جنگ فیچر ڈیسک
23 ستمبر 1932 سعودی عرب کی تاریخ کا وہ دن ہے جب جزیرۂ عرب کے ایک بڑے حصے کو ایک متحد سیاسی اکائی میں ڈھال کر مملکتِ سعودی عرب کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ یہ تاریخ آج سعودی عرب کے قومی دن کے طور پر منائی جاتی ہے اور جدید سعودی ریاست کی تشکیل کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
لیکن 23 ستمبر کی کہانی کسی ایک دن سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، عسکری اور انتظامی جدوجہد تھی۔ اس سفر کا ایک فیصلہ کن موڑ 15 جنوری 1902 کو آیا، جب عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ریاض دوبارہ حاصل کیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ریاض کی بازیابی نے جدید سعودی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد عبدالعزیز نے بتدریج جزیرۂ عرب کے مختلف علاقوں کو متحد کرنا شروع کیا۔
ایک بکھرے ہوئے خطے سے متحد ریاست تک
بیسویں صدی کے آغاز میں جزیرۂ عرب ایک واحد مرکزی ریاست نہیں تھا۔ مختلف علاقوں میں مختلف مقامی طاقتیں، قبائلی اتحاد اور حکمران خاندان سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ایسے ماحول میں کسی ایک مرکزی حکومت کے تحت وسیع علاقوں کو متحد کرنا آسان کام نہیں تھا۔
عبدالعزیز نے ریاض کو اپنے سیاسی مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ابتدا میں نجد کے علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ جنوبی ریاض، خرج، الحریق، الافلاج اور وادی الدواسر کے بعد الوشم، سدیر اور دیگر علاقوں کی طرف پیش قدمی ہوئی۔ قصیم کے اتحاد میں بھی متعدد معرکے ہوئے، جن میں روضۃ مہنا کی لڑائی 14 اپریل 1906 کو ایک فیصلہ کن مرحلہ تھی۔
یہ فتوحات صرف جغرافیائی توسیع نہیں تھیں بلکہ ایک نئے سیاسی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کا ذریعہ بھی بن رہی تھیں۔ عبدالعزیز کے سامنے چیلنج یہ تھا کہ مختلف علاقوں کو ایک ایسی مرکزی حکومت کے تحت لایا جائے جو سیاسی نظم و نسق، امن اور انتظامی تسلسل قائم رکھ سکے۔
ریاض کی بازیابی: ایک تاریخی موڑ
عبدالعزیز کی سیاسی جدوجہد میں ریاض کی بازیابی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سعودی سرکاری تاریخ کے مطابق 15 جنوری 1902 کو وہ ریاض میں داخل ہوئے اور اس کامیابی نے جدید سعودی ریاست کی تعمیر کے سفر کو ایک نئی سمت دی۔
یہ واقعہ آنے والی تین دہائیوں کی جدوجہد کا نقطۂ آغاز بن گیا۔ ریاض دوبارہ حاصل کرنے کے بعد عبدالعزیز نے اپنے سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ کو مرحلہ وار وسعت دی۔ ان کے مختلف ادوار کے سرکاری خطابات بھی اسی توسیع کی عکاسی کرتے ہیں: ابتدا میں امیرِ نجد، پھر سلطانِ نجد، اس کے بعد حجاز کے بادشاہ اور آخرکار 1932 میں مملکتِ سعودی عرب کے بادشاہ۔
حجاز: اتحاد کا فیصلہ کن مرحلہ
نجد میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے بعد عبدالعزیز کی توجہ حجاز کی طرف ہوئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ نہ صرف سیاسی و تجارتی اعتبار سے اہم تھے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتے تھے۔
حجاز کا سیاسی طور پر متحد ہونا جدید سعودی ریاست کی تشکیل میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ 1926 میں عبدالعزیز نے حجاز کے بادشاہ کی حیثیت اختیار کی، جبکہ نجد اور اس کے علاقوں میں بھی ان کی حکمرانی جاری رہی۔ 1927 میں انہیں بادشاہِ حجاز اور نجد اور اس کے علاقوں کے حکمران کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
یوں ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا جس میں جزیرۂ عرب کے اہم ترین مذہبی، تجارتی اور سیاسی مراکز ایک ہی حکمرانی کے تحت آتے گئے۔
1932: نام بھی ایک، مملکت بھی ایک
بالآخر 17 جمادی الاول 1351 ہجری، مطابق 19 ستمبر 1932 کو شاہی فرمان جاری کیا گیا، جس میں جدید سعودی ریاست کے تمام متحدہ حصوں کو مملکتِ سعودی عرب کے نام سے متحد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس اتحاد کا باقاعدہ اعلان 23 ستمبر 1932 سے نافذ ہوا۔ عبدالعزیز کا لقب ’’بادشاہِ سعودی عرب‘‘ قرار پایا اور یہی تاریخ بعد میں قومی دن بن گئی۔
یوں 1902 میں ریاض کی بازیابی سے شروع ہونے والا سفر تیس سال بعد ایک باقاعدہ متحد مملکت کے قیام پر مکمل ہوا۔ سعودی وزارت خارجہ بھی 23 ستمبر کو اسی اتحاد اور جدید مملکت کے قیام کی یادگار قرار دیتی ہے۔
اتحاد کے بعد اصل چیلنج: ریاست کی تعمیر
کسی خطے کو متحد کرنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اس اتحاد کو ایک مستحکم ریاست میں تبدیل کرنا اس سے کہیں بڑا کام ہوتا ہے۔ عبدالعزیز نے سیاسی اتحاد کے بعد ریاستی اداروں کی تعمیر پر توجہ دی۔
حجاز کے لئے حکومتی انتظام قائم کیا گیا، مجلسِ شوریٰ کو منظم کیا گیا اور 1931 میں مجلس الوکلاء قائم کی گئی۔ مختلف وزارتیں وجود میں آئیں اور بیرونی دنیا کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات قائم ہونے لگے۔ سفیر، قونصل اور دیگر سفارتی نمائندے مقرر کیے گئے۔
ریاستی نظم و نسق کے ساتھ تعلیم، صحت، زراعت، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کی طرف بھی توجہ دی گئی۔ سعودی سرکاری ریکارڈ کے مطابق جدید ریاستی اداروں کے قیام کے ساتھ روایتی انتظامی طریقوں کی جگہ بتدریج جدید نظام متعارف کرایا گیا۔
بدوی معاشرے سے جدید ریاست کی طرف
سعودی ریاست کے ابتدائی دور میں ایک اہم مسئلہ مختلف قبائلی اور بدوی آبادیوں کو مستقل انتظامی اور معاشی ڈھانچے سے جوڑنا تھا۔ حکومت نے خانہ بدوش آبادیوں کو مستقل بستیوں اور زرعی علاقوں میں آباد کرنے کے منصوبے بھی شروع کیے۔
اس عمل نے نہ صرف ریاستی نظم کو مضبوط کیا بلکہ ایک ایسی معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بھی رکھی جس نے آنے والی دہائیوں میں سعودی عرب کو جدید شہری ریاست کی طرف منتقل ہونے میں مدد دی۔
اسی عرصے میں تعلیم کے فروغ، کتابوں کی اشاعت اور مذہبی تعلیم کے اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ صحت کی سہولیات بھی بتدریج قائم ہونے لگیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کے لئے پانی، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تیل: جس نے سعودی عرب کی معیشت بدل دی
1932 میں مملکت کا قیام سعودی عرب کی سیاسی تاریخ کا سنگِ میل تھا، لیکن چند برس بعد تیل نے ملک کے معاشی مستقبل کو بنیادی طور پر بدل دیا۔
سعودی سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1937 میں مشرقی خطے میں تجارتی پیمانے پر تیل کی پیداوار شروع ہوئی۔ اس کے بعد تیل کی آمدنی ریاست کی اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور جدید اداروں کی تعمیر کے لئے ایک بڑا ذریعہ بن گئی۔
سڑکیں تعمیر ہوئیں، مواصلاتی نظام پھیلا، ریلوے کا نظام قائم ہوا، ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک تیار ہوا اور جدید ہوائی نقل و حمل کی بنیاد رکھی گئی۔ سعودی عرب کی سرکاری فضائی کمپنی کا قیام 1945 میں ہوا جبکہ نشریاتی نظام بھی بعد میں قائم کیا گیا۔
یوں 1932 کی نسبتاً نئی ریاست نے چند دہائیوں میں ایک ایسی معاشی تبدیلی کا تجربہ کیا جس نے اسے عالمی توانائی کے نظام میں مرکزی مقام تک پہنچا دیا۔
عالمی سیاست میں سعودی عرب کا داخلہ
ریاست کے قیام کے ساتھ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی بھی بتدریج عالمی سطح پر نمایاں ہونے لگی۔ مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور سعودی عرب نے بین الاقوامی اداروں میں شرکت شروع کی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق مملکت 1945 میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھی اور اسی سال قائم ہونے والی عرب لیگ کے بانی ارکان میں بھی شامل رہی۔
یہ مرحلہ اس بات کی علامت تھا کہ 1932 میں قائم ہونے والی ریاست اب صرف جزیرۂ عرب کی علاقائی طاقت نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی نظام میں بھی اپنی جگہ بنا رہی تھی۔
فلسطین اور عرب دنیا
شاہ عبدالعزیز کے دور میں فلسطین کا مسئلہ بھی سعودی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ سعودی وزارت خارجہ کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے فلسطینی مسئلے کی حمایت کی اور عرب ممالک کے درمیان مشترکہ موقف کے لئے کوششیں کیں۔
بعد میں عرب لیگ کے قیام میں سعودی عرب کی شرکت نے اسے عرب دنیا کے اجتماعی سیاسی معاملات میں زیادہ نمایاں کردار فراہم کیا۔
حرمین شریفین اور سعودی ریاست
سعودی عرب کی شناخت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی حدود میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں۔ اسی لئے حج و عمرہ سے متعلق انتظامات ریاستی ذمہ داریوں کا اہم حصہ بن گئے۔
زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ پانی، رہائش، صحت، نقل و حمل اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔ سعودی ریاست نے وقت کے ساتھ ان شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی، جس نے حرمین شریفین سے متعلق انتظامی ڈھانچے کو جدید شکل دی۔
قومی دن: صرف جشن نہیں، ایک تاریخی یاد
آج 23 ستمبر کو سعودی عرب میں قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر یہ دن 1932 میں مملکت کے اتحاد اور قیام کی یاد دلاتا ہے۔
لیکن سعودی تاریخ میں ایک اور تاریخ بھی اہم ہے: 22 فروری، یومِ تاسیس۔
دونوں دنوں کو ایک سمجھنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ سعودی سرکاری ریکارڈ کے مطابق 22 فروری 1727 میں امام محمد بن سعود نے درعیہ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کا آغاز کیا تھا۔ اسی تاریخی مرحلے کی یاد میں 22 فروری کو یومِ تاسیس منایا جاتا ہے۔ دوسری طرف 23 ستمبر 1932 جدید مملکتِ سعودی عرب کے اتحاد اور اعلان کی تاریخ ہے۔
اس طرح سعودی تاریخ کو دو بڑے سنگِ میلوں میں دیکھا جا سکتا ہے: پہلی سعودی ریاست کی بنیاد اور تین صدیوں بعد جدید مملکت کا قیام۔
ایک صحرائی ریاست سے عالمی طاقت تک
1932 میں سعودی عرب کے قیام کے وقت جدید انفراسٹرکچر، صنعتی بنیاد اور معاشی وسائل محدود تھے۔ آنے والی دہائیوں میں تیل کی آمدنی، ریاستی اداروں کی توسیع اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نے ملک کو یکسر تبدیل کردیا۔
ریاض ایک علاقائی مرکز سے عالمی سفارت کاری اور کاروبار کے اہم مراکز میں شامل ہوا۔ سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں ایک مرکزی کردار بن گیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھتی گئی۔
آج مملکت عالمی توانائی، اسلامی دنیا، عرب سیاست، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس پورے سفر کی بنیادی سیاسی بنیاد 23 ستمبر 1932 کے اعلان میں موجود تھی۔
23 ستمبر کی میراث
23 ستمبر 1932 کو صرف ایک ریاست کا نام تبدیل نہیں ہوا تھا۔ اس دن ایک طویل سیاسی عمل کو ایک باقاعدہ ریاستی شناخت ملی۔ ریاض کی بازیابی، نجد کا اتحاد، حجاز کی شمولیت، مرکزی اداروں کی تشکیل اور بالآخر مملکتِ سعودی عرب کا اعلان—یہ سب مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
تین دہائیوں کی اس جدوجہد کے بعد عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ایک متحد مملکت کی بنیاد رکھی، جس نے بعد کی دہائیوں میں تیل، تجارت، مذہبی اہمیت اور عالمی سفارت کاری کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔
23 ستمبر اس لئے سعودی عرب کے لئے محض ایک قومی تعطیل نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی سفر کی علامت ہے جو 1902 میں ریاض کی بازیابی سے شروع ہوا اور 1932 میں ایک متحد مملکت کے اعلان پر منتج ہوا۔


