19 ستمبر 1960جب دریاؤں نے سرحدوں سے آگے بڑھ کر ایک معاہدے کو جنم دیا

 

جنگ فیچر ڈیسک

19 ستمبر 1960 برصغیر کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھنے والا دن ہے۔ اسی روز ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) پر دستخط کیے۔ عالمی بینک کے نائب صدر W. A. B. Iliff نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کے استعمال، تقسیم اور انتظام کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا تھا۔ (Ministry of External Affairs)
یہ محض دو ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ نہیں تھا، بلکہ 1947 کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے ایک ایسے پیچیدہ مسئلے کا حل تھا جس کے سیاسی، معاشی، زرعی اور انسانی اثرات دونوں ملکوں کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ اس معاہدے تک پہنچنے میں تقریباً ایک دہائی کی بات چیت، تکنیکی مذاکرات اور عالمی بینک کی ثالثی شامل تھی۔ (World Bank)
تقسیمِ ہند کے بعد پانی کا مسئلہ کیوں پیدا ہوا؟
1947 میں برصغیر کی تقسیم نے صرف زمینوں اور آبادیوں کو تقسیم نہیں کیا بلکہ دریاؤں کے پورے نظام کو بھی ایک نئی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت سے دوچار کردیا۔
سندھ طاس کا دریائی نظام ایک ایسے خطے میں پھیلا ہوا تھا جو تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں میں آگیا۔ نہریں، بیراج، آبپاشی کے نظام اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو سیاسی سرحدوں سے الگ کرنا ممکن نہیں تھا۔
مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب آبپاشی کا وسیع نظام نئی سرحدوں کے دونوں جانب موجود رہا۔ ایک طرف دریا کا بالائی حصہ ہندوستان میں تھا، جبکہ کئی نہری نظام اور زرعی علاقے پاکستان میں واقع تھے۔ یوں پانی کا معاملہ محض قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم بین الریاستی مسئلہ بن گیا۔
1948 میں نہری پانی کے تنازعے نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے حقوق اور مستقبل کے استعمال سے متعلق اختلافات نے یہ احساس پیدا کیا کہ اگر کوئی مستقل انتظام نہ کیا گیا تو آبی مسئلہ مستقبل میں بڑے تنازعے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی بینک نے مذاکرات میں کردار ادا کیا۔
عالمی بینک کی ثالثی اور نو سالہ مذاکرات
سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملاقات یا چند ماہ کی گفت و شنید کا نتیجہ نہیں تھا۔ عالمی بینک کے مطابق مذاکرات کا باقاعدہ عمل تقریباً نو سال جاری رہا۔ عالمی بینک کے اس وقت کے صدر Eugene Black نے 1952 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آبی تنازعے میں بینک کی ثالثی کی پیشکش کی۔ دونوں ممالک نے اس کوشش کو قبول کیا۔ (World Bank)
مذاکرات میں پانی کے بہاؤ، آبپاشی، مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں، نہری نظام اور مالی انتظامات جیسے پیچیدہ معاملات شامل تھے۔
یہ مذاکرات اس لئے بھی مشکل تھے کہ دونوں ممالک کے لئے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، زرعی پیداوار اور معاشی مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ تھا۔
عالمی بینک کی تاریخی دستاویزات کے مطابق مذاکرات کے دوران Sir W. A. B. Iliff اور ان کی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر ایک ایسا انتظام سامنے آیا جس میں دریاؤں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں ممالک کے پانی کے استعمال کے حقوق اور ذمہ داریوں کی تفصیل طے کی گئی۔ (World Bank)
چھ بڑے دریاؤں کی تقسیم
سندھ طاس معاہدے کا بنیادی ڈھانچہ چھ دریاؤں کے گرد قائم کیا گیا:
٭ دریائے سندھ
٭ دریائے جہلم
٭ دریائے چناب
٭ دریائے راوی
٭ دریائے بیاس
٭ دریائے ستلج
معاہدے نے ان دریاؤں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا:
مغربی دریا
سندھ، جہلم اور چناب
مشرقی دریا
راوی، بیاس اور ستلج
معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق ہندوستان کو دیا گیا، جبکہ مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہوا۔ تاہم یہ تقسیم مکمل طور پر مطلق نہیں تھی؛ معاہدے میں دونوں ممالک کے لئے دوسرے فریق کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر مخصوص اور محدود استعمالات کی بھی گنجائش رکھی گئی۔ (World Bank)
یہی نکتہ سندھ طاس معاہدے کو محض ایک سادہ "پانی کی تقسیم” کے معاہدے سے زیادہ پیچیدہ بناتا ہے۔
مشرقی دریاؤں پر ہندوستان کے حقوق
معاہدے کے آرٹیکل II کے تحت راوی، بیاس اور ستلج کو مشرقی دریا قرار دیا گیا اور ان کے پانی ہندوستان کے غیر محدود استعمال کے لئے مختص کیے گئے، سوائے ان مخصوص صورتوں کے جن کی معاہدے میں وضاحت کی گئی ہے۔ (Ministry of External Affairs)
اس انتظام نے ہندوستان کو ان دریاؤں پر آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسیع اختیار فراہم کیا۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ معاہدے کے تحت ہر دریا پر دونوں ممالک کے تمام حقوق ختم ہوگئے۔ معاہدے میں متعدد تکنیکی اور قانونی استثنیٰ بھی موجود تھے، جن کا مقصد دریائی نظام کے مختلف استعمالات کو منظم کرنا تھا۔
مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق
سندھ، جہلم اور چناب کو مغربی دریا قرار دیا گیا۔
معاہدے کے مطابق ان دریاؤں کا پانی بنیادی طور پر پاکستان کے غیر محدود استعمال کے لئے مختص کیا گیا، جبکہ ہندوستان کو ان دریاؤں پر مخصوص استعمالات کی اجازت دی گئی۔ ان میں گھریلو استعمال، غیر صرفی استعمال، مخصوص زرعی استعمال اور معاہدے کی شرائط کے مطابق پن بجلی پیدا کرنا شامل تھا۔ (Ministry of External Affairs)
یہاں "غیر صرفی استعمال” کا تصور بھی اہم ہے۔ اس سے مراد ایسے استعمالات ہیں جن میں پانی کے بنیادی بہاؤ کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، مثلاً بعض صورتوں میں پن بجلی کی پیداوار۔
اسی لئے بعد کے برسوں میں ہندوستان کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق بعض اختلافات میں سندھ طاس معاہدے کی تکنیکی دفعات اہم بنیں۔
صرف پانی کی تقسیم نہیں، ایک ادارہ جاتی نظام بھی
معاہدے کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے صرف دریاؤں کے حقوق تقسیم نہیں کیے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان مستقل رابطے کے لئے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔
اس ادارے کو Permanent Indus Commission کہا گیا۔
اس کمیشن میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایک کمشنر شامل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق معلومات کا تبادلہ، تعاون کو فروغ دینا اور پیدا ہونے والے سوالات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ (World Bank)
یہ پہلو اس معاہدے کی طویل مدتی اہمیت کو سمجھنے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دریاؤں کا بہاؤ موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، نئی آبپاشی اسکیمیں بنتی ہیں، پن بجلی کے منصوبے تیار ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کی ضروریات وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ایسے میں مستقل رابطے کا ایک ادارہ قائم کرنا معاہدے کو عملی شکل دینے کے لئے ضروری تھا۔
پاکستان کے لئے متبادل آبپاشی نظام
مشرقی دریاؤں پر ہندوستان کے بنیادی حقوق تسلیم کیے جانے کے بعد پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ اس کے وہ آبپاشی نظام جو پہلے مشرقی دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے تھے، دوسرے ذرائع سے پانی حاصل کرسکیں۔
معاہدے کے آرٹیکل IV میں پاکستان کی جانب سے ایسے منصوبوں کی تعمیر کا انتظام شامل کیا گیا جن کے ذریعے مغربی دریاؤں اور دیگر ذرائع سے ان نہروں کو پانی فراہم کیا جاسکے جو 15 اگست 1947 کو مشرقی دریاؤں سے پانی حاصل کرتی تھیں۔ (Ministry of External Affairs)
اس مقصد کے لئے بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری درکار تھی۔
چنانچہ معاہدے کے ساتھ ہی Indus Basin Development Fund سے متعلق ایک الگ مالی انتظام بھی کیا گیا۔
تقریباً 900 ملین ڈالر کا ترقیاتی فنڈ
19 ستمبر 1960 کو سندھ طاس معاہدے کے ساتھ ایک بین الاقوامی مالیاتی معاہدہ بھی کیا گیا جس کے تحت Indus Basin Development Fund قائم کیا گیا۔
عالمی بینک کی تاریخی دستاویز کے مطابق اس فنڈ کی مالیت تقریباً 900 ملین ڈالر تھی اور اس کا مقصد پاکستان میں آبپاشی اور دیگر متعلقہ تعمیراتی منصوبوں کی مالی معاونت کرنا تھا۔ اس میں مختلف ممالک کی مالی شراکت کے ساتھ ہندوستان کی جانب سے بھی تقریباً 174 ملین ڈالر کی ادائیگی شامل تھی۔ (World Bank)
اس مالی انتظام نے معاہدے کو محض قانونی دستاویز کے بجائے ایک عملی ترقیاتی منصوبے میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔
19 ستمبر 1960: کراچی میں تاریخی منظر
19 ستمبر 1960 کو کراچی میں ایک تاریخی منظر سامنے آیا۔
ایک جانب ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو تھے اور دوسری جانب پاکستان کے صدر محمد ایوب خان۔ ان کے درمیان موجود تھے عالمی بینک کے نائب صدر W. A. B. Iliff۔
تینوں نے معاہدے سے متعلق اپنے اپنے کردار کے تحت دستاویز پر دستخط کیے۔ اقوام متحدہ کے Treaty Series کے مطابق معاہدے کی جگہ کراچی اور تاریخ 19 ستمبر 1960 درج ہے۔ بعد میں دونوں ممالک کی توثیق کے بعد معاہدہ 12 جنوری 1961 کو نافذ ہوا، جبکہ اس کا مؤثر اطلاق یکم اپریل 1960 سے کیا گیا۔ (United Nations Treaty Collection)
