تاش کا کھیل اس وقت سانحے میں بدل گیا چار افراد پولیس ریڈ کے خوف سے بھاگتے ہوئے ایک کھلے کنویں میں جا گرے

تاش کا کھیل اس وقت سانحے میں بدل گیا جب چار افراد پولیس ریڈ کے خوف سے بھاگتے ہوئے ایک کھلے کنویں میں جا گرے، جس کے نتیجے میں ان میں سے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، سوموار کی دیر رات 11 افراد زرعی کھیت میں تاش کھیل رہے تھے کہ ایک گاڑی وہاں پہنچی اور اس میں سے تین افراد ان کی طرف بڑھے۔

پولیس ریڈ کے خدشے کے پیشِ نظر تمام افراد سراسیمگی کا شکار ہو کر بھاگنے لگے اور اندھیرے کی وجہ سے چار افراد قریب ہی موجود ایک کھلے کنویں میں جا گرے۔ گرنے کی وجہ سے تین افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا۔

مہلوکین کی شناخت راہول پوپٹ بھائی چوہان (35)، نیلیش ڈابھی (37) اور اجیت سنگھ (45) کے طور پر ہوئی ہے۔

ورتیج پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر ڈی این جڈیجا نے بتایا کہ منگل کی صبح پولیس کنٹرول روم کو کھیت میں لاش کی اطلاع ملی۔ پولیس نے دیہاتیوں کی مدد سے تلاشی کی کارروائی کے دوران کنویں سے تینوں لاشیں برآمد کیں، جنہیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھاونگر کے سر ٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

خاندان کے الزامات اور پولیس کا موقف

واقعے کے بعد متوفین کے لواحقین بڑی تعداد میں سرکاری ہسپتال جمع ہو گئے۔ خاندان کا الزام ہے کہ پولیس ریڈ کے دوران ہی یہ اموات واقع ہوئی ہیں، جبکہ پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے۔

ورتیج پولیس انسپکٹر پڑھیریا نے واضح کیا کہ اس علاقے میں پولیس کا کوئی آپریشن نہیں ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق، گاڑی کی آمد نے ممکنہ طور پر ان لوگوں میں غلط فہمی پیدا کی، یا پھر گاؤں کے کسی شخص کی شرارت کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد گاڑی میں آنے والے تینوں افراد وہاں سے چلے گئے تھے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات اور ان افراد کی شناخت شروع کر دی ہے جن کی آمد سے خوف و ہراس پھیلا۔ دوسری جانب، لواحقین نے لاشیں وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK...

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

تازہ ترین خبریں

اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK...

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

تاش کا کھیل اس وقت سانحے میں بدل گیا چار افراد پولیس ریڈ کے خوف سے بھاگتے ہوئے ایک کھلے کنویں میں جا گرے

تاش کا کھیل اس وقت سانحے میں بدل گیا جب چار افراد پولیس ریڈ کے خوف سے بھاگتے ہوئے ایک کھلے کنویں میں جا گرے، جس کے نتیجے میں ان میں سے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، سوموار کی دیر رات 11 افراد زرعی کھیت میں تاش کھیل رہے تھے کہ ایک گاڑی وہاں پہنچی اور اس میں سے تین افراد ان کی طرف بڑھے۔

پولیس ریڈ کے خدشے کے پیشِ نظر تمام افراد سراسیمگی کا شکار ہو کر بھاگنے لگے اور اندھیرے کی وجہ سے چار افراد قریب ہی موجود ایک کھلے کنویں میں جا گرے۔ گرنے کی وجہ سے تین افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا۔

مہلوکین کی شناخت راہول پوپٹ بھائی چوہان (35)، نیلیش ڈابھی (37) اور اجیت سنگھ (45) کے طور پر ہوئی ہے۔

ورتیج پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر ڈی این جڈیجا نے بتایا کہ منگل کی صبح پولیس کنٹرول روم کو کھیت میں لاش کی اطلاع ملی۔ پولیس نے دیہاتیوں کی مدد سے تلاشی کی کارروائی کے دوران کنویں سے تینوں لاشیں برآمد کیں، جنہیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھاونگر کے سر ٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

خاندان کے الزامات اور پولیس کا موقف

واقعے کے بعد متوفین کے لواحقین بڑی تعداد میں سرکاری ہسپتال جمع ہو گئے۔ خاندان کا الزام ہے کہ پولیس ریڈ کے دوران ہی یہ اموات واقع ہوئی ہیں، جبکہ پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے۔

ورتیج پولیس انسپکٹر پڑھیریا نے واضح کیا کہ اس علاقے میں پولیس کا کوئی آپریشن نہیں ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق، گاڑی کی آمد نے ممکنہ طور پر ان لوگوں میں غلط فہمی پیدا کی، یا پھر گاؤں کے کسی شخص کی شرارت کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد گاڑی میں آنے والے تینوں افراد وہاں سے چلے گئے تھے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات اور ان افراد کی شناخت شروع کر دی ہے جن کی آمد سے خوف و ہراس پھیلا۔ دوسری جانب، لواحقین نے لاشیں وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں