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وادی واپس آکر مقامی فنکاروں کے ساتھ فلم سازی کا آغاز کیا۔
راحت کاظمی کی فلم (Mantostaan) بھی محدود بجٹ میں تیار ہوئی اور بعد ازاں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کے ساتھ نیٹ فلکس تک پہنچی۔
موسیقی کے شعبے میں بھی کشمیری فنکار اپنی شناخت مستحکم کررہے ہیں۔ اشفاق کاوا ، راسق امتیاز خان اور دیگر گلوکاروں نے مقامی زبان میں موسیقی تخلیق کرکے وسیع سامعین تک رسائی حاصل کی ہے۔ دانش رینزو کے مطابق کشمیری موسیقی میں پورے ہندوستان کے سامعین کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
پکچر ابھی باقی ہے
کشمیری سینما کی ترقی کے لئے سب سے اہم ضرورت ایک مخصوص فلمی تعلیمی ادارے، جدید پوسٹ پروڈکشن اسٹوڈیوز، سرکاری مالی معاونت، اسکرین رائٹنگ کی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے نظام کا قیام ہے۔
فی الحال مقامی فلم سازوں کو کیمرے اور صوتی آلات کرائے پر حاصل کرنے سے لے کر فلموں کی آخری تیاری تک کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ بیشتر نوجوانوں کو تربیت کے لئے ممبئی، دہلی یا بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے، جس سے فلم سازی ایک محدود طبقے تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔
میر سرور اور دانش رینزو سمیت کئی فلم سازوں کا ماننا ہے کہ مسلسل تربیت، سرپرستی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے بغیر یہ تحریک ایک مستحکم صنعت کی شکل اختیار نہیں کرسکے گی۔
سرینگر میں منعقدہ پہلے بین الاقوامی فلمی میلے IFFJKنے بلاشبہ کشمیری سینما کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھولے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب مقامی کہانیوں کو مقامی وسائل، تربیت یافتہ فنکاروں اور جدید تکنیکی سہولیات کے ذریعے عالمی سطح تک پہنچانے کا مستقل نظام قائم ہوگا۔
کشمیر کے پاس کہانیاں بھی ہیں، فنکار بھی اور انہیں بیان کرنے کا ہنر بھی؛ اب ضرورت اس مشینری کی ہے جو اس صلاحیت کو ایک مکمل صنعت میں ڈھال سکے۔

بشکریہ : تریا گلاٹی
The PRINT

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں