جنگ نیوز
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نام نہاد ٹریبونل کو بھارت کے خودمختار فیصلوں پر کوئی اختیارِ سماعت حاصل نہیں، جبکہ معاہدے کو معطل رکھنے کا بھارتی فیصلہ بدستور نافذ ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ثالثی عدالت کو ’’غیر قانونی طور پر قائم کردہ ادارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اس کے وجود کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔
یہ بیان ثالثی عدالت کے اس مؤقف کے بعد سامنے آیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بھارت نے کبھی اس عدالت کے سامنے پیشی نہیں کی اور نہ ہی اس کے سابقہ فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔ وزارت کے مطابق عدالت کے موجودہ یا آئندہ فیصلوں کا بھارت کے منصوبوں اور اقدامات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نئی دہلی نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔ بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے چند روز بعد معاہدے پر عمل درآمد معطل کردیا تھا۔
واضح رہے کہ 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے استعمال میں ہیں، جبکہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔


