
محمد اعجاز افضل
رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ہر طرف خاموشی پھیلی ہوئی تھی،جیسے وقت بھی کسی کا انتظار میں ٹھہر گیا ہو-اندھیرے کی چادر ابھی پوری طرح سمٹی نہیں تھی۔صبح کی پہلی روشنی پھیلنے لگی،جیسے اپنے ساتھ امید کی ایک نئی کرن لے کر آئی ہو۔
گھر کے صحن کے ایک کونے میں لکڑی کی ایک پرانی کرسی رکھی تھی۔کرسی اتنی پرانی ہو چکی تھی کہ اس کا رنگ تقریبا اتر چکا تھا،مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہر دن کی پہلی روشنی میں بوڑھا شخص اسے کپڑے سے کرسی صاف کرتا جیسے کوئی گھر میں آنے والا ہو اور شام کو اسی کرسی کے سامنے بیٹھ کر دیر تک خاموش رہتا اور خود سے ہی ہم کلام ہوتا اور وہ اس کرسی میں گھر کے کسی بھی افراد کو بیٹھنے نہیں دیتا۔
گھر والوں کو یہ عادت عجیب لگتی تھی۔
ایک دن حسن نے پوچھا،
آپ ہر روز اس خالی کرسی کو کیوں صاف کرتے ہیں؟
بوڑھا شخص مسکرا کر کہا،
کسی کا انتظار ہو تو جگہ صاف ستھری رکھنی چاہیے،آخر معلوم نہیں وہ کس لمحے لوٹ آئے۔
حسن ہنس پڑا اور کہا،
لیکن یہاں تو کوئی آتا ہی نہیں۔آپ کو دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے آپ آج بھی کسی کے انتظار میں ہے،جیسے آپ کی نظریں اب بھی کسی کے لوٹ آنے کی منتظر ہے۔
بوڑھے شخص نے کہا،
کبھی کبھی انسان کو آنے والے سے زیادہ اپنے وعدے پر یقین ہوتا ہے۔
حسن خاموش ہو گیا۔
یہ کرسی دراصل بوڑھے شخص کے بیٹے "ارمان” کی تھی۔جب ارمان گھر میں رہا کرتا تھا تو اس کرسی سے اس کی ایک خاص قربت تھی وہ اپنا بیشتر وقت اسی پر بیٹھ کر گزارتا کبھی کتاب پڑھتے ہوئے،کبھی والد سے باتیں کرتے ہوئے اور کبھی خاموشی سے صحن میں پھیلی شام کو تکتے ہوئے۔ارمان تقریبا پندرہ سال پہلے شہر سے باہر کام کی تلاش میں گیا تھا۔جاتے وقت اس نے اپنے والد سے کہا تھا،ابا بس چند سال کی بات ہے جب کچھ بن جاؤں گا تو آپ کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔
بوڑھے شخص نے ہنستے ہوئے کہا تھا،
مجھے کہیں لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں،بس کبھی کبھی گھر آجایا کرنا۔ارمان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ عید اور محرم پر گھر آئے گا۔
پہلی عید اور محرم وہ نہیں آیا۔
دوسری عید اور محرم نہیں آیا۔
تیسری عید اور محرم گزر گئی تب بھی نہیں آیا۔
پھر فون آنا بھی کم ہو گئے تھے۔کچھ مہینوں کے بعد فون آنا مکمل بند ہو گئے۔
لوگوں نے بہت سی باتیں بنائیں۔کسی نے کہا ارمان نے شہر میں نئی زندگی کی شروعات کر لی ہے،کسی نے کہا شاید اسے اپنے بوڑھے باپ کی یاد نہیں آتی۔
لیکن ان سب باتوں کے باوجود بوڑھا شخص کسی کی بات پر یقین نہیں کیا کیونکہ اسے لوگوں سے زیادہ اپنے بیٹے کے وعدے پر بھروسہ تھا۔اسے یقین تھا کہ ارمان ایک دن ضرور آئے گا،کیونکہ بعض وعدے وقت گزرنے کے ساتھ کمزور نہیں پڑتے، بلکہ انتظار کے ساتھ اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔
سال گزرتا رہا۔
وقت کے ساتھ بوڑھے شخص کی طبیعت ناساز رہنے لگی تھی،اس کے جسم پر بڑھاپا اور بھی نمایاں ہونے لگا تھا چہرے کی جھریاں گہری ہو گئی تھی اور کمر پہلے سے زیادہ جھک گئی تھی اور چلتے ہوئے اس کے قدم ڈگمگاتے اور ہاتھ کسی سہارے کی تلاش میں رہتے۔
مگر بیٹے کے لوٹ آنے کی امید ابھی تک اس کے دل میں زندہ تھی۔
ایک سرد شام حسن نے دیکھا کہ بابا حسب معمول کرسی صاف کر رہے تھے۔طبیعت ناساز تھی،جسم کی توانائی بھی جواب دے رہی تھی اس کے باوجود ان کے ہاتھ کرسی صاف کرنے میں مصروف تھے جیسے کمزور پڑتا ہوا جسم بھی برسوں پرانے انتظار میں دستبردار ہونے کو تیار نہ ہو۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
حسن نے دروازہ کھولا
سامنے ایک اجنبی سا آدمی کھڑا تھا۔چہرے پر تھکن،ہاتھ میں ایک پرانا بیگ اور آنکھوں میں عجیب نمی تھی۔
اس نے دھیمے آواز میں پوچھا،
یہ ارمان کا گھر ہے؟
حسن نے جواب دیا،
جی،لیکن آپ کون ہیں؟
آدمی نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا،
میں ارمان ہوں۔
حسن کے ہاتھ سے دروازے کی کنڈی چھوٹ گئی۔
بوڑھے شخص نے آواز سنی تو آہستہ آہستہ کر دروازے تک پہنچتے پہنچتے ان کی آنکھیں اپنے بیٹے کے چہرے پر جم گئی۔
کچھ لمحوں تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
اس بوڑھے شخص کے ہونٹ کانپے۔
تم۔۔۔۔۔واقعی آگئے؟
ارمان نے سر جھکا لیا۔
ابا،بہت دیر کر دی میں نے۔
بابا نے کوئی شکایت نہیں کی۔بس انہوں نے صرف اس پرانی خالی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
بیٹھ جاؤ بیٹا۔ تمہاری اب بھی جگہ خالی ہے۔
ارمان خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
وہ کرسی،جسے برسوں سے سب خالی سمجھتے تھے،آج پہلی بار بھر گئی۔
بابا اس کے سامنے بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
ارمان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے پوچھا،
ابا،آپ نے میرا انتظار کیوں نہیں چھوڑا؟
بابا نے مسکراتے ہوئے کہا،
بیٹا،انتظار وہ نہیں جو وقت گزرنے سے ختم ہو جائے،انتظار وہ ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی دل میں ہمیشہ زندہ رہے۔
صحن میں خاموسی چھا گئی۔
مگر اس دن گھر کی خاموشی میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔


