غزل: ساحل ؔعرفان شفیع

 

 

ساحل ؔعرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام

کیوں آپس میں تم اُلجھتے ہوخواہ مخواہ
برائی اِک دوسرے کی کرتے ہو خواہ مخواہ
چند روز کی دنیا کیا تم کو معلوم نہیں
پھر بھی غرور میں اکڑتے ہو خواہ مخواہ
دو دن کی زندگی ہے پیار سے رہنا سیکھو
کیوں اپنوں سے دورہوتے ہو خواہ مخواہ
یہ بھی سوچو ہم کو بھی آخر مرنا ہے
دلوں میں کدورت بھرتے ہو خوہ مخواہ
نہ دولت ساتھ، نہ شہرت کام آئے گی
پھر یہ کیسا شوق تم رکھتے ہو خواہ مخواہ
کسی کی خوشی تم سے کیوں نہ دیکھی جاتی
کیوں حسد کی آگ میں جلتے ہو خواہ مخواہ
فانی دنیا ، تم بھی ، ہم بھی فانی ہیں
تم موت سے ساحلؔڈرتے ہو خواہ مخواہ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

تازہ ترین خبریں

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

غزل: ساحل ؔعرفان شفیع

 

 

ساحل ؔعرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام

کیوں آپس میں تم اُلجھتے ہوخواہ مخواہ
برائی اِک دوسرے کی کرتے ہو خواہ مخواہ
چند روز کی دنیا کیا تم کو معلوم نہیں
پھر بھی غرور میں اکڑتے ہو خواہ مخواہ
دو دن کی زندگی ہے پیار سے رہنا سیکھو
کیوں اپنوں سے دورہوتے ہو خواہ مخواہ
یہ بھی سوچو ہم کو بھی آخر مرنا ہے
دلوں میں کدورت بھرتے ہو خوہ مخواہ
نہ دولت ساتھ، نہ شہرت کام آئے گی
پھر یہ کیسا شوق تم رکھتے ہو خواہ مخواہ
کسی کی خوشی تم سے کیوں نہ دیکھی جاتی
کیوں حسد کی آگ میں جلتے ہو خواہ مخواہ
فانی دنیا ، تم بھی ، ہم بھی فانی ہیں
تم موت سے ساحلؔڈرتے ہو خواہ مخواہ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون