گنبد آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب

 

رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر

’’اگلے سال میں ﷺ تمہارے درمیان موجود نہیں ہوں گا، لیکن آنے والے لوگ تم سے زیادہ محمد ﷺ کے قریب یا مجھے سمجھنے والے ہوں گے۔‘‘ حجۃ الوداع
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دور میں یا آنے والے کسی بھی دور میں صحابۂ کرامؓ جیسے عاشقانِ رسول ﷺ اور شمعِ رسالت کے پروانے کسی بھی پہلو سے پیدا نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اس پس منظر میں فرمائی گئی تھی کہ آنے والے لوگ علم و ادب، سائنس، منطق اور دلیل کی بنیادوں پر مجھے ﷺ سمجھیں گے اور اپنے قریب پائیں گے۔
’’اور ہم نے آپ کی اظہارِ شان کے لئے آپ کے ذکر کو بلند فرمایا۔‘‘
’’کُن‘‘ میں جلوۂ حق تھا تو ’’فیکون‘‘ میں جلوۂ مصطفیٰ ﷺ کا اظہار ہوا۔ اس مقام پر حقیقتِ محمدی ﷺ خود حمد تھی، اور جس کسی نے اس کی حمد اور تعریف کی، اسی حقیقت کا نام محمد ﷺ رکھ دیا گیا۔ اس حقیقت نے اللہ کی حمد کی تو اس کا نام احمد ہوا، اور اس طرح ایک ہی ذات حمد، حامد، محمود، محمد اور احمد ہوئی۔‘‘ (ڈاکٹر قادری)
یہ کل کائنات، اس کی تمام کہکشائیں اور جو کچھ بھی ان کے درمیان موجود ہے، آپ ﷺ کے محیط میں ایک بلبلے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اور اسی ازلی نورِ محمدی ﷺ سے وجود پا چکے ہیں، جسے سائنسی طور پر ’’اکائی‘‘ یا Singularity سے پہچانا جا رہا ہے۔
آپ ﷺ تمام موجودات کی اصل ہیں۔ اس کا ثبوت قرآن کی آیتِ کریمہ سے ملتا ہے کہ اللہ کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے: ’’ہو جا‘‘، پس وہ ہو جاتی ہے۔
اللہ ہر شے کو امرِ ’’کُن‘‘ سے خلعتِ وجود عطا کرتا ہے، اور ظاہر ہے پہلا امرِ کُن وجودِ مصطفیٰ ﷺ کی صورت میں وقوع پذیر ہوا۔ اس پر لگ بھگ تمام مفسرین اور محدثین اتفاق کرتے ہیں، اور یہ حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں: ’’میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔‘‘
اس سے مراد ہے کہ میرے حسن و جمال اور عظمت و کمال کو سراہا جائے اور میری تعریف کی جائے۔ یہ اللہ کا ارادہ ہوا، اور ارادے کی تشکیل اور تعمیل کے لئے حکمِ ’’کُن‘‘ صادر ہوا تو ’’نورٌ من اللہ‘‘ سے ہی یہ ارادہ، کُن کی صورت میں متشکل ہو کر عالمِ وحدت میں وجود پا گیا۔
’’نور من اللہ‘‘ سے اس لئے کہ اس میں منطق یہی ہے کہ سوائے اللہ کے کچھ موجود ہی نہیں تھا، جس سے اس اولین وجود کی تخلیق مکمل ہو جاتی۔
جب حقیقتِ محمدی ﷺ وجود میں آئی تو کس صورت میں آئی اور کس شکل میں متشکل ہوئی، اللہ کے بغیر حقیقتِ محمدی ﷺ کسی پر منکشف نہیں ہوئی۔ جس طرح اللہ رب العالمین نے اپنے وجودِ باری کے بارے میں مختصر سی بات کہہ کر قصہ ہی ختم کر دیا کہ:
’’لَیْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ‘‘
یعنی اللہ جیسی کوئی چیز نہیں اور اس جیسا کوئی نہیں۔
ظاہر ہے کہ اللہ کو کائناتوں کی کسی بھی شے سے کوئی مشابہت نہیں، اور صرف وہی باری تعالیٰ اپنے اور اپنے اولین شاہکار، حقیقتِ محمدی ﷺ، سے واقف ہے اور کوئی نہیں۔ اور جو تخلیق ہی اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی حمد کرتی رہے۔
مختصر یہ کہ آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا:
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب)
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ نے میرا نور پیدا کیا اور باقی ہر چیز میرے نور سے پیدا کی۔
آئیے ذرا دیکھیں کہ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے، اور کیا ان آیاتِ کریمہ میں سائنسی حقائق بھی بیان ہوئے ہیں؟
’’کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا، غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور پانی کے ذریعے ہر زندہ چیز پیدا کی۔‘‘
(الانبیاء)
ان آیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے۔ سائنسی طور پر کائنات کی تخلیق کو سب سے بہتر طور پر Big Bang، یعنی عظیم دھماکے، سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اس تھیوری کے لحاظ سے کائنات ایک ناقابلِ یقین حد تک کثیف نکتے یا مقام سے پھیل کر وجود میں آئی، جس کے لئے قرآن میں لفظ ’’دُخان‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس مقام یا نکتے کو Singularity، یعنی اکائی، سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب واحد یا اکائی ہے۔
آسمانوں اور زمینوں کا دھماکے سے الگ ہونا، یعنی ’’فتق‘‘، وقوع پذیر ہوا۔ کائنات کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں یہ اکائی اتنی شدید گرم تھی کہ اس کی حدت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سیکنڈ کے نہایت مختصر حصے میں یہ اکائی پھیل گئی۔
اس تھیوری کو تفصیل کے ساتھ اس مختصر مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا۔ میں نے صرف یہ سائنسی حقائق اس لئے گوش گزار کیے ہیں کہ اللہ کے سوا صرف ایک نور تھا، ایک گیسی گولہ تھا، جس میں فتق ہوا اور یہ کائناتیں اور اربوں کہکشائیں وجود پا گئیں۔
اس کے ساتھ ہی اس تمام عالمِ وجود کو وہ کمپیوٹرائزڈ پروگرام بھی عطا ہوا، یا اس کی تقدیر بھی اس کے حوالے ہوئی، جس کے مطابق اور جس کے تحت ان ساری کائناتوں کو اپنے اپنے آسمانوں میں تیرنا، گردش کرنا، اپنے محور پر گھومنا، ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پر قائم رہنا اور نئی صورتوں میں متشکل ہونا تھا۔
سو اللہ ’’رب العالمین‘‘ ہے، اور جو کچھ بھی فتق سے وجود میں لایا گیا اور اس کے اندر جو تقدیر انہیں تھامے ہوئے ہے، وہ رحمت بن کر تمام عالمین پر محیط بھی ہے اور اس کی محتاج بھی ہیں۔ سو آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔
غور و فکر کی دعوت قرآنِ حکیم میں جا بجا ملتی ہے تاکہ انسان سائنسی طور پر بھی اللہ کی عظمتوں کا ادراک کر سکے۔ سائنس ہمیں اللہ کے بہت سارے رازوں سے آشنا کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی حقیقی خلقت اس وقت وجود پا چکی تھی جب کسی بھی شے کو اللہ نے تخلیق نہیں فرمایا تھا۔ حضور ﷺ نے اپنی حقیقت کے متعلق صدیقِ اکبرؓ سے فرمایا تھا:
’’اے ابوبکر! میری حقیقت کا شناسا میرے رب کے سوا کوئی نہیں۔‘‘
اور یہی حقیقت ہے اور حقیقت رہے گی۔
آپ ﷺ کی تشریف آوری پر سارے جہاں کے بت سرنگوں ہوئے، فارس کے آتش کدے بجھ گئے، ماہرینِ نجوم نے اطلاعات دیں کہ نبیِ آخر الزماں ﷺ تشریف لا چکے ہیں، اور بادشاہوں کے محلات گر گئے۔
پورا اہلِ عرب قحط سالی سے جوجھ رہا تھا۔ اس ولادتِ باسعادت سے کایا ہی پلٹ گئی، قحط سالی ختم ہوئی، اور سب سے بڑی بات یہ کہ عرب قبائل لڑکیوں کو زندہ دفن کرتے تھے، سو اپنے محبوب ﷺ کی تشریف آوری میں رب نے اس برس پورے سال لڑکیوں کی پیدائش روک دی۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ زمین پر میرا نام محمد اور آسمان پر احمد ہے۔
زمین و آسمان میں سب سے زیادہ تعریف و ثنا حضور ﷺ کے حصے میں آئی ہے، اسی لئے آپ ﷺ کا اسمِ مبارک محمد ﷺ ہے۔ حضور ﷺ کے حسنِ ظاہری اور حسنِ باطنی، دونوں میں کوئی ثانی نہیں تھا۔
’’آپ ﷺ سے حسین تر چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا، آپ تمام جسمانی و روحانی عیوب سے پاک تھے اور اللہ نے آپ کو ایسا تخلیق فرمایا جیسا آپ چاہتے تھے۔‘‘
(حسان بن ثابتؓ)
’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔‘‘
(الانشراح)
جبرئیلؑ نے ایک دفعہ اس آیتِ کریمہ کے بارے میں رسولِ پاک ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے:
’’جب میرا، یعنی اللہ کا، ذکر ہوگا تو آپ کا بھی ذکر ہوگا۔‘‘
یہاں مضمون کے آخری حصے میں مختصراً معراج کا ذکر لازمی سمجھتا ہوں، کیونکہ سفرِ معراج آپ ﷺ کی انتہاؤں، عظمتوں اور رفعتوں کی تحریر ہے۔ آنے والے ادوار میں سائنس اور آسٹرو فزکس کی روشنی میں غیر معمولی انکشافات اس معجزے کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔
پہلی بات، وثوق کے ساتھ، یہ ہے کہ سفرِ معراج عالمِ بیداری میں تھا۔ مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر آج ہم سائنسی اکتشافات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
’’پاک ہے وہ رب جو اپنے بندے کو رات کے وقت لے گیا۔‘‘
چونکہ یہ سفر براق پر طے ہوا تھا اور براق برق سے نکلا ہے، جس کا مطلب بجلی کی رفتار ہی سے لیا جا سکتا ہے۔
دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک ہے۔ یہ سفر ایک اور سواری، رف رف، پر طے ہوا، جس کی ابھی انسانی ذہن میں کوئی توضیح نہیں۔
یہاں اس سفر کے دوران تمام فرشتوں نے آپ ﷺ کا دیدار کیا۔
’’جب سدرہ کو اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے اسے ڈھانپ لیا۔‘‘
ملائکہ کی کثرت کے سبب یہاں جبرئیلِ امینؑ رک گئے اور کہا کہ اس مقام سے ذرہ بھر بھی آگے چلوں تو تجلیاتِ الٰہی سے جل جاؤں۔
سدرہ سے آگے یکہ و تنہا آپ ﷺ کا سفر شروع ہوا۔ یہاں سے ایک ملکوتی اور نورانی تخت آپ ﷺ کی سواری تھا، جس کا نام زخرف تھا۔ اس کے بعد سوائے اللہ کی وحدانیت کے کچھ نہ تھا۔
اور اس نور کی ماہیت اور کیفیت کیا تھی؟ صرف اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ جانتا ہے۔
یہ اس باکمال و جمال سفر کا تیسرا مرحلہ، قابِ قوسین اور اس سے بھی آگے کا مقام ہے:
