
اطہر شبیر
پٹن بارہمولہ
دنیا میں بے شمار مخلوقات ہیں اور ہر مخلوق کی اپنی ایک قدر و منزلت ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہے، اور اسی نے انسانی نسل کی بقا اور پرورش کے لئے عورت کو ایک عظیم ذمہ داری عطا کی ہے۔ عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ انسانی نسل کی پرورش کا وہ مضبوط ستون ہے جس کے وجود سے خاندان اور معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ہم نے صدیوں سے عورت کو کمزور، کم فہم اور محتاج سمجھنے کی کوشش کی، لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ اگر عورت واقعی کمزور ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے حمل، ولادت، پرورش اور نسلوں کی تربیت جیسی عظیم ذمہ داریاں کیوں سونپتا؟ حقیقت یہ ہے کہ عورت کے وجود میں صبر، برداشت، حوصلہ، محبت اور قربانی کی وہ بے مثال قوتیں موجود ہیں جو اسے ایک مضبوط انسان بناتی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے آخر عورت کو سمجھا کیا ہے؟
ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ہماری آنکھوں سے پوشیدہ نہیں۔ اسے جس عزت، احترام اور قدر کی مستحق ہونا چاہیے، افسوس کہ وہ اکثر اسے نہیں مل پاتی۔ کیا ہم شادی اس لئے کرتے ہیں کہ گھر کے کام کرنے کے لئے ہمیں ایک انسان مل جائے؟ کیا بیوی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ صبح سے شام تک گھر کے کام کرے، کھانا پکائے، صفائی کرے، سب کی خدمت کرے اور گھر کی ہر ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے؟افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کی سوچ کچھ ایسی ہی بن چکی ہے۔ شادی کے بعد عورت کو بیوی اور شریکِ حیات سمجھنے کے بجائے ایک ایسی کام کرنے والی مشین سمجھ لیا جاتا ہے جو گھر کے تمام کام سنبھال لے گی۔ حالانکہ شادی دو انسانوں کے درمیان ایک رشتہ، ایک ذمہ داری، ایک ساتھ اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کا نام ہے۔ یہ کسی گھر کے لئے مفت ملازم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔
ایک حاملہ عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مجھے اس موضوع پر لکھنے کے لئے مجبور کیا۔ وہ اپنی زندگی کے اس خوبصورت مرحلے میں تھی جب صرف بیس دن بعد اس کے آنگن میں ایک ننھا سا پھول کھلنے والا تھا۔ گھر میں آنے والے بچے کی خوشی اپنی جگہ، لیکن اس وقت اس عورت کو سب سے زیادہ آرام، توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔اس کے برعکس، وہ صبح اٹھنے سے شام تک گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی تھی۔ نہ اس کی تھکن کی پرواہ کی گئی، نہ اس کی حالت کا خیال رکھا گیا۔ اسے ایسے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا، جن سے اسے آرام کی ضرورت کے باوجود نجات نہ مل سکی۔ سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ وہ عورت حمل کے آخری مرحلے میں تھی، مگر اس کے باوجود اسے آرام اور دیکھ بھال کے بجائے مسلسل کام کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ اس کی جسمانی حالت، کمزوری اور حمل کی نزاکت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر کام کا دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ گھر کے تمام کام اسے ہر حال میں کرنے ہی ہیں۔ گویا اس کے لئے حمل بھی کوئی عذر نہیں تھا اور نہ ہی اس کی تکلیف کو انسان ہونے کے ناتے کوئی اہمیت دی گئی۔یہ صرف کام لینے کی بات نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کے استحصال کی تصویر ہے جو خود ایک نئی زندگی کو جنم دینے کے مرحلے میں تھی۔ جس وقت اسے شوہر، گھر والوں اور معاشرے کی طرف سے سہارا، آرام اور محبت کی ضرورت تھی، اسی وقت اسے ایک مشین کی طرح کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو عورت ایک نئی زندگی کو دنیا میں لانے کے لئے اپنی جان، صحت اور سکون داؤ پر لگا دیتی ہے، اسی کے آرام اور تکلیف کو ہم معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ جو عورت اپنے وجود کے اندر ایک انسان کی پرورش کر رہی ہو، کیا وہ محبت، توجہ اور آرام کی مستحق نہیں؟عورت سے ہم نے ہمیشہ قربانی مانگی، لیکن کیا کبھی اسے اس کا حق دیا؟ ہم نے اس سے وفاداری مانگی، مگر کیا اسے اعتماد دیا؟ ہم نے اس سے محبت مانگی، مگر کیا اسے محبت دی؟ ہم نے اس سے گھر سنبھالنے کی توقع کی، مگر کیا کبھی اس کے تھکے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کی؟
شاید ہمیں عورت کو سمجھنے کے لئے اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ عورت کمزور نہیں؛ وہ وہ ہستی ہے جو اپنی تکلیف چھپا کر دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لاتی ہے۔ وہ اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں پر قربان کرتی ہے اور اکثر اپنی ضرورت سے پہلے اپنے گھر والوں کی ضرورت کو ترجیح دیتی ہے.عورت کو ترس نہیں، احترام چاہیے؛ احسان نہیں، حق چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ اس کی قربانیاں دیکھی اور سمجھی جاتی ہیں. جس عورت نے نسلوں کو جنم دیا، گھروں کو سنبھالا اور رشتوں کو اپنی قربانیوں سے زندہ رکھا، اسے محض ایک کام کرنے والی مشین سمجھنا دراصل عورت کی نہیں، ہماری اپنی سوچ کی توہین ہے۔ عورت کو بدلنے سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عورت کو عزت دینا صرف عورت کا حق نہیں، بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔


