نئی دہلی:
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے فوکیٹ (Phuket) سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز کے پائلٹ کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، یہ اس معاملے پر حتمی تصدیق نہیں ہے کیونکہ ابھی ایک اور ٹیسٹ کا نتیجہ آنا باقی ہے۔ ایئر انڈیا نے اس پیشرفت کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی میں پرواز کے بعد کی جانے والی اسکریننگ کے دوران ‘پائلٹ ان کمانڈ’ کے جسم میں ذہنی حالت پر اثر انداز ہونے والی ادویات (Psychoactive Substances) کا ٹیسٹ کیا گیا۔ ایک اور ٹیسٹ بھی کیا گیا ہے جس کا نتیجہ ابھی جاری ہونا باقی ہے۔
ٹاٹا کی ملکیت والی اس ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وہ ان نتائج پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی کیونکہ ٹیسٹ کے نتائج ابھی تک ان کے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے ہیں۔
ایئر لائن کے ایک ترجمان نے کہا
تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں پائلٹوں کو فلائٹ روسٹر سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا نے کہا کہ وہ کسی مخصوص پرواز یا حادثے سے قطع نظر، سول ایوی ایشن کے قواعد و ضوابط کی تعمیل میں عملے کے ارکان کا باقاعدگی سے ڈرگ ٹیسٹ کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا: "ہم ضرورت کے مطابق متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔”
قوانین کے مطابق، اگر کوئی عملہ کا رکن پہلی بار ڈرگ ٹیسٹ میں مثبت پایا جاتا ہے، تو اسے ری ہیبلیٹیشن (بحالی) سینٹر بھیجا جانا چاہیے اور وہ ڈوپ ٹیسٹ کی منفی رپورٹ کے بعد ہی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ سکتا ہے۔
- دوسری بار: لائسنس تین سال کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔
- تیسری بار: لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
4 اگست کو AI2379 پرواز، جس میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے، تھائی لینڈ کے سیاحتی شہر سے دہلی آتے ہوئے شدید جھٹکوں اور بلندی میں اچانک کمی کا شکار ہو گئی تھی۔
ایئر لائن نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں کم از کم 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے تھے۔