یہ منظر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات متعدد دیگر تنازعات سے بھی متاثر تھے۔
اسی لئے پانی کے ایک بڑے تنازعے پر اتفاق رائے پیدا ہونا عالمی سطح پر بھی قابل ذکر واقعہ سمجھا گیا۔
نہرو نے اسے تاریخی موقع کیوں قرار دیا؟
معاہدے پر دستخط کے موقع پر جواہر لال نہرو نے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے اس دن کو ایک یادگار موقع قرار دیا اور کہا کہ ایک پیچیدہ مسئلہ جو کئی برسوں سے دونوں ملکوں کو پریشان کر رہا تھا، بالآخر حل ہوگیا۔
نہرو نے اس معاہدے کو ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک اور عالمی بینک کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ بھی قرار دیا۔ ان کے خطاب کا تاریخی متن آج بھی محفوظ ہے۔ (The Nehru Archive)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ تھا کہ پانی کے مسئلے کو سیاسی کشمکش کے بجائے ایک واضح قانونی اور تکنیکی فریم ورک کے ذریعے منظم کیا جائے۔
ایک ایسے معاہدے کی کہانی جو جنگوں کے درمیان بھی قائم رہا
سندھ طاس معاہدے کی تاریخی اہمیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی کے مختلف ادوار دیکھے۔
1965 اور 1971 کی جنگوں سمیت دونوں ممالک کے درمیان متعدد بحران آئے، لیکن معاہدہ طویل عرصے تک برقرار رہا۔
عالمی بینک اسے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک نمایاں مثال کے طور پر بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک تناؤ کے باوجود آبپاشی اور پن بجلی کی ترقی کے لئے فریم ورک فراہم کرتا رہا۔ (World Bank)
اسی تاریخی تسلسل نے سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی آبی سفارت کاری کے مطالعے میں بھی ایک اہم مثال بنا دیا۔
لیکن معاہدہ اختلافات سے خالی نہیں تھا
یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ 1960 کے بعد سندھ طاس کے پانی پر ہندوستان اور پاکستان کے تمام اختلافات ختم ہوگئے۔
معاہدے نے اختلافات کے حل کے لئے طریقہ کار ضرور فراہم کیا، لیکن مختلف منصوبوں اور پانی کے استعمال سے متعلق تکنیکی سوالات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے۔
خاص طور پر مغربی دریاؤں پر ہندوستان کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی کے استعمال سے متعلق پاکستان کے اعتراضات نے کئی مرتبہ تنازع کی شکل اختیار کی۔
عالمی بینک کے مطابق 2016 میں پاکستان نے بعض پن بجلی منصوبوں سے متعلق اپنے اعتراضات کے لئے Court of Arbitration کے قیام کی درخواست کی، جبکہ ہندوستان نے Neutral Expert کی تقرری کی درخواست کی۔ عالمی بینک نے دونوں درخواستوں سے متعلق اپنے معاہداتی کردار کو آگے بڑھایا، تاہم خود بینک نے واضح کیا کہ معاہدہ اسے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا کہ دونوں طریقہ کار میں سے کون سا لازماً مقدم ہونا چاہیے۔ (World Bank)
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک جامد دستاویز نہیں بلکہ پیچیدہ تکنیکی اور قانونی طریقہ کار رکھنے والا نظام ہے۔
کشمیر اور سندھ طاس کا جغرافیہ
سندھ طاس معاہدے کو سمجھنے کے لئے جموں و کشمیر کے جغرافیہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سندھ، جہلم اور چناب کا دریائی نظام جموں و کشمیر اور اس سے ملحقہ ہمالیائی خطوں کے جغرافیہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
یہ دریا پہاڑوں، وادیوں اور برفانی علاقوں سے پانی حاصل کرتے ہوئے وسیع میدانوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس لئے ان کا پانی صرف ایک ریاست یا ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ پورے دریائی نظام کا حصہ ہے۔
دریاؤں کی یہ قدرتی حقیقت ہی اس بات کی بنیاد بنتی ہے کہ پانی کے مسائل میں جغرافیہ، موسمی حالات، آبادی، زراعت، پن بجلی اور بین الاقوامی قانون سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
پانی، زراعت اور انسانی زندگی
1960 میں سندھ طاس کے پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک زرعی مسئلہ بھی تھا۔
پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ آبپاشی کے نظام پر منحصر تھا، جبکہ ہندوستان کے شمالی اور شمال مغربی خطے میں بھی دریاؤں اور نہری نظام کی اہمیت غیر معمولی تھی۔
چنانچہ معاہدے کا تعلق صرف ریاستی اداروں سے نہیں تھا۔ اس کے اثرات کسانوں، زرعی مزدوروں، آبپاشی کے نظام، خوراک کی پیداوار اور دیہی معیشت تک پہنچتے تھے۔
عالمی بینک کی 1960 کی دستاویز میں بھی اس معاہدے کو ان آبی وسائل کے پرامن استعمال اور ترقی سے جوڑا گیا جن پر دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کا روزگار منحصر تھا۔ (World Bank)
معاہدے کی سب سے بڑی خصوصیت: واضح تقسیم
سندھ طاس معاہدے کی ایک بنیادی خصوصیت اس کی نسبتاً واضح تقسیم تھی۔
ایک جانب مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج تھے، دوسری جانب مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب۔
اس تقسیم نے ایک پیچیدہ مشترکہ آبی نظام کو دو بنیادی انتظامی حصوں میں تقسیم کیا۔
لیکن اس کے ساتھ ہی معاہدے نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دریاؤں کے نظام سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوسکتے۔ اسی لئے محدود استعمال، معلومات کے تبادلے، منصوبوں سے متعلق اطلاعات اور تنازعات کے حل کے لئے متعدد شقیں شامل کی گئیں۔ (Ministry of External Affairs)
عالمی آبی سفارت کاری میں ایک اہم مثال
دنیا بھر میں ایسے دریا موجود ہیں جو ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں۔
دریائے نیل، ڈینیوب، میکونگ، اردن اور دیگر بین الاقوامی دریائی نظام بھی مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ پانی کے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
اس تناظر میں سندھ طاس معاہدہ اس بات کی مثال بن گیا کہ شدید سیاسی اختلاف رکھنے والے دو ممالک بھی کسی مخصوص مسئلے پر ایک تفصیلی قانونی انتظام قائم کرسکتے ہیں۔
اس کی اہمیت صرف اس لئے نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، بلکہ اس لئے بھی کہ معاہدے نے پانی کے استعمال، ادارہ جاتی رابطے، تکنیکی معلومات اور تنازعات کے حل کے لئے باقاعدہ نظام تشکیل دیا۔
19 ستمبر 1960 سے آج تک: بدلتا ہوا آبی منظرنامہ
جب 1960 میں معاہدہ ہوا تو دنیا کی آبادی، ٹیکنالوجی، توانائی کی ضروریات، موسمیاتی حالات اور پانی کی طلب آج کے مقابلے میں مختلف تھی۔
آج ہمالیائی خطے میں پانی کے نظام پر موسمی تبدیلیوں، گلیشیئرز، بارشوں کے بدلتے نمونوں، آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت جیسے عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
اس لئے سندھ طاس معاہدے کو صرف 1960 کے سیاسی پس منظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اس کی اہمیت آج بھی اس لئے برقرار ہے کہ یہ ایک ایسے دریائی نظام کے استعمال کو منظم کرتا ہے جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع وسیع خطے کی زراعت، توانائی اور انسانی زندگی سے وابستہ ہے۔
ایک معاہدہ، کئی نسلوں کی تاریخ
19 ستمبر 1960 کو کراچی میں ہونے والے دستخط بظاہر چند صفحات پر مشتمل ایک قانونی دستاویز تھے، لیکن ان کے پیچھے کئی سال کی کشمکش، مذاکرات، تکنیکی مطالعات اور سیاسی فیصلے موجود تھے۔
جواہر لال نہرو اور محمد ایوب خان نے جس معاہدے پر دستخط کیے، اس نے دریائے سندھ کے چھ بڑے دریاؤں کے پانی کے استعمال کے لئے ایک ایسا فریم ورک قائم کیا جو آنے والی نسلوں تک پہنچا۔
اس معاہدے کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات بڑے سیاسی اختلافات کے باوجود مخصوص مسائل پر عملی تعاون ممکن ہوتا ہے۔
دریا سیاسی سرحدیں نہیں پہچانتے۔ وہ پہاڑوں سے نکلتے ہیں، وادیوں سے گزرتے ہیں، میدانوں کو سیراب کرتے ہیں اور بالآخر سمندر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ریاستیں ان کے پانی کے استعمال کے لئے قوانین اور معاہدے بنا سکتی ہیں، لیکن دریا خود قدرت کے ایک مسلسل نظام کا حصہ رہتے ہیں۔
اسی حقیقت نے 1960 میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک ایسے معاہدے تک پہنچایا جس کا مرکزی سوال بنیادی طور پر یہی تھا کہ ایک مشترکہ قدرتی نظام کو دو الگ سیاسی ریاستیں کس طرح قابلِ عمل قواعد کے ذریعے استعمال کرسکتی ہیں۔
تاریخ کا سبق
19 ستمبر 1960 کی اہمیت صرف ماضی کی یاد نہیں۔ یہ تاریخ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ پانی، توانائی اور ماحول جیسے مسائل سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ دیرپا ہوسکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے نے ایک مشکل مسئلے کو قانونی، تکنیکی اور ادارہ جاتی اصولوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھی اختلافات پیدا ہوئے، تشریحات مختلف رہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی بار شدید بحرانوں سے گزرے۔
لیکن 1960 کا معاہدہ جنوبی ایشیا کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر موجود ہے۔
19 ستمبر 1960 وہ دن جب کراچی میں نہرو اور ایوب خان نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس نے سندھ طاس کے چھ دریاؤں کے پانی کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک باقاعدہ بین الاقوامی قانونی نظام میں تقسیم کردیا۔ (Ministry of External Affairs)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ فضائیہ کے سربراہ مقرر

جنگ نیوز نئی دہلی/ حکومت نے ایئر مارشل آشوتوش ڈکشٹ...

19 ستمبر 1960جب دریاؤں نے سرحدوں سے آگے بڑھ کر ایک معاہدے کو جنم دیا

 

جنگ فیچر ڈیسک

19 ستمبر 1960 برصغیر کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھنے والا دن ہے۔ اسی روز ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) پر دستخط کیے۔ عالمی بینک کے نائب صدر W. A. B. Iliff نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کے استعمال، تقسیم اور انتظام کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا تھا۔ (Ministry of External Affairs)
یہ محض دو ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ نہیں تھا، بلکہ 1947 کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے ایک ایسے پیچیدہ مسئلے کا حل تھا جس کے سیاسی، معاشی، زرعی اور انسانی اثرات دونوں ملکوں کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے جڑے ہوئے تھے۔ اس معاہدے تک پہنچنے میں تقریباً ایک دہائی کی بات چیت، تکنیکی مذاکرات اور عالمی بینک کی ثالثی شامل تھی۔ (World Bank)
تقسیمِ ہند کے بعد پانی کا مسئلہ کیوں پیدا ہوا؟
1947 میں برصغیر کی تقسیم نے صرف زمینوں اور آبادیوں کو تقسیم نہیں کیا بلکہ دریاؤں کے پورے نظام کو بھی ایک نئی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت سے دوچار کردیا۔
سندھ طاس کا دریائی نظام ایک ایسے خطے میں پھیلا ہوا تھا جو تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں میں آگیا۔ نہریں، بیراج، آبپاشی کے نظام اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو سیاسی سرحدوں سے الگ کرنا ممکن نہیں تھا۔
مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب آبپاشی کا وسیع نظام نئی سرحدوں کے دونوں جانب موجود رہا۔ ایک طرف دریا کا بالائی حصہ ہندوستان میں تھا، جبکہ کئی نہری نظام اور زرعی علاقے پاکستان میں واقع تھے۔ یوں پانی کا معاملہ محض قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم بین الریاستی مسئلہ بن گیا۔
1948 میں نہری پانی کے تنازعے نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے حقوق اور مستقبل کے استعمال سے متعلق اختلافات نے یہ احساس پیدا کیا کہ اگر کوئی مستقل انتظام نہ کیا گیا تو آبی مسئلہ مستقبل میں بڑے تنازعے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں عالمی بینک نے مذاکرات میں کردار ادا کیا۔
عالمی بینک کی ثالثی اور نو سالہ مذاکرات
سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملاقات یا چند ماہ کی گفت و شنید کا نتیجہ نہیں تھا۔ عالمی بینک کے مطابق مذاکرات کا باقاعدہ عمل تقریباً نو سال جاری رہا۔ عالمی بینک کے اس وقت کے صدر Eugene Black نے 1952 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آبی تنازعے میں بینک کی ثالثی کی پیشکش کی۔ دونوں ممالک نے اس کوشش کو قبول کیا۔ (World Bank)
مذاکرات میں پانی کے بہاؤ، آبپاشی، مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں، نہری نظام اور مالی انتظامات جیسے پیچیدہ معاملات شامل تھے۔
یہ مذاکرات اس لئے بھی مشکل تھے کہ دونوں ممالک کے لئے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، زرعی پیداوار اور معاشی مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ تھا۔
عالمی بینک کی تاریخی دستاویزات کے مطابق مذاکرات کے دوران Sir W. A. B. Iliff اور ان کی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر ایک ایسا انتظام سامنے آیا جس میں دریاؤں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں ممالک کے پانی کے استعمال کے حقوق اور ذمہ داریوں کی تفصیل طے کی گئی۔ (World Bank)
چھ بڑے دریاؤں کی تقسیم
سندھ طاس معاہدے کا بنیادی ڈھانچہ چھ دریاؤں کے گرد قائم کیا گیا:
٭ دریائے سندھ
٭ دریائے جہلم
٭ دریائے چناب
٭ دریائے راوی
٭ دریائے بیاس
٭ دریائے ستلج
معاہدے نے ان دریاؤں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا:
مغربی دریا
سندھ، جہلم اور چناب
مشرقی دریا
راوی، بیاس اور ستلج
معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق ہندوستان کو دیا گیا، جبکہ مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہوا۔ تاہم یہ تقسیم مکمل طور پر مطلق نہیں تھی؛ معاہدے میں دونوں ممالک کے لئے دوسرے فریق کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر مخصوص اور محدود استعمالات کی بھی گنجائش رکھی گئی۔ (World Bank)
یہی نکتہ سندھ طاس معاہدے کو محض ایک سادہ "پانی کی تقسیم” کے معاہدے سے زیادہ پیچیدہ بناتا ہے۔
مشرقی دریاؤں پر ہندوستان کے حقوق
معاہدے کے آرٹیکل II کے تحت راوی، بیاس اور ستلج کو مشرقی دریا قرار دیا گیا اور ان کے پانی ہندوستان کے غیر محدود استعمال کے لئے مختص کیے گئے، سوائے ان مخصوص صورتوں کے جن کی معاہدے میں وضاحت کی گئی ہے۔ (Ministry of External Affairs)
اس انتظام نے ہندوستان کو ان دریاؤں پر آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسیع اختیار فراہم کیا۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ معاہدے کے تحت ہر دریا پر دونوں ممالک کے تمام حقوق ختم ہوگئے۔ معاہدے میں متعدد تکنیکی اور قانونی استثنیٰ بھی موجود تھے، جن کا مقصد دریائی نظام کے مختلف استعمالات کو منظم کرنا تھا۔
مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق
سندھ، جہلم اور چناب کو مغربی دریا قرار دیا گیا۔
معاہدے کے مطابق ان دریاؤں کا پانی بنیادی طور پر پاکستان کے غیر محدود استعمال کے لئے مختص کیا گیا، جبکہ ہندوستان کو ان دریاؤں پر مخصوص استعمالات کی اجازت دی گئی۔ ان میں گھریلو استعمال، غیر صرفی استعمال، مخصوص زرعی استعمال اور معاہدے کی شرائط کے مطابق پن بجلی پیدا کرنا شامل تھا۔ (Ministry of External Affairs)
یہاں "غیر صرفی استعمال” کا تصور بھی اہم ہے۔ اس سے مراد ایسے استعمالات ہیں جن میں پانی کے بنیادی بہاؤ کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، مثلاً بعض صورتوں میں پن بجلی کی پیداوار۔
اسی لئے بعد کے برسوں میں ہندوستان کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق بعض اختلافات میں سندھ طاس معاہدے کی تکنیکی دفعات اہم بنیں۔
صرف پانی کی تقسیم نہیں، ایک ادارہ جاتی نظام بھی
معاہدے کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے صرف دریاؤں کے حقوق تقسیم نہیں کیے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان مستقل رابطے کے لئے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔
اس ادارے کو Permanent Indus Commission کہا گیا۔
اس کمیشن میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایک کمشنر شامل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق معلومات کا تبادلہ، تعاون کو فروغ دینا اور پیدا ہونے والے سوالات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ (World Bank)
یہ پہلو اس معاہدے کی طویل مدتی اہمیت کو سمجھنے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دریاؤں کا بہاؤ موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، نئی آبپاشی اسکیمیں بنتی ہیں، پن بجلی کے منصوبے تیار ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کی ضروریات وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ایسے میں مستقل رابطے کا ایک ادارہ قائم کرنا معاہدے کو عملی شکل دینے کے لئے ضروری تھا۔
پاکستان کے لئے متبادل آبپاشی نظام
مشرقی دریاؤں پر ہندوستان کے بنیادی حقوق تسلیم کیے جانے کے بعد پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ اس کے وہ آبپاشی نظام جو پہلے مشرقی دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے تھے، دوسرے ذرائع سے پانی حاصل کرسکیں۔
معاہدے کے آرٹیکل IV میں پاکستان کی جانب سے ایسے منصوبوں کی تعمیر کا انتظام شامل کیا گیا جن کے ذریعے مغربی دریاؤں اور دیگر ذرائع سے ان نہروں کو پانی فراہم کیا جاسکے جو 15 اگست 1947 کو مشرقی دریاؤں سے پانی حاصل کرتی تھیں۔ (Ministry of External Affairs)
اس مقصد کے لئے بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری درکار تھی۔
چنانچہ معاہدے کے ساتھ ہی Indus Basin Development Fund سے متعلق ایک الگ مالی انتظام بھی کیا گیا۔
تقریباً 900 ملین ڈالر کا ترقیاتی فنڈ
19 ستمبر 1960 کو سندھ طاس معاہدے کے ساتھ ایک بین الاقوامی مالیاتی معاہدہ بھی کیا گیا جس کے تحت Indus Basin Development Fund قائم کیا گیا۔
عالمی بینک کی تاریخی دستاویز کے مطابق اس فنڈ کی مالیت تقریباً 900 ملین ڈالر تھی اور اس کا مقصد پاکستان میں آبپاشی اور دیگر متعلقہ تعمیراتی منصوبوں کی مالی معاونت کرنا تھا۔ اس میں مختلف ممالک کی مالی شراکت کے ساتھ ہندوستان کی جانب سے بھی تقریباً 174 ملین ڈالر کی ادائیگی شامل تھی۔ (World Bank)
اس مالی انتظام نے معاہدے کو محض قانونی دستاویز کے بجائے ایک عملی ترقیاتی منصوبے میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔
19 ستمبر 1960: کراچی میں تاریخی منظر
19 ستمبر 1960 کو کراچی میں ایک تاریخی منظر سامنے آیا۔
ایک جانب ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو تھے اور دوسری جانب پاکستان کے صدر محمد ایوب خان۔ ان کے درمیان موجود تھے عالمی بینک کے نائب صدر W. A. B. Iliff۔
تینوں نے معاہدے سے متعلق اپنے اپنے کردار کے تحت دستاویز پر دستخط کیے۔ اقوام متحدہ کے Treaty Series کے مطابق معاہدے کی جگہ کراچی اور تاریخ 19 ستمبر 1960 درج ہے۔ بعد میں دونوں ممالک کی توثیق کے بعد معاہدہ 12 جنوری 1961 کو نافذ ہوا، جبکہ اس کا مؤثر اطلاق یکم اپریل 1960 سے کیا گیا۔ (United Nations Treaty Collection)
یہ منظر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات متعدد دیگر تنازعات سے بھی متاثر تھے۔
اسی لئے پانی کے ایک بڑے تنازعے پر اتفاق رائے پیدا ہونا عالمی سطح پر بھی قابل ذکر واقعہ سمجھا گیا۔
نہرو نے اسے تاریخی موقع کیوں قرار دیا؟
معاہدے پر دستخط کے موقع پر جواہر لال نہرو نے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے اس دن کو ایک یادگار موقع قرار دیا اور کہا کہ ایک پیچیدہ مسئلہ جو کئی برسوں سے دونوں ملکوں کو پریشان کر رہا تھا، بالآخر حل ہوگیا۔
نہرو نے اس معاہدے کو ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک اور عالمی بینک کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ بھی قرار دیا۔ ان کے خطاب کا تاریخی متن آج بھی محفوظ ہے۔ (The Nehru Archive)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ تھا کہ پانی کے مسئلے کو سیاسی کشمکش کے بجائے ایک واضح قانونی اور تکنیکی فریم ورک کے ذریعے منظم کیا جائے۔
ایک ایسے معاہدے کی کہانی جو جنگوں کے درمیان بھی قائم رہا
سندھ طاس معاہدے کی تاریخی اہمیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی کے مختلف ادوار دیکھے۔
1965 اور 1971 کی جنگوں سمیت دونوں ممالک کے درمیان متعدد بحران آئے، لیکن معاہدہ طویل عرصے تک برقرار رہا۔
عالمی بینک اسے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک نمایاں مثال کے طور پر بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک تناؤ کے باوجود آبپاشی اور پن بجلی کی ترقی کے لئے فریم ورک فراہم کرتا رہا۔ (World Bank)
اسی تاریخی تسلسل نے سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی آبی سفارت کاری کے مطالعے میں بھی ایک اہم مثال بنا دیا۔
لیکن معاہدہ اختلافات سے خالی نہیں تھا
یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ 1960 کے بعد سندھ طاس کے پانی پر ہندوستان اور پاکستان کے تمام اختلافات ختم ہوگئے۔
معاہدے نے اختلافات کے حل کے لئے طریقہ کار ضرور فراہم کیا، لیکن مختلف منصوبوں اور پانی کے استعمال سے متعلق تکنیکی سوالات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے۔
خاص طور پر مغربی دریاؤں پر ہندوستان کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی کے استعمال سے متعلق پاکستان کے اعتراضات نے کئی مرتبہ تنازع کی شکل اختیار کی۔
عالمی بینک کے مطابق 2016 میں پاکستان نے بعض پن بجلی منصوبوں سے متعلق اپنے اعتراضات کے لئے Court of Arbitration کے قیام کی درخواست کی، جبکہ ہندوستان نے Neutral Expert کی تقرری کی درخواست کی۔ عالمی بینک نے دونوں درخواستوں سے متعلق اپنے معاہداتی کردار کو آگے بڑھایا، تاہم خود بینک نے واضح کیا کہ معاہدہ اسے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا کہ دونوں طریقہ کار میں سے کون سا لازماً مقدم ہونا چاہیے۔ (World Bank)
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک جامد دستاویز نہیں بلکہ پیچیدہ تکنیکی اور قانونی طریقہ کار رکھنے والا نظام ہے۔
کشمیر اور سندھ طاس کا جغرافیہ
سندھ طاس معاہدے کو سمجھنے کے لئے جموں و کشمیر کے جغرافیہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سندھ، جہلم اور چناب کا دریائی نظام جموں و کشمیر اور اس سے ملحقہ ہمالیائی خطوں کے جغرافیہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
یہ دریا پہاڑوں، وادیوں اور برفانی علاقوں سے پانی حاصل کرتے ہوئے وسیع میدانوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس لئے ان کا پانی صرف ایک ریاست یا ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ پورے دریائی نظام کا حصہ ہے۔
دریاؤں کی یہ قدرتی حقیقت ہی اس بات کی بنیاد بنتی ہے کہ پانی کے مسائل میں جغرافیہ، موسمی حالات، آبادی، زراعت، پن بجلی اور بین الاقوامی قانون سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
پانی، زراعت اور انسانی زندگی
1960 میں سندھ طاس کے پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک زرعی مسئلہ بھی تھا۔
پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ آبپاشی کے نظام پر منحصر تھا، جبکہ ہندوستان کے شمالی اور شمال مغربی خطے میں بھی دریاؤں اور نہری نظام کی اہمیت غیر معمولی تھی۔
چنانچہ معاہدے کا تعلق صرف ریاستی اداروں سے نہیں تھا۔ اس کے اثرات کسانوں، زرعی مزدوروں، آبپاشی کے نظام، خوراک کی پیداوار اور دیہی معیشت تک پہنچتے تھے۔
عالمی بینک کی 1960 کی دستاویز میں بھی اس معاہدے کو ان آبی وسائل کے پرامن استعمال اور ترقی سے جوڑا گیا جن پر دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کا روزگار منحصر تھا۔ (World Bank)
معاہدے کی سب سے بڑی خصوصیت: واضح تقسیم
سندھ طاس معاہدے کی ایک بنیادی خصوصیت اس کی نسبتاً واضح تقسیم تھی۔
ایک جانب مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج تھے، دوسری جانب مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب۔
اس تقسیم نے ایک پیچیدہ مشترکہ آبی نظام کو دو بنیادی انتظامی حصوں میں تقسیم کیا۔
لیکن اس کے ساتھ ہی معاہدے نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دریاؤں کے نظام سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوسکتے۔ اسی لئے محدود استعمال، معلومات کے تبادلے، منصوبوں سے متعلق اطلاعات اور تنازعات کے حل کے لئے متعدد شقیں شامل کی گئیں۔ (Ministry of External Affairs)
عالمی آبی سفارت کاری میں ایک اہم مثال
دنیا بھر میں ایسے دریا موجود ہیں جو ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں۔
دریائے نیل، ڈینیوب، میکونگ، اردن اور دیگر بین الاقوامی دریائی نظام بھی مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ پانی کے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
اس تناظر میں سندھ طاس معاہدہ اس بات کی مثال بن گیا کہ شدید سیاسی اختلاف رکھنے والے دو ممالک بھی کسی مخصوص مسئلے پر ایک تفصیلی قانونی انتظام قائم کرسکتے ہیں۔
اس کی اہمیت صرف اس لئے نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، بلکہ اس لئے بھی کہ معاہدے نے پانی کے استعمال، ادارہ جاتی رابطے، تکنیکی معلومات اور تنازعات کے حل کے لئے باقاعدہ نظام تشکیل دیا۔
19 ستمبر 1960 سے آج تک: بدلتا ہوا آبی منظرنامہ
جب 1960 میں معاہدہ ہوا تو دنیا کی آبادی، ٹیکنالوجی، توانائی کی ضروریات، موسمیاتی حالات اور پانی کی طلب آج کے مقابلے میں مختلف تھی۔
آج ہمالیائی خطے میں پانی کے نظام پر موسمی تبدیلیوں، گلیشیئرز، بارشوں کے بدلتے نمونوں، آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت جیسے عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
اس لئے سندھ طاس معاہدے کو صرف 1960 کے سیاسی پس منظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اس کی اہمیت آج بھی اس لئے برقرار ہے کہ یہ ایک ایسے دریائی نظام کے استعمال کو منظم کرتا ہے جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع وسیع خطے کی زراعت، توانائی اور انسانی زندگی سے وابستہ ہے۔
ایک معاہدہ، کئی نسلوں کی تاریخ
19 ستمبر 1960 کو کراچی میں ہونے والے دستخط بظاہر چند صفحات پر مشتمل ایک قانونی دستاویز تھے، لیکن ان کے پیچھے کئی سال کی کشمکش، مذاکرات، تکنیکی مطالعات اور سیاسی فیصلے موجود تھے۔
جواہر لال نہرو اور محمد ایوب خان نے جس معاہدے پر دستخط کیے، اس نے دریائے سندھ کے چھ بڑے دریاؤں کے پانی کے استعمال کے لئے ایک ایسا فریم ورک قائم کیا جو آنے والی نسلوں تک پہنچا۔
اس معاہدے کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات بڑے سیاسی اختلافات کے باوجود مخصوص مسائل پر عملی تعاون ممکن ہوتا ہے۔
دریا سیاسی سرحدیں نہیں پہچانتے۔ وہ پہاڑوں سے نکلتے ہیں، وادیوں سے گزرتے ہیں، میدانوں کو سیراب کرتے ہیں اور بالآخر سمندر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ریاستیں ان کے پانی کے استعمال کے لئے قوانین اور معاہدے بنا سکتی ہیں، لیکن دریا خود قدرت کے ایک مسلسل نظام کا حصہ رہتے ہیں۔
اسی حقیقت نے 1960 میں ہندوستان اور پاکستان کو ایک ایسے معاہدے تک پہنچایا جس کا مرکزی سوال بنیادی طور پر یہی تھا کہ ایک مشترکہ قدرتی نظام کو دو الگ سیاسی ریاستیں کس طرح قابلِ عمل قواعد کے ذریعے استعمال کرسکتی ہیں۔
تاریخ کا سبق
19 ستمبر 1960 کی اہمیت صرف ماضی کی یاد نہیں۔ یہ تاریخ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ پانی، توانائی اور ماحول جیسے مسائل سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ دیرپا ہوسکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے نے ایک مشکل مسئلے کو قانونی، تکنیکی اور ادارہ جاتی اصولوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھی اختلافات پیدا ہوئے، تشریحات مختلف رہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی بار شدید بحرانوں سے گزرے۔
لیکن 1960 کا معاہدہ جنوبی ایشیا کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر موجود ہے۔
19 ستمبر 1960 وہ دن جب کراچی میں نہرو اور ایوب خان نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس نے سندھ طاس کے چھ دریاؤں کے پانی کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک باقاعدہ بین الاقوامی قانونی نظام میں تقسیم کردیا۔ (Ministry of External Affairs)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں