والدین کا عمل اولاد کا عکس

 

مہر النساء قریشی

ہندوارہ کشمیر

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رفاقت اور انس کی طلب بھی رکھی۔ اسی لئے انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان پر قائم کی اور مرد و عورت کے درمیان ایک فطری کشش پیدا فرمائی، جس کا پاکیزہ اور باوقار راستہ نکاح قرار دیا۔ نکاح کے بعد جب ایک گھر میں اولاد کی آمد ہوتی ہے تو وہ لمحہ والدین کی زندگی کے حسین ترین لمحات میں سے ایک ہوتا ہے۔ ایک ننھی سی جان جب ان کی گود میں آتی ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ وہ اس ننھے وجود میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں، اپنی امیدیں دیکھتے ہیں اور اپنے خوابوں کو اس سے وابستہ کر لیتے ہیں۔
والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد دنیا کی بہترین اولاد بنے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے، بہترین ادارے میں پڑھے، ایک کامیاب پیشہ اختیار کرے، معاشرے میں عزت و مقام حاصل کرے اور زندگی کی ہر آسائش سے بہرہ مند ہو۔ چنانچہ وہ اس کے لئے بہترین اسکول تلاش کرتے ہیں، بہترین لباس خریدتے ہیں، بہترین غذا کا انتظام کرتے ہیں، اس کے آرام و آسائش کا خیال رکھتے ہیں اور اس کے روشن مستقبل کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں۔
لیکن اسی دوڑ میں، اسی فکرمندی میں، اسی خواہش کامیابی میں ہم اکثر ایک نہایت بنیادی اور اہم عنصر کو نظر انداز کر دیتے ہیں "تربیت”۔
ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ بچے کا لباس اچھا ہونا چاہیے، اس کی غذا متوازن ہونی چاہیے، اس کا اسکول بہترین ہونا چاہیے، اس کا کیریئر شاندار ہونا چاہیے؛ مگر ہم کبھی کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب سے بڑھ کر اس کے کردار کا خوب صورت ہونا ضروری ہے۔
ہم بچے کے جسم کی پرورش کے لئے فکر مند رہتے ہیں، مگر اس کی روح کی پرورش سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے سرمایہ جمع کرتے ہیں، مگر اس کے کردار کو مضبوط بنانے کے لئے وقت نہیں دیتے۔ ہم اسے دنیا میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی صرف اچھی ملازمت، بلند عہدے یا دولت کا نام نہیں۔
حقیقی کامیابی یہ ہے کہ ہمارا بچہ ایک اچھا انسان بنے۔
اس کے اندر احترام ہو، احساس ہو، سچائی ہو، حیا ہو، ذمہ داری کا شعور ہو، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت ہو۔ وہ علم کے ساتھ کردار کا بھی حامل ہو، اور کامیابی کے ساتھ انسانیت کو بھی اپنے اندر زندہ رکھے۔
کیونکہ تعلیم انسان کو قابل بنا سکتی ہے، مگر تربیت اسے قابل احترام بناتی ہے۔
اسی لئے تربیت اولاد کوئی اضافی ذمہ داری نہیں، بلکہ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جس طرح ایک پودے کو صرف پانی ہی نہیں بلکہ مناسب روشنی، نگہداشت اور سمت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک بچے کو صرف تعلیم، غذا اور آسائش نہیں بلکہ محبت، توجہ، رہنمائی اور بہترین تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیونکہ آج کا بچہ صرف ایک فرد نہیں، کل کی ایک پوری نسل کا معمار ہے۔ اور اس معمار کی پہلی درسگاہ اسکول نہیں، گھر ہے؛ پہلی کتاب نصاب نہیں، والدین کا کردار ہے؛ اور پہلا سبق الفاظ نہیں، والدین کا عمل ہے۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری اسکول کی ہے۔ ہم اسے ایک اچھے اور مہنگے اسکول میں داخل کرواتے ہیں، بہترین کتابیں خرید کر دیتے ہیں، یونیفارم سے لے کر ہر سہولت تک اس کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور پھر یہ توقع رکھتے ہیں کہ استاد ہمارے بچے کو ایک بااخلاق، باکردار، مہذب اور ذمہ دار انسان بنا کر ہمارے حوالے کرے گا۔ بلاشبہ اسکول اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، استاد اپنی پوری کوشش کرتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک استاد، جو بیک وقت تیس، چالیس بلکہ پچاس بچوں کو پڑھا رہا ہو، وہ وہ کام بھی کر سکتا ہے جو ایک گھر اپنے ایک یا دو بچوں کے ساتھ کرنے سے قاصر ہے؟
اسکول تعلیم دے سکتا ہے، تربیت میں معاون بن سکتا ہے، راستہ دکھا سکتا ہے؛ لیکن تربیت کی پہلی اور سب سے مؤثر درسگاہ گھر ہے۔
بچہ اپنے والدین کو صرف سنتا نہیں، انہیں دیکھتا ہے۔ وہ ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے اعمال کو یاد رکھتا ہے۔ والدین کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت، گفتگو کا انداز، غصے کا طریقہ، دوسروں سے برتاؤ، جھوٹ بولنے کا انداز، معافی مانگنے کا سلیقہ، کمزور کے ساتھ رویہ، گھر کے افراد کی عزت یا تذلیل، یہ سب کچھ خاموشی سے بچے کے ذہن میں نقش ہوتا رہتا ہے۔ وہ شعوری طور پر شاید کچھ نہ کہے، مگر لاشعوری طور پر اپنے والدین کے کردار کو اپنے لئے نمونہ بنا لیتا ہے۔
اگر ایک بچہ اپنے گھر میں یہ دیکھتا ہے کہ باپ ماں کی توہین کرتا ہے، اسے گالی دیتا ہے، اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے یا اسے مسلسل ذہنی اذیت دیتا ہے، تو اس بچے کے ذہن میں عورت کے احترام کا تصور کس طرح مضبوط ہوگا؟ آپ اسے کتابیں پڑھا سکتے ہیں، اسے اخلاقیات کے اسباق دے سکتے ہیں، اسے تشدد کے نقصانات سمجھا سکتے ہیں؛ مگر جو چیز وہ روزانہ اپنے گھر میں دیکھ رہا ہے، وہ اس کے ذہن پر ان تمام اسباق سے کہیں گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’ہم نے اپنے بچے کو بہت پڑھایا ہے۔‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے اپنے عمل سے کیا سکھایا ہے؟
اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو بچہ سمجھتا ہے کہ اختلاف کا یہی طریقہ ہے۔ اگر گھر میں جھوٹ عام ہے تو جھوٹ اس کے لئے کوئی غیر معمولی چیز نہیں رہتا۔ اگر والدین دوسروں کی غیبت کرتے ہیں تو بچہ غیبت کو ایک معمول کی گفتگو سمجھنے لگتا ہے۔ اگر گھر میں ہر روز کسی نہ کسی رشتہ دار، پڑوسی، خاندان یا ہمسائے کی برائی کے لئے ایک پوری ’’مجلس‘‘ قائم ہوتی ہے، تو بچہ اسی ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ پھر ہم اس سے کیوں توقع کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کی عزت کرے گا؟
ہم بچوں کے سامنے دوسروں کے عیب گنواتے ہیں، رشتوں کی برائیاں کرتے ہیں، اپنے جھگڑوں میں انہیں فریق بناتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف ان کے دلوں میں نفرت بھرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ آج کی نسل میں برداشت نہیں، احترام نہیں، محبت نہیں۔
ذرا رک کر سوچیے—یہ سب کچھ اس نسل نے سیکھا کہاں سے ہے؟ ہم نے اسے مہنگے اسکول دیے، مگر کیا ہم نے اسے مہذب گھر دیا؟ ہم نے اسے قیمتی کتابیں دیں، مگر کیا ہم نے اسے اپنا کردار پڑھایا؟
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے دین سے دور کیوں ہیں، اخلاق سے خالی کیوں ہیں، رشتوں کی قدر کیوں نہیں کرتے، والدین کا احترام کیوں نہیں کرتے۔
دین صرف کتابوں میں پڑھنے کی چیز نہیں؛ دین کردار میں نظر آنے والی حقیقت ہے۔ اگر والدین خود نماز، سچائی، امانت، حیا، رحم، عدل اور حسن سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے تو بچے کو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’دین پڑھو‘‘ شاید کافی نہیں ہوگا۔ بچے کو دین کے الفاظ سے پہلے دین کا کردار دکھانا ہوگا۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا: ہم اپنے بچوں کے سامنے کیسے انسان ہیں؟ کیا ہماری زبان سچی ہے؟ کیا ہمارے معاملات صاف ہیں؟ کیا ہم اپنے گھر کی عورتوں کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بیٹی کی عزت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا سکھاتے ہیں؟ کیا ہم غصے میں بھی حدود نہیں بھولتے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں کل اپنے گھروں میں عزت پائیں تو ہمیں آج اپنے گھروں میں ان کی عزت کرنا ہوگی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کل اپنی بیویوں کا احترام کریں تو انہیں آج اپنی ماؤں اور بہنوں کا احترام کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اولاد بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنے تو ہمیں بچپن میں اسے محبت، تحفظ اور اعتماد کا سہارا دینا ہوگا۔
اولاد اگر زندگی کے کسی مرحلے پر مشکلات سے گزر رہی/رہا ہے، اس کی شادی نہیں ہو رہی، وہ اپنے خوابوں کے بارے میں پریشان ہے، تو اسے یہ احساس دلانے کے بجائے کہ ’’تم ہمارے لئے بوجھ ہو‘‘، اسے یہ یقین دلائیے کہ تم بوجھ نہیں ہو؛ تم ہماری اولاد ہو، ہماری ذمہ داری ہو، ہماری محبت ہو۔
اسے اپنے گھر میں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ اپنی شکست بیان کر سکے، اپنی خواہش کا اظہار کر سکے، اپنے خوف کے بارے میں بات کر سکے اور یہ جان سکے کہ دنیا اسے قبول کرے یا نہ کرے، اس کے والدین کا گھر اس کے لئے محفوظ ہے۔
بچے کو ہر وقت ڈانٹ کر، دھمکا کر اور اس کی غلطیوں کو گنوا کر ہم اسے مضبوط نہیں بناتے۔ کبھی اسے اپنے پاس بٹھا کر دیکھیے، اس کی بات سنیے، اس کے ساتھ وقت گزاریے، اسے یہ احساس دیجیے کہ اس کی ذات اہم ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے گھر میں محبت، توجہ اور قبولیت ملتی ہے، وہ باہر کی دنیا سے غلط جگہوں پر محبت تلاش کرنے کے امکانات سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
آج ہم معاشرے میں نشے، تشدد، خود اذیتی، گھریلو تنازعات، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ذہنی بے سکونی کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ کر صرف معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یقیناً ان مسائل کے کئی اسباب ہیں اور تمام ذمہ داری والدین پر ڈال دینا درست نہیں؛ لیکن ہمیں اپنے حصے کی ذمہ داری سے بھی فرار نہیں ہونا چاہیے۔ ہر والدین کو کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
تربیت کا آغاز بچے سے نہیں، والدین سے ہونا چاہیے۔
ہمیں تاریخ اسلام کی ان عظیم ماؤں کو پڑھنا چاہیے جن کی آغوشوں نے امت کو عظیم کردار عطا کیے۔ ہمیں ان ماؤں کے صبر، ایمان، قربانی، حیا اور تربیت کو سمجھنا چاہیے جنہوں نے اپنی اولاد میں صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ مقصد زندگی، دین، غیرت، شجاعت اور انسانیت کا شعور پیدا کیا۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ جیسے عظیم کرداروں کے پیچھے بھی ایک ایسی تربیت تھی جس نے گھر کو کردار سازی کی پہلی درسگاہ بنایا۔ صحابیاتؓ کی زندگیوں میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ماں صرف بچے کو جنم دینے والی ہستی نہیں؛ وہ نسلوں کی معمار ہوتی ہے۔
ایک ماں اور باپ اگر اپنے گھر کو محبت، احترام، سچائی اور دین کا مرکز بنا دیں تو وہ صرف اپنے چند بچوں کی تربیت نہیں کر رہے ہوتے؛ وہ آنے والی نسلوں کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک صالح گھر ایک صالح فرد پیدا کرتا ہے، صالح افراد ایک صالح معاشرہ بناتے ہیں، اور صالح معاشرہ ہی ایک مضبوط امت کی بنیاد بنتا ہے۔
اس لئے میری والدین سے صرف ایک گزارش ہے:
اپنے بچوں کو نصیحتیں دینے سے پہلے انہیں اپنا کردار دکھائیے۔
انہیں سچ بولنے کا درس دینے سے پہلے خود سچ بولئے۔
انہیں دوسروں کی عزت سکھانے سے پہلے اپنے گھر والوں کی عزت کیجیے۔
انہیں دین کی کتابیں دینے سے پہلے دین کو اپنی زندگی میں اتاریے۔
انہیں محبت کرنا سکھانے سے پہلے خود محبت بانٹیے۔
کیونکہ بچہ وہ نہیں بنتا جو ہم اسے صرف کہتے ہیں؛
بچہ اکثر وہ بن جاتا ہے جو وہ ہمیں بنتے ہوئے دیکھتا ہے۔
اور شاید یہی تربیت کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اولاد کی اصلاح کے لئے ہمیشہ اولاد کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ہمیں خود کو بدلنا پڑتا ہے۔
آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل ہمارے بچے ایک بہتر معاشرے کے باکردار فرد بنیں، تو ہمیں آج اپنے گھروں کو بہتر بنانا ہوگا۔ کیونکہ معاشرہ باہر سے نہیں بنتا، معاشرہ گھروں کے اندر تشکیل پاتا ہے۔
اور ہر عظیم معاشرے کی بنیاد ایک ایسے گھر سے اٹھتی ہے جہاں والدین صرف بچوں کی پرورش نہیں کرتے، بلکہ ان کے کردار کی تعمیر کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

والدین کا عمل اولاد کا عکس

 

مہر النساء قریشی

ہندوارہ کشمیر

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رفاقت اور انس کی طلب بھی رکھی۔ اسی لئے انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان پر قائم کی اور مرد و عورت کے درمیان ایک فطری کشش پیدا فرمائی، جس کا پاکیزہ اور باوقار راستہ نکاح قرار دیا۔ نکاح کے بعد جب ایک گھر میں اولاد کی آمد ہوتی ہے تو وہ لمحہ والدین کی زندگی کے حسین ترین لمحات میں سے ایک ہوتا ہے۔ ایک ننھی سی جان جب ان کی گود میں آتی ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ وہ اس ننھے وجود میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں، اپنی امیدیں دیکھتے ہیں اور اپنے خوابوں کو اس سے وابستہ کر لیتے ہیں۔
والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد دنیا کی بہترین اولاد بنے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے، بہترین ادارے میں پڑھے، ایک کامیاب پیشہ اختیار کرے، معاشرے میں عزت و مقام حاصل کرے اور زندگی کی ہر آسائش سے بہرہ مند ہو۔ چنانچہ وہ اس کے لئے بہترین اسکول تلاش کرتے ہیں، بہترین لباس خریدتے ہیں، بہترین غذا کا انتظام کرتے ہیں، اس کے آرام و آسائش کا خیال رکھتے ہیں اور اس کے روشن مستقبل کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں۔
لیکن اسی دوڑ میں، اسی فکرمندی میں، اسی خواہش کامیابی میں ہم اکثر ایک نہایت بنیادی اور اہم عنصر کو نظر انداز کر دیتے ہیں "تربیت”۔
ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ بچے کا لباس اچھا ہونا چاہیے، اس کی غذا متوازن ہونی چاہیے، اس کا اسکول بہترین ہونا چاہیے، اس کا کیریئر شاندار ہونا چاہیے؛ مگر ہم کبھی کبھی یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب سے بڑھ کر اس کے کردار کا خوب صورت ہونا ضروری ہے۔