’’پھر وہ قریب ہوا، پھر اور نزدیک ہوا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کم رہ گیا۔ پس اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔‘‘ (النجم)
معبود اور عبد کس قدر قریب ہوئے، لیکن معبودیت اور عبدیت اپنی اپنی جگہ موجود رہی۔
یہاں مائیکل ہارٹ کی شہرۂ آفاق کتاب کا حوالہ اس لئے ناگزیر ہے کہ انہوں نے ہزاروں مختلف شعبوں سے چوبیس ہزار تاریخی شخصیات پر غور و فکر کے بعد صرف ایسی سو شخصیات کا انتخاب کیا جنہوں نے تاریخِ انسانی پر اپنے گہرے اثرات کے ساتھ ساتھ اپنے ادوار کے معاشروں میں انقلابات پیدا کیے۔
اور جب ان سو میں سے اکمل ترین، عظیم ترین اور بلند ترین شخصیت کے انتخاب کی باری آئی تو مائیکل ہارٹ کی نگاہوں اور دل و دماغ نے حقائق، اثر پذیری، کامیاب معاشرے کی تشکیل اور دیرپا انقلابی و انسانی تبدیلی کی بنیادوں پر نبیِ برحق ﷺ، خاتم المرسلین، ہی کا انتخاب کیا۔
انہوں نے مدلل انداز میں اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کیوں یہی ایک شخصیت ہے جو ماضی، حال اور مستقبل، تمام زمانوں کے رہبروں، رہنماؤں اور داعیوں، اور دوسرے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں میں سب سے اول، کامل ترین اور بلند ترین ہیں۔
اور اصل میں یہی درست تشریح اس بات کی ہے کہ:
’’آنے والے لوگ مجھے تم سے بہتر سمجھیں گے۔‘‘
خدا خود میرِ مجلس بود اندر لامکاں، خسروؔ
محمد ﷺ شمعِ محفل بود، شب جائیکہ من بودم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

گنبد آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب

 

رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر

’’اگلے سال میں ﷺ تمہارے درمیان موجود نہیں ہوں گا، لیکن آنے والے لوگ تم سے زیادہ محمد ﷺ کے قریب یا مجھے سمجھنے والے ہوں گے۔‘‘ حجۃ الوداع
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دور میں یا آنے والے کسی بھی دور میں صحابۂ کرامؓ جیسے عاشقانِ رسول ﷺ اور شمعِ رسالت کے پروانے کسی بھی پہلو سے پیدا نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اس پس منظر میں فرمائی گئی تھی کہ آنے والے لوگ علم و ادب، سائنس، منطق اور دلیل کی بنیادوں پر مجھے ﷺ سمجھیں گے اور اپنے قریب پائیں گے۔
’’اور ہم نے آپ کی اظہارِ شان کے لئے آپ کے ذکر کو بلند فرمایا۔‘‘
’’کُن‘‘ میں جلوۂ حق تھا تو ’’فیکون‘‘ میں جلوۂ مصطفیٰ ﷺ کا اظہار ہوا۔ اس مقام پر حقیقتِ محمدی ﷺ خود حمد تھی، اور جس کسی نے اس کی حمد اور تعریف کی، اسی حقیقت کا نام محمد ﷺ رکھ دیا گیا۔ اس حقیقت نے اللہ کی حمد کی تو اس کا نام احمد ہوا، اور اس طرح ایک ہی ذات حمد، حامد، محمود، محمد اور احمد ہوئی۔‘‘ (ڈاکٹر قادری)
یہ کل کائنات، اس کی تمام کہکشائیں اور جو کچھ بھی ان کے درمیان موجود ہے، آپ ﷺ کے محیط میں ایک بلبلے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اور اسی ازلی نورِ محمدی ﷺ سے وجود پا چکے ہیں، جسے سائنسی طور پر ’’اکائی‘‘ یا Singularity سے پہچانا جا رہا ہے۔
آپ ﷺ تمام موجودات کی اصل ہیں۔ اس کا ثبوت قرآن کی آیتِ کریمہ سے ملتا ہے کہ اللہ کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے: ’’ہو جا‘‘، پس وہ ہو جاتی ہے۔
اللہ ہر شے کو امرِ ’’کُن‘‘ سے خلعتِ وجود عطا کرتا ہے، اور ظاہر ہے پہلا امرِ کُن وجودِ مصطفیٰ ﷺ کی صورت میں وقوع پذیر ہوا۔ اس پر لگ بھگ تمام مفسرین اور محدثین اتفاق کرتے ہیں، اور یہ حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں: ’’میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔‘‘
اس سے مراد ہے کہ میرے حسن و جمال اور عظمت و کمال کو سراہا جائے اور میری تعریف کی جائے۔ یہ اللہ کا ارادہ ہوا، اور ارادے کی تشکیل اور تعمیل کے لئے حکمِ ’’کُن‘‘ صادر ہوا تو ’’نورٌ من اللہ‘‘ سے ہی یہ ارادہ، کُن کی صورت میں متشکل ہو کر عالمِ وحدت میں وجود پا گیا۔
’’نور من اللہ‘‘ سے اس لئے کہ اس میں منطق یہی ہے کہ سوائے اللہ کے کچھ موجود ہی نہیں تھا، جس سے اس اولین وجود کی تخلیق مکمل ہو جاتی۔
جب حقیقتِ محمدی ﷺ وجود میں آئی تو کس صورت میں آئی اور کس شکل میں متشکل ہوئی، اللہ کے بغیر حقیقتِ محمدی ﷺ کسی پر منکشف نہیں ہوئی۔ جس طرح اللہ رب العالمین نے اپنے وجودِ باری کے بارے میں مختصر سی بات کہہ کر قصہ ہی ختم کر دیا کہ:
’’لَیْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ‘‘
یعنی اللہ جیسی کوئی چیز نہیں اور اس جیسا کوئی نہیں۔
ظاہر ہے کہ اللہ کو کائناتوں کی کسی بھی شے سے کوئی مشابہت نہیں، اور صرف وہی باری تعالیٰ اپنے اور اپنے اولین شاہکار، حقیقتِ محمدی ﷺ، سے واقف ہے اور کوئی نہیں۔ اور جو تخلیق ہی اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی حمد کرتی رہے۔
مختصر یہ کہ آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا:
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘
(الاحزاب)
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ نے میرا نور پیدا کیا اور باقی ہر چیز میرے نور سے پیدا کی۔
آئیے ذرا دیکھیں کہ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے، اور کیا ان آیاتِ کریمہ میں سائنسی حقائق بھی بیان ہوئے ہیں؟
’’کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا، غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور پانی کے ذریعے ہر زندہ چیز پیدا کی۔‘‘
(الانبیاء)
ان آیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے۔ سائنسی طور پر کائنات کی تخلیق کو سب سے بہتر طور پر Big Bang، یعنی عظیم دھماکے، سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اس تھیوری کے لحاظ سے کائنات ایک ناقابلِ یقین حد تک کثیف نکتے یا مقام سے پھیل کر وجود میں آئی، جس کے لئے قرآن میں لفظ ’’دُخان‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس مقام یا نکتے کو Singularity، یعنی اکائی، سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب واحد یا اکائی ہے۔
آسمانوں اور زمینوں کا دھماکے سے الگ ہونا، یعنی ’’فتق‘‘، وقوع پذیر ہوا۔ کائنات کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں یہ اکائی اتنی شدید گرم تھی کہ اس کی حدت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سیکنڈ کے نہایت مختصر حصے میں یہ اکائی پھیل گئی۔
اس تھیوری کو تفصیل کے ساتھ اس مختصر مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا۔ میں نے صرف یہ سائنسی حقائق اس لئے گوش گزار کیے ہیں کہ اللہ کے سوا صرف ایک نور تھا، ایک گیسی گولہ تھا، جس میں فتق ہوا اور یہ کائناتیں اور اربوں کہکشائیں وجود پا گئیں۔
اس کے ساتھ ہی اس تمام عالمِ وجود کو وہ کمپیوٹرائزڈ پروگرام بھی عطا ہوا، یا اس کی تقدیر بھی اس کے حوالے ہوئی، جس کے مطابق اور جس کے تحت ان ساری کائناتوں کو اپنے اپنے آسمانوں میں تیرنا، گردش کرنا، اپنے محور پر گھومنا، ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پر قائم رہنا اور نئی صورتوں میں متشکل ہونا تھا۔
سو اللہ ’’رب العالمین‘‘ ہے، اور جو کچھ بھی فتق سے وجود میں لایا گیا اور اس کے اندر جو تقدیر انہیں تھامے ہوئے ہے، وہ رحمت بن کر تمام عالمین پر محیط بھی ہے اور اس کی محتاج بھی ہیں۔ سو آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔
غور و فکر کی دعوت قرآنِ حکیم میں جا بجا ملتی ہے تاکہ انسان سائنسی طور پر بھی اللہ کی عظمتوں کا ادراک کر سکے۔ سائنس ہمیں اللہ کے بہت سارے رازوں سے آشنا کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی حقیقی خلقت اس وقت وجود پا چکی تھی جب کسی بھی شے کو اللہ نے تخلیق نہیں فرمایا تھا۔ حضور ﷺ نے اپنی حقیقت کے متعلق صدیقِ اکبرؓ سے فرمایا تھا:
’’اے ابوبکر! میری حقیقت کا شناسا میرے رب کے سوا کوئی نہیں۔‘‘
اور یہی حقیقت ہے اور حقیقت رہے گی۔
آپ ﷺ کی تشریف آوری پر سارے جہاں کے بت سرنگوں ہوئے، فارس کے آتش کدے بجھ گئے، ماہرینِ نجوم نے اطلاعات دیں کہ نبیِ آخر الزماں ﷺ تشریف لا چکے ہیں، اور بادشاہوں کے محلات گر گئے۔
پورا اہلِ عرب قحط سالی سے جوجھ رہا تھا۔ اس ولادتِ باسعادت سے کایا ہی پلٹ گئی، قحط سالی ختم ہوئی، اور سب سے بڑی بات یہ کہ عرب قبائل لڑکیوں کو زندہ دفن کرتے تھے، سو اپنے محبوب ﷺ کی تشریف آوری میں رب نے اس برس پورے سال لڑکیوں کی پیدائش روک دی۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ زمین پر میرا نام محمد اور آسمان پر احمد ہے۔
زمین و آسمان میں سب سے زیادہ تعریف و ثنا حضور ﷺ کے حصے میں آئی ہے، اسی لئے آپ ﷺ کا اسمِ مبارک محمد ﷺ ہے۔ حضور ﷺ کے حسنِ ظاہری اور حسنِ باطنی، دونوں میں کوئی ثانی نہیں تھا۔
’’آپ ﷺ سے حسین تر چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا، آپ تمام جسمانی و روحانی عیوب سے پاک تھے اور اللہ نے آپ کو ایسا تخلیق فرمایا جیسا آپ چاہتے تھے۔‘‘
(حسان بن ثابتؓ)
’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔‘‘
(الانشراح)
جبرئیلؑ نے ایک دفعہ اس آیتِ کریمہ کے بارے میں رسولِ پاک ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے:
’’جب میرا، یعنی اللہ کا، ذکر ہوگا تو آپ کا بھی ذکر ہوگا۔‘‘
یہاں مضمون کے آخری حصے میں مختصراً معراج کا ذکر لازمی سمجھتا ہوں، کیونکہ سفرِ معراج آپ ﷺ کی انتہاؤں، عظمتوں اور رفعتوں کی تحریر ہے۔ آنے والے ادوار میں سائنس اور آسٹرو فزکس کی روشنی میں غیر معمولی انکشافات اس معجزے کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔
پہلی بات، وثوق کے ساتھ، یہ ہے کہ سفرِ معراج عالمِ بیداری میں تھا۔ مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر آج ہم سائنسی اکتشافات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
’’پاک ہے وہ رب جو اپنے بندے کو رات کے وقت لے گیا۔‘‘
چونکہ یہ سفر براق پر طے ہوا تھا اور براق برق سے نکلا ہے، جس کا مطلب بجلی کی رفتار ہی سے لیا جا سکتا ہے۔
دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک ہے۔ یہ سفر ایک اور سواری، رف رف، پر طے ہوا، جس کی ابھی انسانی ذہن میں کوئی توضیح نہیں۔
یہاں اس سفر کے دوران تمام فرشتوں نے آپ ﷺ کا دیدار کیا۔
’’جب سدرہ کو اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے اسے ڈھانپ لیا۔‘‘
ملائکہ کی کثرت کے سبب یہاں جبرئیلِ امینؑ رک گئے اور کہا کہ اس مقام سے ذرہ بھر بھی آگے چلوں تو تجلیاتِ الٰہی سے جل جاؤں۔
سدرہ سے آگے یکہ و تنہا آپ ﷺ کا سفر شروع ہوا۔ یہاں سے ایک ملکوتی اور نورانی تخت آپ ﷺ کی سواری تھا، جس کا نام زخرف تھا۔ اس کے بعد سوائے اللہ کی وحدانیت کے کچھ نہ تھا۔
اور اس نور کی ماہیت اور کیفیت کیا تھی؟ صرف اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ جانتا ہے۔
یہ اس باکمال و جمال سفر کا تیسرا مرحلہ، قابِ قوسین اور اس سے بھی آگے کا مقام ہے:
’’پھر وہ قریب ہوا، پھر اور نزدیک ہوا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کم رہ گیا۔ پس اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔‘‘ (النجم)
معبود اور عبد کس قدر قریب ہوئے، لیکن معبودیت اور عبدیت اپنی اپنی جگہ موجود رہی۔
یہاں مائیکل ہارٹ کی شہرۂ آفاق کتاب کا حوالہ اس لئے ناگزیر ہے کہ انہوں نے ہزاروں مختلف شعبوں سے چوبیس ہزار تاریخی شخصیات پر غور و فکر کے بعد صرف ایسی سو شخصیات کا انتخاب کیا جنہوں نے تاریخِ انسانی پر اپنے گہرے اثرات کے ساتھ ساتھ اپنے ادوار کے معاشروں میں انقلابات پیدا کیے۔
اور جب ان سو میں سے اکمل ترین، عظیم ترین اور بلند ترین شخصیت کے انتخاب کی باری آئی تو مائیکل ہارٹ کی نگاہوں اور دل و دماغ نے حقائق، اثر پذیری، کامیاب معاشرے کی تشکیل اور دیرپا انقلابی و انسانی تبدیلی کی بنیادوں پر نبیِ برحق ﷺ، خاتم المرسلین، ہی کا انتخاب کیا۔
انہوں نے مدلل انداز میں اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کیوں یہی ایک شخصیت ہے جو ماضی، حال اور مستقبل، تمام زمانوں کے رہبروں، رہنماؤں اور داعیوں، اور دوسرے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں میں سب سے اول، کامل ترین اور بلند ترین ہیں۔
اور اصل میں یہی درست تشریح اس بات کی ہے کہ:
’’آنے والے لوگ مجھے تم سے بہتر سمجھیں گے۔‘‘
خدا خود میرِ مجلس بود اندر لامکاں، خسروؔ
محمد ﷺ شمعِ محفل بود، شب جائیکہ من بودم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں