
ساحل ؔعرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام
کیوں آپس میں تم اُلجھتے ہوخواہ مخواہ
برائی اِک دوسرے کی کرتے ہو خواہ مخواہ
چند روز کی دنیا کیا تم کو معلوم نہیں
پھر بھی غرور میں اکڑتے ہو خواہ مخواہ
دو دن کی زندگی ہے پیار سے رہنا سیکھو
کیوں اپنوں سے دورہوتے ہو خواہ مخواہ
یہ بھی سوچو ہم کو بھی آخر مرنا ہے
دلوں میں کدورت بھرتے ہو خوہ مخواہ
نہ دولت ساتھ، نہ شہرت کام آئے گی
پھر یہ کیسا شوق تم رکھتے ہو خواہ مخواہ
کسی کی خوشی تم سے کیوں نہ دیکھی جاتی
کیوں حسد کی آگ میں جلتے ہو خواہ مخواہ
فانی دنیا ، تم بھی ، ہم بھی فانی ہیں
تم موت سے ساحلؔڈرتے ہو خواہ مخواہ


