
اسحاق گورا
آج کی دنیا میں سیاست صرف ایوانوں، پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا و زیریں، انتخابی میدانوں اور سیاسی جلسوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی خبر کے لئے اخبار کا انتظار کیا جاتا تھا، کسی رہنما کی تقریر سننے کے لئے جلسہ گاہ کا رخ کرنا پڑتا تھا اور قومی و ملی مسائل پر رائے قائم کرنے کے لئے اہلِ علم اور تجربہ کار لوگوں کی گفتگو سنی جاتی تھی۔ لیکن آج ایک چھوٹا سا موبائل فون خبر، تبصرہ، تجزیہ، اختلاف اور سیاست—سب کچھ انسان کی جیب میں لئے پھرتا ہے۔ایک پوسٹ چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہے، ایک ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نگاہوں سے گزر جاتی ہے اور ایک جملہ کبھی کبھی پورے معاشرے کی سیاسی گفتگو کا محور بن جاتا ہے۔یہ تبدیلی بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس نئی طاقت کو کس مقصد کے لئے استعمال کیا ہے؟ نئی نسل آج پہلے کے مقابلے میں زیادہ باخبر ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، بحث کرتی ہے، حکومت سے جواب طلب کرتی ہے، سیاسی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیتی ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں رونما ہونے والے واقعات سے چند لمحوں میں واقف ہوجاتی ہے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے اور جمہوری معاشرے کے لئے ایک بڑی امید بھی۔لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔معلومات کی فراوانی ہمیشہ شعور کی گہرائی پیدا نہیں کرتی۔ کبھی خبر اتنی تیزی سے پہنچتی ہے کہ تحقیق اس کے پیچھے رہ جاتی ہے۔ رائے اتنی جلدی قائم ہوجاتی ہے کہ فکر کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ایک مختصر ویڈیو پورے واقعے کا متبادل بن جاتی ہے اور چند سطریں ایک طویل حقیقت پر فیصلہ صادر کردیتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں نئی نسل کی سیاسی بصیرت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
سیاست صرف یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ سیاست یہ بھی ہے کہ سڑک کس کے لئے بن رہی ہے، اسکول میں تعلیم کا معیار کیا ہے، اسپتال میں سہولتیں کیوں کم ہیں، نوجوان کو روزگار کیوں نہیں مل رہا، کسان اپنی پیداوار کے لئے کیوں پریشان ہے اور ایک عام شہری اپنے حق کے لئے کس دروازے پر دستک دے۔اگر ہماری سیاسی گفتگو ان سوالات سے کٹ جائے اور صرف سوشل میڈیا کی پسند، ناپسند اور وائرل ویڈیوز تک محدود ہوجائے تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم سیاست کررہے ہیں یا محض سیاست دیکھ رہے ہیں؟سوشل میڈیا نے نئی نسل کو ایک بڑی آواز دی ہے۔ پہلے کسی عام نوجوان کی بات شاید اس کے محلے سے آگے نہ جاتی ہو، آج وہی بات چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے ایک بڑی قوت ہے۔ مگر آواز کا بلند ہونا اور آواز کا مؤثر ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔آواز اسی وقت اثر پیدا کرتی ہے جب اس کے پیچھے علم ہو، دلیل ہو، تحقیق ہو، اخلاق ہو اور مقصد ہو۔آج سوشل میڈیا پر ایک عجیب قسم کی سیاسی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اختلاف کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے اور سوال کو مخالفت۔کسی سیاسی رہنما کی حمایت کرنے والا بعض اوقات اس کے ہر فیصلے کا دفاع اپنا فرض سمجھ لیتا ہے، جبکہ کسی رہنما کا مخالف اس کے ہر قدم میں خامی تلاش کرنے کو اپنا سیاسی کردار سمجھتا ہے۔یوں سیاست مسئلے سے نکل کر شخصیت کے گرد گھومنے لگتی ہے اور اصل سوال پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔حالاں کہ ایک ذمہ دار شہری کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کس جماعت کے ساتھ کھڑا ہے؛ اصل پہچان یہ ہے کہ وہ درست بات کے ساتھ کتنی دیر کھڑا رہ سکتا ہے۔
نئی نسل کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ سیاسی وابستگی اور اندھی پیروی ایک چیز نہیں۔ کسی جماعت یا رہنما سے متاثر ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن اپنے ضمیر کو کسی شخصیت کے حوالے کردینا ایک خطرناک رویہ ہے۔جمہوریت میں رہنما عوام کا نمائندہ ہوسکتا ہے، مالک نہیں۔ ووٹ ایک امانت ہے، کسی شخصیت کے نام کی سند نہیں۔اسی طرح مخالفت بھی بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں ہونی چاہیے۔ ہر بات کی مخالفت انصاف نہیں اور ہر بات کی تائید وفاداری نہیں۔ کبھی حق اپنی پسند کی طرف ہوتا ہے اور کبھی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ۔ سیاست کی اصل آزمائش اسی مقام پر ہوتی ہے جہاں انسان اپنے ذاتی رجحان سے اوپر اٹھ کر مسئلے کو دیکھتا ہے۔آج کی نوجوان نسل کے سامنے سب سے بڑا چیلنج شاید معلومات کی کمی نہیں بلکہ درست معلومات کا انتخاب ہے۔ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آتے ہیں۔ ویڈیو کا ایک حصہ پورا واقعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک تصویر کو دیکھ کر فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ کسی پوسٹ کو صرف اس لئے سچ مان لیا جاتا ہے کہ اسے ہزاروں لوگوں نے شیئر کیا ہے۔حالاں کہ مقبول ہونا اور درست ہونا دو مختلف حقیقتیں ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان سیاسی طور پر صرف ردِعمل دینے والی نسل نہ بنیں بلکہ مطالعہ کرنے والی نسل بنیں۔ صرف سیاسی رہنماؤں کے بیانات نہ پڑھیں بلکہ آئین بھی پڑھیں۔ صرف انتخابی نتائج پر گفتگو نہ کریں بلکہ جمہوری اداروں کے کردار کو بھی سمجھیں۔ صرف سوشل میڈیا کے رجحانات نہ دیکھیں بلکہ اپنے شہر، اپنے ضلع اور اپنے محلے کے مسائل کو بھی جانیں۔
یہی وہ راستہ ہے جو سوشل میڈیا کی بحث کو زمینی سیاست سے جوڑ سکتا ہے۔اگر کوئی نوجوان روزانہ کئی گھنٹے سیاسی ویڈیوز دیکھتا ہے، لیکن اپنے محلے کی ٹوٹی ہوئی سڑک، سرکاری اسکول کی حالت، اسپتال کی کمی یا بے روزگار نوجوانوں کی پریشانی سے بے خبر ہے تو اس کی سیاسی معلومات ابھی ادھوری ہیں۔کیونکہ سیاست کا پہلا میدان وہی معاشرہ ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر نوجوان انتخاب لڑے۔ لیکن ہر نوجوان کا باشعور شہری ہونا ضروری ہے۔ کوئی تعلیم کے میدان میں خدمت کرسکتا ہے، کوئی صحافت میں، کوئی سماجی خدمت میں، کوئی قانون کے شعبے میں اور کوئی مقامی حکومت کے نظام میں۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ یہ مسلسل بیدار رہنے، سوال کرنے، ذمہ داری نبھانے اور اپنے حق کے ساتھ اپنے فرض کو پہچاننے کا نام بھی ہے۔نئی نسل اگر واقعی سیاست کو بدلنا چاہتی ہے تو اسے صرف سیاسی چہروں کی تبدیلی کی بات نہیں کرنی چاہیے، بلکہ سیاسی رویوں کی تبدیلی کی بات بھی کرنی چاہیے۔ہمیں ایسی سیاست درکار ہے جس میں شور کم اور شعور زیادہ ہو؛ نعرے کم اور سوال زیادہ ہوں؛ الزام کم اور احتساب زیادہ ہو؛ شخصیت کم اور اصول زیادہ ہوں۔
سوشل میڈیا نے ہمیں بولنے کا موقع دیا ہے، اب ہمیں سننے کا ہنر پیدا کرنا ہوگا۔ اس نے ہمیں اپنی رائے رکھنے کی آزادی دی ہے، اب ہمیں اپنی رائے پر نظرِ ثانی کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اس نے ہمیں سوال کرنے کی طاقت دی ہے، اب ہمیں جواب سننے کا صبر بھی پیدا کرنا ہوگا۔یہی سیاسی پختگی ہے۔آج کے نوجوان کو سمجھنا ہوگا کہ اس کے ہاتھ میں موجود موبائل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو معاشرے کی سمت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایک جھوٹی خبر نفرت پیدا کرسکتی ہے اور ایک درست اطلاع کسی مظلوم کی آواز بن سکتی ہے۔ ایک غلط الزام کسی کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایک ذمہ دار تحریر ہزاروں لوگوں کی سوچ کو درست سمت دے سکتی ہے۔اس لئے کچھ لکھنے سے پہلے سوچنا بھی سیاسی ذمہ داری ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر انتخابات کے زمانے میں سیاسی بیداری نمایاں ہوتی ہے۔ پرچم نکلتے ہیں، جلسے ہوتے ہیں، بحثیں ہوتی ہیں، امیدواروں کے نام یاد کیے جاتے ہیں اور ووٹنگ کے دن خاص جوش و خروش نظر آتا ہے۔لیکن انتخاب کے بعد یہی عوام کئی مرتبہ پانچ سال تک خاموش رہتی ہے۔یہ خاموشی جمہوریت کی طاقت نہیں، اس کی کمزوری بن سکتی ہے۔جمہوریت میں شہری کی ذمہ داری انتخابات کے دن ختم نہیں ہوتی؛ اصل ذمہ داری تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ حکومت سے سوال کرنا، وعدوں کو یاد دلانا، اپنے حقوق کو سمجھنا، اپنے فرائض کو ادا کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقوں کی آواز بننا بھی شہری ذمہ داری ہے۔اگر نئی نسل اس حقیقت کو سمجھ لے تو آنے والی سیاست کا چہرہ بدل سکتا ہے۔ہمیں ایسی نوجوان نسل چاہیے جو کسی وائرل ویڈیو سے نہیں بلکہ اپنے علم سے متاثر ہو؛ کسی نعرے سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے فیصلہ کرے؛ کسی شخصیت سے نہیں بلکہ اصول سے وفاداری کرے۔کیونکہ ملک کی سیاست صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتی۔ وہ گھر میں بنتی ہے، اسکول میں بنتی ہے، کالج میں بنتی ہے، محلے میں بنتی ہے اور آج موبائل کی اسکرین پر بھی بنتی ہے۔لیکن اسکرین سے سڑک تک کا سفر طے کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا کی بحث اگر زمینی خدمت سے جڑ جائے تو یہ تبدیلی کی قوت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ صرف غصے، طنز، الزام اور تکرار کا میدان بن کر رہ جائے تو یہی قوت معاشرے کو جوڑنے کے بجائے تقسیم بھی کرسکتی ہے۔آج نئی نسل کے سامنے انتخاب واضح ہے: اسے صرف تماشائی بننا ہے یا شریکِ عمل؛ صرف تبصرہ کرنا ہے یا کردار بھی ادا کرنا ہے؛ صرف سوال اٹھانا ہے یا جواب دہی کے عمل کا حصہ بھی بننا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کی سیاست سے نکل کر زمینی سیاست کی طرف آئیں۔ اپنے علاقے کو جانیں، اپنے حقوق کو سمجھیں، اپنے فرائض کو پہچانیں، اپنے نمائندوں سے سوال کریں اور اپنی آواز کو معاشرے کی تعمیر کے لئے استعمال کریں۔کیونکہ آنے والی سیاست صرف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے ہاتھ میں نہیں ہوگی۔
وہ اس نوجوان کے ہاتھ میں بھی ہوگی، جس کے ہاتھ میں آج ایک موبائل فون ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ وہ اس موبائل سے صرف دنیا دیکھے گا، یا اپنی دنیا بدلنے کا ہنر بھی سیکھے گا؟