ہم بچے کے جسم کی پرورش کے لئے فکر مند رہتے ہیں، مگر اس کی روح کی پرورش سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے سرمایہ جمع کرتے ہیں، مگر اس کے کردار کو مضبوط بنانے کے لئے وقت نہیں دیتے۔ ہم اسے دنیا میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی صرف اچھی ملازمت، بلند عہدے یا دولت کا نام نہیں۔
حقیقی کامیابی یہ ہے کہ ہمارا بچہ ایک اچھا انسان بنے۔
اس کے اندر احترام ہو، احساس ہو، سچائی ہو، حیا ہو، ذمہ داری کا شعور ہو، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت ہو۔ وہ علم کے ساتھ کردار کا بھی حامل ہو، اور کامیابی کے ساتھ انسانیت کو بھی اپنے اندر زندہ رکھے۔
کیونکہ تعلیم انسان کو قابل بنا سکتی ہے، مگر تربیت اسے قابل احترام بناتی ہے۔
اسی لئے تربیت اولاد کوئی اضافی ذمہ داری نہیں، بلکہ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جس طرح ایک پودے کو صرف پانی ہی نہیں بلکہ مناسب روشنی، نگہداشت اور سمت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک بچے کو صرف تعلیم، غذا اور آسائش نہیں بلکہ محبت، توجہ، رہنمائی اور بہترین تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیونکہ آج کا بچہ صرف ایک فرد نہیں، کل کی ایک پوری نسل کا معمار ہے۔ اور اس معمار کی پہلی درسگاہ اسکول نہیں، گھر ہے؛ پہلی کتاب نصاب نہیں، والدین کا کردار ہے؛ اور پہلا سبق الفاظ نہیں، والدین کا عمل ہے۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری اسکول کی ہے۔ ہم اسے ایک اچھے اور مہنگے اسکول میں داخل کرواتے ہیں، بہترین کتابیں خرید کر دیتے ہیں، یونیفارم سے لے کر ہر سہولت تک اس کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور پھر یہ توقع رکھتے ہیں کہ استاد ہمارے بچے کو ایک بااخلاق، باکردار، مہذب اور ذمہ دار انسان بنا کر ہمارے حوالے کرے گا۔ بلاشبہ اسکول اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، استاد اپنی پوری کوشش کرتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک استاد، جو بیک وقت تیس، چالیس بلکہ پچاس بچوں کو پڑھا رہا ہو، وہ وہ کام بھی کر سکتا ہے جو ایک گھر اپنے ایک یا دو بچوں کے ساتھ کرنے سے قاصر ہے؟
اسکول تعلیم دے سکتا ہے، تربیت میں معاون بن سکتا ہے، راستہ دکھا سکتا ہے؛ لیکن تربیت کی پہلی اور سب سے مؤثر درسگاہ گھر ہے۔
بچہ اپنے والدین کو صرف سنتا نہیں، انہیں دیکھتا ہے۔ وہ ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے اعمال کو یاد رکھتا ہے۔ والدین کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت، گفتگو کا انداز، غصے کا طریقہ، دوسروں سے برتاؤ، جھوٹ بولنے کا انداز، معافی مانگنے کا سلیقہ، کمزور کے ساتھ رویہ، گھر کے افراد کی عزت یا تذلیل، یہ سب کچھ خاموشی سے بچے کے ذہن میں نقش ہوتا رہتا ہے۔ وہ شعوری طور پر شاید کچھ نہ کہے، مگر لاشعوری طور پر اپنے والدین کے کردار کو اپنے لئے نمونہ بنا لیتا ہے۔
اگر ایک بچہ اپنے گھر میں یہ دیکھتا ہے کہ باپ ماں کی توہین کرتا ہے، اسے گالی دیتا ہے، اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے یا اسے مسلسل ذہنی اذیت دیتا ہے، تو اس بچے کے ذہن میں عورت کے احترام کا تصور کس طرح مضبوط ہوگا؟ آپ اسے کتابیں پڑھا سکتے ہیں، اسے اخلاقیات کے اسباق دے سکتے ہیں، اسے تشدد کے نقصانات سمجھا سکتے ہیں؛ مگر جو چیز وہ روزانہ اپنے گھر میں دیکھ رہا ہے، وہ اس کے ذہن پر ان تمام اسباق سے کہیں گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’ہم نے اپنے بچے کو بہت پڑھایا ہے۔‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے اپنے عمل سے کیا سکھایا ہے؟
اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو بچہ سمجھتا ہے کہ اختلاف کا یہی طریقہ ہے۔ اگر گھر میں جھوٹ عام ہے تو جھوٹ اس کے لئے کوئی غیر معمولی چیز نہیں رہتا۔ اگر والدین دوسروں کی غیبت کرتے ہیں تو بچہ غیبت کو ایک معمول کی گفتگو سمجھنے لگتا ہے۔ اگر گھر میں ہر روز کسی نہ کسی رشتہ دار، پڑوسی، خاندان یا ہمسائے کی برائی کے لئے ایک پوری ’’مجلس‘‘ قائم ہوتی ہے، تو بچہ اسی ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ پھر ہم اس سے کیوں توقع کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کی عزت کرے گا؟
ہم بچوں کے سامنے دوسروں کے عیب گنواتے ہیں، رشتوں کی برائیاں کرتے ہیں، اپنے جھگڑوں میں انہیں فریق بناتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف ان کے دلوں میں نفرت بھرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ آج کی نسل میں برداشت نہیں، احترام نہیں، محبت نہیں۔
ذرا رک کر سوچیے—یہ سب کچھ اس نسل نے سیکھا کہاں سے ہے؟ ہم نے اسے مہنگے اسکول دیے، مگر کیا ہم نے اسے مہذب گھر دیا؟ ہم نے اسے قیمتی کتابیں دیں، مگر کیا ہم نے اسے اپنا کردار پڑھایا؟
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے دین سے دور کیوں ہیں، اخلاق سے خالی کیوں ہیں، رشتوں کی قدر کیوں نہیں کرتے، والدین کا احترام کیوں نہیں کرتے۔
دین صرف کتابوں میں پڑھنے کی چیز نہیں؛ دین کردار میں نظر آنے والی حقیقت ہے۔ اگر والدین خود نماز، سچائی، امانت، حیا، رحم، عدل اور حسن سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے تو بچے کو صرف یہ کہہ دینا کہ ’’دین پڑھو‘‘ شاید کافی نہیں ہوگا۔ بچے کو دین کے الفاظ سے پہلے دین کا کردار دکھانا ہوگا۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا: ہم اپنے بچوں کے سامنے کیسے انسان ہیں؟ کیا ہماری زبان سچی ہے؟ کیا ہمارے معاملات صاف ہیں؟ کیا ہم اپنے گھر کی عورتوں کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بیٹی کی عزت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا سکھاتے ہیں؟ کیا ہم غصے میں بھی حدود نہیں بھولتے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں کل اپنے گھروں میں عزت پائیں تو ہمیں آج اپنے گھروں میں ان کی عزت کرنا ہوگی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کل اپنی بیویوں کا احترام کریں تو انہیں آج اپنی ماؤں اور بہنوں کا احترام کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اولاد بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنے تو ہمیں بچپن میں اسے محبت، تحفظ اور اعتماد کا سہارا دینا ہوگا۔
اولاد اگر زندگی کے کسی مرحلے پر مشکلات سے گزر رہی/رہا ہے، اس کی شادی نہیں ہو رہی، وہ اپنے خوابوں کے بارے میں پریشان ہے، تو اسے یہ احساس دلانے کے بجائے کہ ’’تم ہمارے لئے بوجھ ہو‘‘، اسے یہ یقین دلائیے کہ تم بوجھ نہیں ہو؛ تم ہماری اولاد ہو، ہماری ذمہ داری ہو، ہماری محبت ہو۔
اسے اپنے گھر میں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ اپنی شکست بیان کر سکے، اپنی خواہش کا اظہار کر سکے، اپنے خوف کے بارے میں بات کر سکے اور یہ جان سکے کہ دنیا اسے قبول کرے یا نہ کرے، اس کے والدین کا گھر اس کے لئے محفوظ ہے۔
بچے کو ہر وقت ڈانٹ کر، دھمکا کر اور اس کی غلطیوں کو گنوا کر ہم اسے مضبوط نہیں بناتے۔ کبھی اسے اپنے پاس بٹھا کر دیکھیے، اس کی بات سنیے، اس کے ساتھ وقت گزاریے، اسے یہ احساس دیجیے کہ اس کی ذات اہم ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے گھر میں محبت، توجہ اور قبولیت ملتی ہے، وہ باہر کی دنیا سے غلط جگہوں پر محبت تلاش کرنے کے امکانات سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
آج ہم معاشرے میں نشے، تشدد، خود اذیتی، گھریلو تنازعات، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ذہنی بے سکونی کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ کر صرف معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یقیناً ان مسائل کے کئی اسباب ہیں اور تمام ذمہ داری والدین پر ڈال دینا درست نہیں؛ لیکن ہمیں اپنے حصے کی ذمہ داری سے بھی فرار نہیں ہونا چاہیے۔ ہر والدین کو کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
تربیت کا آغاز بچے سے نہیں، والدین سے ہونا چاہیے۔
ہمیں تاریخ اسلام کی ان عظیم ماؤں کو پڑھنا چاہیے جن کی آغوشوں نے امت کو عظیم کردار عطا کیے۔ ہمیں ان ماؤں کے صبر، ایمان، قربانی، حیا اور تربیت کو سمجھنا چاہیے جنہوں نے اپنی اولاد میں صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ مقصد زندگی، دین، غیرت، شجاعت اور انسانیت کا شعور پیدا کیا۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ جیسے عظیم کرداروں کے پیچھے بھی ایک ایسی تربیت تھی جس نے گھر کو کردار سازی کی پہلی درسگاہ بنایا۔ صحابیاتؓ کی زندگیوں میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ماں صرف بچے کو جنم دینے والی ہستی نہیں؛ وہ نسلوں کی معمار ہوتی ہے۔
ایک ماں اور باپ اگر اپنے گھر کو محبت، احترام، سچائی اور دین کا مرکز بنا دیں تو وہ صرف اپنے چند بچوں کی تربیت نہیں کر رہے ہوتے؛ وہ آنے والی نسلوں کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک صالح گھر ایک صالح فرد پیدا کرتا ہے، صالح افراد ایک صالح معاشرہ بناتے ہیں، اور صالح معاشرہ ہی ایک مضبوط امت کی بنیاد بنتا ہے۔
اس لئے میری والدین سے صرف ایک گزارش ہے:
اپنے بچوں کو نصیحتیں دینے سے پہلے انہیں اپنا کردار دکھائیے۔
انہیں سچ بولنے کا درس دینے سے پہلے خود سچ بولئے۔
انہیں دوسروں کی عزت سکھانے سے پہلے اپنے گھر والوں کی عزت کیجیے۔
انہیں دین کی کتابیں دینے سے پہلے دین کو اپنی زندگی میں اتاریے۔
انہیں محبت کرنا سکھانے سے پہلے خود محبت بانٹیے۔
کیونکہ بچہ وہ نہیں بنتا جو ہم اسے صرف کہتے ہیں؛
بچہ اکثر وہ بن جاتا ہے جو وہ ہمیں بنتے ہوئے دیکھتا ہے۔
اور شاید یہی تربیت کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اولاد کی اصلاح کے لئے ہمیشہ اولاد کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ہمیں خود کو بدلنا پڑتا ہے۔
آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل ہمارے بچے ایک بہتر معاشرے کے باکردار فرد بنیں، تو ہمیں آج اپنے گھروں کو بہتر بنانا ہوگا۔ کیونکہ معاشرہ باہر سے نہیں بنتا، معاشرہ گھروں کے اندر تشکیل پاتا ہے۔
اور ہر عظیم معاشرے کی بنیاد ایک ایسے گھر سے اٹھتی ہے جہاں والدین صرف بچوں کی پرورش نہیں کرتے، بلکہ ان کے کردار کی تعمیر کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں