’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے ذریعے دو بہنوں کی مقامی مصنوعات، خواتین کے روزگار اور شینا ثقافت کے فروغ کی منفرد کاوش

 

 

جنگ فیچر ڈیسک

سرحدی وادی گُریز کے خوب صورت علاقے کھنڈیال سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں، شبینہ رسول اور یاسمین رسول، نے ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے ذریعے نہ صرف گُریز کی خالص مقامی مصنوعات کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ مقامی خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کسانوں کی پیداوار کو وسیع منڈی سے جوڑنے اور اپنی شینا زبان و ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک منفرد کوشش بھی کی ہے۔
یہ کہانی گزشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوئی، جب شبینہ رسول نے گُریز کی مقامی مصنوعات کو ایک منظم پلیٹ فارم اور منفرد شناخت دینے کے مقصد سے ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اردو میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی شبینہ ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں اور اردو اخبارات کے لئے لکھتی رہی ہیں۔ کاروبار کی کوئی باقاعدہ تعلیم، تربیت یا سابقہ تجربہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے والدین کی حوصلہ افزائی اور تعاون سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔
ایک خیال، جس نے کاروبار کی شکل اختیار کی
گُریز میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ مقامی مصنوعات کی مانگ میں اضافے نے شبینہ کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وادی کا قدرتی جنگلی شہد، چترا راجما، گُریزی کالا زیرہ اور روایتی گھریلو اچار جیسی خالص مصنوعات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں صارفین کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں، تاہم انہیں ایک ایسے منظم پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو ان مصنوعات کو وسیع بازار سے جوڑ سکے۔
ابتدائی طور پر جب صارفین کی جانب سے مصنوعات کو حوصلہ افزا پذیرائی ملی اور دوبارہ آرڈرز موصول ہونے لگے تو شبینہ کو اس کام کو مزید آگے بڑھانے کا حوصلہ ملا۔
بہن کا ساتھ، سفر میں نئی توانائی
بعد ازاں شبینہ کی چھوٹی بہن یاسمین رسول بھی شریک بانی اور برانڈ ایمبیسیڈر کی حیثیت سے اس سفر کا حصہ بن گئیں۔ دونوں بہنیں آج اپنے والدین کے تعاون سے آزادانہ طور پر برانڈ چلا رہی ہیں اور کاروبار کے مختلف مراحل کو عملی تجربے کے ذریعے سیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔
ان کا سفر اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے کسی تیار کاروباری ڈھانچے کے بجائے تجربے، محنت اور مسلسل سیکھنے کو اپنا ذریعہ بنایا۔
خود روزگاری سے دوسروں کے لئے روزگار تک
’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی کہانی صرف دو بہنوں کی خود روزگاری تک محدود نہیں۔ اس وقت تین سے چار مقامی خواتین بھی مختلف کاموں کے ذریعے اس برانڈ سے وابستہ ہیں۔
ایسے وقت میں جب بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمت یا مسابقتی امتحانات کی تیاری میں برسوں صرف کرتے ہیں، شبینہ اور یاسمین نے خود روزگاری کا راستہ اختیار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر دوسری خواتین کے لئے بھی معاشی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔
کسان سے صارف تک براہِ راست رشتہ
’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ برانڈ اپنی متعدد مصنوعات گُریز کے مقامی کسانوں سے براہِ راست حاصل کرتا ہے۔ اس طریقے سے مقامی پیداوار کو وسیع بازار تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ صارفین کو گُریز کی اصل اور مستند مصنوعات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یوں یہ کاروباری کوشش مقامی کسان، خواتین اور صارف کے درمیان ایک ایسا رابطہ قائم کر رہی ہے جس میں گُریز کی مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچانے کی گنجائش موجود ہے۔
سوشل میڈیا بنا ثقافت کا سفیر
اس سفر میں سوشل میڈیا بھی ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے مجموعی طور پر 31 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔
شبینہ اور یاسمین ان پلیٹ فارمز کو صرف مصنوعات کی تشہیر کے لئے استعمال نہیں کرتیں بلکہ گُریز کی قدرتی خوب صورتی، مقامی روایات، ثقافت اور اپنی مادری شینا زبان کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اس طرح ان کا برانڈ محض مصنوعات فروخت کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ گُریز کی شناخت اور ثقافتی ورثے کو وسیع حلقے تک پہنچانے کا وسیلہ بھی بن گیا ہے۔
منزل ابھی باقی ہے
آج ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی مصنوعات ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہیں، تاہم شبینہ اور یاسمین کے لئے یہ سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ان کا خواب ہے کہ مستقبل میں گُریز کی مزید مقامی مصنوعات کو وسیع منڈی فراہم کی جائے، مقامی کسانوں اور خواتین کے لئے مزید معاشی مواقع پیدا کیے جائیں اور ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کو محض ایک کاروباری برانڈ کے بجائے گُریز کے خالص ذائقوں، شینا زبان اور منفرد ثقافتی شناخت کی علامت بنایا جائے۔
برف پوش پہاڑوں، خاموش وادیوں اور سرحدی جغرافیے کے درمیان دو بہنوں کی یہ کوشش اس بات کی ایک مثال بن رہی ہے کہ مقامی وسائل، ثقافت اور روایتی ذائقوں کو اگر جدید ذرائع سے جوڑ دیا جائے تو ایک چھوٹا سا مقامی خیال بھی وسیع دنیا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

تازہ ترین خبریں

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے ذریعے دو بہنوں کی مقامی مصنوعات، خواتین کے روزگار اور شینا ثقافت کے فروغ کی منفرد کاوش

 

 

جنگ فیچر ڈیسک

سرحدی وادی گُریز کے خوب صورت علاقے کھنڈیال سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں، شبینہ رسول اور یاسمین رسول، نے ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے ذریعے نہ صرف گُریز کی خالص مقامی مصنوعات کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ مقامی خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کسانوں کی پیداوار کو وسیع منڈی سے جوڑنے اور اپنی شینا زبان و ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک منفرد کوشش بھی کی ہے۔
یہ کہانی گزشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوئی، جب شبینہ رسول نے گُریز کی مقامی مصنوعات کو ایک منظم پلیٹ فارم اور منفرد شناخت دینے کے مقصد سے ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اردو میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی شبینہ ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں اور اردو اخبارات کے لئے لکھتی رہی ہیں۔ کاروبار کی کوئی باقاعدہ تعلیم، تربیت یا سابقہ تجربہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے والدین کی حوصلہ افزائی اور تعاون سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔
ایک خیال، جس نے کاروبار کی شکل اختیار کی
گُریز میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ مقامی مصنوعات کی مانگ میں اضافے نے شبینہ کو اس سمت میں سوچنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وادی کا قدرتی جنگلی شہد، چترا راجما، گُریزی کالا زیرہ اور روایتی گھریلو اچار جیسی خالص مصنوعات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں صارفین کی توجہ حاصل کر سکتی ہیں، تاہم انہیں ایک ایسے منظم پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو ان مصنوعات کو وسیع بازار سے جوڑ سکے۔
ابتدائی طور پر جب صارفین کی جانب سے مصنوعات کو حوصلہ افزا پذیرائی ملی اور دوبارہ آرڈرز موصول ہونے لگے تو شبینہ کو اس کام کو مزید آگے بڑھانے کا حوصلہ ملا۔
بہن کا ساتھ، سفر میں نئی توانائی
بعد ازاں شبینہ کی چھوٹی بہن یاسمین رسول بھی شریک بانی اور برانڈ ایمبیسیڈر کی حیثیت سے اس سفر کا حصہ بن گئیں۔ دونوں بہنیں آج اپنے والدین کے تعاون سے آزادانہ طور پر برانڈ چلا رہی ہیں اور کاروبار کے مختلف مراحل کو عملی تجربے کے ذریعے سیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔
ان کا سفر اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے کسی تیار کاروباری ڈھانچے کے بجائے تجربے، محنت اور مسلسل سیکھنے کو اپنا ذریعہ بنایا۔
خود روزگاری سے دوسروں کے لئے روزگار تک
’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی کہانی صرف دو بہنوں کی خود روزگاری تک محدود نہیں۔ اس وقت تین سے چار مقامی خواتین بھی مختلف کاموں کے ذریعے اس برانڈ سے وابستہ ہیں۔
ایسے وقت میں جب بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمت یا مسابقتی امتحانات کی تیاری میں برسوں صرف کرتے ہیں، شبینہ اور یاسمین نے خود روزگاری کا راستہ اختیار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر دوسری خواتین کے لئے بھی معاشی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔
کسان سے صارف تک براہِ راست رشتہ
’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ برانڈ اپنی متعدد مصنوعات گُریز کے مقامی کسانوں سے براہِ راست حاصل کرتا ہے۔ اس طریقے سے مقامی پیداوار کو وسیع بازار تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ صارفین کو گُریز کی اصل اور مستند مصنوعات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یوں یہ کاروباری کوشش مقامی کسان، خواتین اور صارف کے درمیان ایک ایسا رابطہ قائم کر رہی ہے جس میں گُریز کی مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچانے کی گنجائش موجود ہے۔
سوشل میڈیا بنا ثقافت کا سفیر
اس سفر میں سوشل میڈیا بھی ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کے مجموعی طور پر 31 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔
شبینہ اور یاسمین ان پلیٹ فارمز کو صرف مصنوعات کی تشہیر کے لئے استعمال نہیں کرتیں بلکہ گُریز کی قدرتی خوب صورتی، مقامی روایات، ثقافت اور اپنی مادری شینا زبان کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اس طرح ان کا برانڈ محض مصنوعات فروخت کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ گُریز کی شناخت اور ثقافتی ورثے کو وسیع حلقے تک پہنچانے کا وسیلہ بھی بن گیا ہے۔
منزل ابھی باقی ہے
آج ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کی مصنوعات ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہیں، تاہم شبینہ اور یاسمین کے لئے یہ سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ان کا خواب ہے کہ مستقبل میں گُریز کی مزید مقامی مصنوعات کو وسیع منڈی فراہم کی جائے، مقامی کسانوں اور خواتین کے لئے مزید معاشی مواقع پیدا کیے جائیں اور ’’ذائقۂ گُریز‘‘ کو محض ایک کاروباری برانڈ کے بجائے گُریز کے خالص ذائقوں، شینا زبان اور منفرد ثقافتی شناخت کی علامت بنایا جائے۔
برف پوش پہاڑوں، خاموش وادیوں اور سرحدی جغرافیے کے درمیان دو بہنوں کی یہ کوشش اس بات کی ایک مثال بن رہی ہے کہ مقامی وسائل، ثقافت اور روایتی ذائقوں کو اگر جدید ذرائع سے جوڑ دیا جائے تو ایک چھوٹا سا مقامی خیال بھی وسیع دنیا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں