بےنام گیلانی
حق زباں اردو کو دنیا سے دلانے والے
اب کہاں لوگ ہیں تحریک چلانے والے
کذب گوئی کو سمجھتے ہیں بقا کا باعث
کتنے نادان ہیں یہ خواب دکھانے والے
مکر کا جال سلیقے سے بچھا رکھا ہے
خود ہیں گمراہ یہاں راہ بتانے والے
اب وہی بے وقعت اتے ہیں نظر دنیا میں
اپنی انگلی پہ زمانے کو نچانے والے
کیسی مجبوریاں درپیش ہیں کچھ تو بولیں
اب جگاتے ہیں مجھے خود ہی زمانے والے
عزت و مرتبہ پاتے ہیں زمانے بھر میں
خون انسان سے ہر روز نہانے والے
اب کہاں ملتے ہیں دنیا کے کسی گوشے میں
بات کمزوروں کا کاندھے پہ اٹھانے والے


