
اختر جمال عثمانی
جنتر منتر پر 21 اگست سے ہونے والے مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس نے انکار کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ہندوستان میں ریزرویشن کا مسئلہ محض سرکاری ملازمتوں یا تعلیمی اداروں میں چند فیصد نشستوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ذات پات، مساوات، نمائندگی، میرٹ اور سماجی انصاف سے جڑا ایک حساس موضوع ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان نے برابر مواقع پر مبنی سماج کی تعمیر کا ارادہ کیا اور آئین سازوں نے تاریخی محرومی کے شکار طبقات کے لئے ریزرویشن کا راستہ اختیار کیا۔
26 جنوری 1950 کو نافذ ہونے والے آئین نے مساوات کے بنیادی اصول کے ساتھ پسماندہ طبقات کے لئے خصوصی اقدامات کی گنجائش بھی رکھی۔ آرٹیکل 15(4) اور 16(4) نے ریاست کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات، بالخصوص SC اور ST کے لئے خصوصی انتظامات کا اختیار دیا، جبکہ آرٹیکل 330 اور 332 کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں ان کے لئے نشستیں مخصوص کی گئیں۔ سیاسی ریزرویشن ابتدا میں دس سال کے لئے تھا، مگر بعد میں اس کی مدت بڑھائی جاتی رہی۔
اس پالیسی کا مقصد اس تاریخی عدم مساوات کو کم کرنا تھا جس نے لاکھوں لوگوں کو نسل در نسل تعلیم، زمین، سرکاری ملازمتوں اور فیصلہ سازی کے اداروں سے دور رکھا۔ مرکزی سطح پر تقریباً 15 فیصد SC اور 7.5 فیصد ST ریزرویشن کی معروف شرح اسی پس منظر میں سامنے آئی۔
OBC ریزرویشن نے نئی سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دیا۔ 1979 میں بی پی منڈل کی سربراہی میں دوسری پسماندہ طبقات کمیشن قائم ہوا، جس نے 1980 میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ 7 اگست 1990 کو وی پی سنگھ حکومت نے مرکزی سرکاری ملازمتوں میں OBC کے لئے 27 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد خصوصاً شمالی ہندوستان میں بڑے احتجاج ہوئے۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور 1992 کے اندرا ساہنی مقدمے میں عدالت نے OBC کے لئے 27 فیصد ریزرویشن کو بنیادی طور پر برقرار رکھتے ہوئے عمومی طور پر مجموعی ریزرویشن کی حد 50 فیصد رکھنے کی بات کی۔ بعد میں مرکزی تعلیمی اداروں میں OBC ریزرویشن کے لئے قانون بنایا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی اس کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھا۔
ریزرویشن کے مخالفین کا بنیادی اعتراض ’’میرٹ‘‘ سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف زمروں میں کٹ آف کا فرق مساوی مواقع کے اصول کے خلاف ہے اور ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا افسر کے انتخاب میں بنیادی معیار قابلیت ہونا چاہیے، ذات نہیں۔
لیکن میرٹ کا سوال اتنا سادہ نہیں۔ امتحان میں حاصل کیے گئے نمبر ہی مکمل صلاحیت کا پیمانہ نہیں ہوتے۔ طالب علم کی کامیابی اس کے اسکول، گھر کے ماحول، والدین کی تعلیم، کوچنگ، کتابوں، انٹرنیٹ، زبان اور معاشی وسائل سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک ایسے خاندان کے طالب علم اور ایک ایسے طالب علم کو، جس کے والدین پہلی نسل کے تعلیم یافتہ افراد ہوں، صرف امتحانی نمبروں کی بنیاد پر یکساں حالات میں نہیں پرکھا جا سکتا۔
بہت سے SC، ST اور OBC امیدوار اپنی قابلیت کی بنیاد پر میرٹ فہرست میں جگہ بناتے ہیں۔ اس لئے کسی پورے ریزروڈ زمرے کو ’’کم اہل‘‘ کہنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ زمینی حقیقت سے بھی دور ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اداروں میں معاشرے کے مختلف طبقات کی مناسب نمائندگی ہو۔
ریزرویشن مخالفین کا ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ ذات کے بجائے معاشی بنیاد پر مدد دی جانی چاہیے۔ لیکن ہندوستان میں پسماندگی صرف غربت کا نام نہیں۔ ایک شخص معاشی طور پر بہتر ہونے کے باوجود ذات کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کر سکتا ہے۔ صدیوں کی سماجی درجہ بندی، تعلیم سے محرومی اور سماجی دوری کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے۔ اسی لئے غربت اور سماجی تفریق کو ایک ہی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
2019 میں 103ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اقتصادی طور پر کمزور طبقات، یعنی EWS، کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کا راستہ کھولا گیا، جسے 2022 میں سپریم کورٹ کی اکثریت نے برقرار رکھا۔
ریزرویشن مخالف تحریک میں سوَرن طبقے کے ان نوجوانوں کی پریشانی بھی شامل ہے جو سخت مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ ان کے لئے ایک نشست، ایک نمبر اور ایک رینک بھی اہم ہوتا ہے، اس لئے مختلف کٹ آف دیکھ کر ناانصافی کا احساس پیدا ہونا فطری ہے۔ تاہم، اس احساس کو سمجھنے کے ساتھ تاریخی محرومی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ریزرویشن ہمیشہ رہے یا فوراً ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا اور کیا وہ مقصد پورا ہو چکا ہے؟ اگر کسی طبقے کی نمائندگی کم ہے اور سماجی بھید بھاؤ برقرار ہے تو اچانک ریزرویشن ختم کرنا مشکل ہوگا۔ ’’میرٹ‘‘ اور ’’سماجی انصاف‘‘ کو ایک دوسرے کا دشمن بنانا بھی درست نہیں۔ ایک مضبوط ہندوستان کو دونوں کی ضرورت ہے۔
سب سے خطرناک صورت حال یہ ہوگی کہ ریزرویشن کی بحث مختلف سماجی طبقات کے درمیان نفرت کی جنگ بن جائے۔ ایک طرف محروم طبقات کو اپنے تاریخی حقوق چھننے کا خوف ہو اور دوسری طرف دوسرے طبقات کے نوجوان مسلسل ناانصافی محسوس کریں۔ ایسی صورت میں مسئلہ حل ہونے کے بجائے معاشرہ مزید تقسیم ہوگا۔
موجودہ ریزرویشن مخالف آواز کو صرف ’’اعلیٰ ذات کی سازش‘‘ کہہ کر رد کرنا غلط ہوگا اور اسے مکمل طور پر ’’میرٹ کی جنگ‘‘ قرار دینا بھی۔ اس تحریک میں حقیقی معاشی و تعلیمی پریشانیاں، سیاسی مفادات اور سوشل میڈیا کی افواہیں، سب شامل ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف ریزرویشن کے حامی اسے تاریخی ناانصافی کے خلاف آئینی ضمانت سمجھتے ہیں۔
کی قسمت اس کی ذات یا پیدائش سے نہیں بلکہ اس کی صلاحیت، محنت اور حقیقی مواقع سے طے ہو۔


