
محمد مسلم کبیر
دنیا کی تاریخ میں بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا مقام کسی ایک قوم، خطے، زبان یا زمانے کی حدود میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ انسانیت کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی ایسی ہی عظیم المرتبت ہستی ہیں۔ آپ ﷺ بلاشبہ مسلمانوں کے نبی، رسول اور رہبر ہیں، لیکن قرآنِ مجید آپ ﷺ کی بعثت کو صرف مسلمانوں یا عربوں تک محدود نہیں کرتا، بلکہ آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سوال محض مذہبی عقیدے کا نہیں بلکہ انسانی تاریخ، اخلاق، سماج اور تہذیب کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا حضرت محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے ہیں؟
اس سوال کا جواب قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ اور خود رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل میں نہایت واضح طور پر موجود ہے۔
قرآن کی گواہی: آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(الانبیاء: 107)
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘
یہاں قرآن نے ’’رحمۃ للمسلمین‘‘ نہیں کہا بلکہ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ فرمایا۔ ’’العالمین‘‘ میں تمام جہان شامل ہیں۔ اس قرآنی تعبیر سے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا آفاقی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ صرف ان لوگوں تک محدود نہیں تھا جنہوں نے آپ ﷺ کی دعوت قبول کر لی تھی، بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات میں غیر مسلموں، کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں، عورتوں، غلاموں، مسافروں، حتیٰ کہ جانوروں کے حقوق تک بیان کیے گئے ہیں۔
قرآن نے آپ ﷺ کو پوری انسانیت کا رسول قرار دیا ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(الاعراف: 158)
یہاں خطاب ’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ‘‘ یعنی ’’اے انسانو!‘‘ سے ہے۔ یہ تعبیر بہت معنی خیز ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی دعوت صرف عربوں یا صرف مسلمانوں تک محدود ہوتی تو قرآن کے اس عالمی خطاب کی کوئی گنجائش نہ تھی۔
قرآن مزید فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا
(سبأ: 28)
’’اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔‘‘
لہٰذا اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی نبوت کسی مخصوص نسل، قوم یا جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ عالمگیر ہے۔
’’مسلمانوں کے‘‘ اور ’’صرف مسلمانوں کے‘‘ میں فرق
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ حضرت محمد ﷺ مسلمانوں کے نبی ہیں۔ مسلمان آپ ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، آپ ﷺ سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کے لئے نمونہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن یہ کہنا کہ آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے ہیں، قرآن کے اس آفاقی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا جس میں آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لئے رسول اور تمام جہانوں کے لئے رحمت کہا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی روحانی اور دینی زندگی کا مرکز ضرور ہیں، مگر آپ ﷺ کی اخلاقی میراث پوری انسانیت کے لئے ایک عظیم تاریخی سرمایہ بھی ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت میں انسانیت کا احترام
رسول اللہ ﷺ نے انسان کو اس کی بنیادی انسانی حیثیت کے اعتبار سے عزت دی۔
ایک موقع پر ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟
’’کیا وہ ایک جان نہیں؟‘‘
یہ مختصر جملہ انسانی احترام کے ایک عظیم اصول کی ترجمانی کرتا ہے۔ اختلافِ مذہب اپنی جگہ، لیکن انسان ہونے کی بنیاد پر انسان کی حرمت اپنی جگہ۔
یہی وہ اخلاقی وسعت ہے جو سیرتِ محمدی ﷺ کو محض ایک مذہبی تاریخ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے انسانی اخلاقیات کی تاریخ کا ایک اہم باب بنا دیتی ہے۔
مدینہ کا معاشرہ: مذہبی تنوع کے ساتھ بقائے باہمی
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسا اجتماعی نظم قائم کیا جس میں مختلف قبائل اور مذہبی گروہ موجود تھے۔
میثاقِ مدینہ، جسے جدید علمی بحث میں ایک اہم ابتدائی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مدینہ کے مختلف گروہوں کے باہمی حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین کی ایک کوشش تھی۔ اس معاشرے میں مسلمان، یہودی قبائل اور مختلف قبائلی گروہ شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اجتماعی نظم، معاہدوں کی پابندی، عدل اور باہمی ذمہ داری کو اہمیت دی۔
یہ سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود بھی ایک معاشرے میں انصاف، معاہدے اور باہمی احترام کے اصول قائم کیے جا سکتے ہیں۔
فتحِ مکہ: طاقت کے باوجود معافی
رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کے پاس اقتدار اور طاقت آئی تو آپ ﷺ نے انتقام کو اپنی سیاست کا بنیادی اصول نہیں بنایا۔
مکہ کے وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو برسوں تک اذیتیں دیں، مسلمانوں کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا اور ان کے خلاف جنگیں کیں، جب فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو تاریخ نے طاقت کے بے جا استعمال کے بجائے عفو و درگزر کا منظر دیکھا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی مثال ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قیادت کا مقصد محض دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ معاشرے کو انتقام کے چکر سے نکالنا بھی تھا۔
انسانی مساوات کا عظیم پیغام
حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انسانی مساوات کے ایسے اصول بیان کیے جن کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ آپ ﷺ نے جاہلی عصبیت، نسلی تفاخر اور قبائلی برتری کے تصورات کو رد کیا۔
قرآن نے بھی انسانوں کے تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لئے تقسیم کیا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
یہ آیت انسانی تنوع کو مٹانے کے بجائے اسے تعارف اور باہمی شناخت کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔
آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ دشمنوں تک بھی
رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں آپ ﷺ نے ذاتی انتقام کے بجائے رحمت اور اصلاح کو ترجیح دی۔ طائف کا واقعہ اس سلسلے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ جب اہلِ طائف نے آپ ﷺ کو سخت اذیت پہنچائی تو آپ ﷺ نے ان کی ہلاکت کی خواہش کے بجائے ان کی آئندہ نسلوں کے لئے بھلائی اور ہدایت کی امید ظاہر کی۔
یہ رویہ اس اخلاقی تصور کو واضح کرتا ہے کہ حقیقی اصلاح انسان کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ اسے سنوارنے میں ہے۔
عورت، یتیم، غلام اور کمزور طبقات
بعثتِ محمدی ﷺ سے پہلے عرب معاشرے میں عورت، غلام، یتیم اور کمزور طبقات مختلف نوعیت کے مظالم کا شکار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان طبقات کے حقوق پر خصوصی زور دیا۔
قرآن نے یتیم کے مال کی حفاظت، مسکین کے حق، عورت کے وراثتی حق اور غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لئے بہترین ہے۔‘‘
یہ تعلیم خاندان کو محض اقتدار کا میدان نہیں بلکہ رحمت، ذمہ داری اور حسنِ سلوک کا مرکز بناتی ہے۔
پڑوسی، خواہ کسی بھی مذہب کا ہو
اسلام نے پڑوسی کے حق کو غیر معمولی اہمیت دی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی مسلسل تاکید فرمائی۔
یہاں سیرت کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: عبادت انسان کو انسان سے دور کرنے کے لئے نہیں بلکہ انسان کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار کرتی ہے۔ چنانچہ ایک مسلمان کی دینداری صرف مسجد میں اس کی موجودگی سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، معاملات اور پڑوسیوں کے ساتھ اس کے برتاؤ سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
کیا غیر مسلم رسول اللہ ﷺ سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
یہ سوال بھی اہم ہے۔ کسی غیر مسلم کا حضرت محمد ﷺ کو نبی ماننا اسلامی عقیدے کے مطابق ایمان کا تقاضا ہے، لیکن کوئی غیر مسلم آپ ﷺ کی شخصیت کے اخلاقی، انسانی، تاریخی یا قیادی پہلوؤں سے متاثر ضرور ہو سکتا ہے۔
دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے متعدد اہلِ علم نے حضرت محمد ﷺ کی تاریخی شخصیت، قیادت، قانون سازی، اخلاقی اصلاح اور معاشرتی انقلاب کا مطالعہ کیا ہے۔
اس لئے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کو سمجھنے اور اس سے متاثر ہونے کے لئے مسلمان ہونا شرط نہیں، البتہ آپ ﷺ کو اللہ کا آخری نبی ماننا اسلامی ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور آج کا ہندوستان
ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، پارسی اور مختلف دیگر مذہبی و ثقافتی برادریاں صدیوں سے آباد ہیں۔
ایسے معاشرے میں سیرتِ محمدی ﷺ کا مطالعہ ہمیں باہمی احترام، عدل، انسانی وقار، معاہدوں کی پابندی اور اختلاف کے باوجود پرامن بقائے باہمی کا سبق دیتا ہے۔
اگر مسلمان واقعی رسول اللہ ﷺ کو رحمۃ للعالمین مانتے ہیں تو ان کی زبان، کردار اور معاشرتی رویوں میں بھی اس رحمت کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم آپ ﷺ کا نام احترام سے لیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔
محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا
آج دنیا کو حضرت محمد ﷺ کی سیرت کے جس پہلو کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ اخلاقِ محمدی ﷺ ہے۔ غصے کے مقابلے میں تحمل، نفرت کے مقابلے میں خیرخواہی، ظلم کے مقابلے میں انصاف، انتقام کے مقابلے میں معافی، تکبر کے مقابلے میں تواضع اور کمزوروں کے لئے شفقت—یہ سب سیرتِ نبوی ﷺ کے روشن ابواب ہیں۔
قرآن نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بیان کیا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
(القلم: 4)
’’اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔‘‘
یہی وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کی ذات مسلمانوں کے لئے ایمان کا مرکز اور پوری انسانیت کے لئے ایک عظیم اخلاقی نمونہ بن جاتی ہے۔
تو پھر سوال کا جواب کیا ہے؟
حضرت محمد ﷺ مسلمانوں کے نبی ہیں، لیکن اسلامی عقیدے کے مطابق آپ ﷺ کی رسالت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے ہے اور آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔
مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپ ﷺ سے سب سے بڑھ کر محبت کریں، آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کریں اور آپ ﷺ کے مقامِ نبوت کا ادب ملحوظ رکھیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو رحمت، عدل، انسانی مساوات، رواداری اور اعلیٰ اخلاق کے آئینے میں پیش کیا جائے۔
حضرت محمد ﷺ کسی ایک نسل، ایک خطے یا ایک زبان تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ کی بعثت کا پیغام قرآن کے الفاظ میں ’’کافۃً للناس‘‘ ہے اور آپ ﷺ کی رحمت ’’للعالمین‘‘ ہے۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ سے محبت کا سب سے خوب صورت اظہار یہ ہے کہ ہم اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے معاشرے اور اپنے معاملات میں وہ اخلاق پیدا کریں جن کی تعلیم آپ ﷺ نے دی۔
محمد ﷺ سے وفا کا تقاضا یہ ہے کہ ہم محمد ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا آئینہ بنا لیں۔
اور شاید آج کے منتشر، متصادم اور نفرتوں میں بٹے ہوئے عالمِ انسانیت کو سب سے زیادہ اسی پیغام کی ضرورت ہے: رحمت، عدل، انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں بھلائی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
ززز


