شیخ صاحب کی گرفتاری: 9 اگست 1953 جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز

سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 9 اگست 1953 کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز اس وقت کے وزیرِ اعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیر آئینی گرفتاری اور برطرفی نے مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ سری نگر اور نئی دہلی کے تعلقات میں باہمی اعتماد، جمہوری اصولوں اور آئینی ضمانتوں پر مبنی ایک نئے باب کا آغاز کیا جائے، جس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی پہلا قدم ہو۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ 1953 کے واقعات نے جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی اور آئینی حقوق سے متعلق اعتماد کو مجروح کیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ حقوق، انصاف، وقار اور باہمی احترام کی بحالی کے وسیع تر عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

شیخ صاحب کی گرفتاری: 9 اگست 1953 جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز

سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 9 اگست 1953 کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز اس وقت کے وزیرِ اعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیر آئینی گرفتاری اور برطرفی نے مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ سری نگر اور نئی دہلی کے تعلقات میں باہمی اعتماد، جمہوری اصولوں اور آئینی ضمانتوں پر مبنی ایک نئے باب کا آغاز کیا جائے، جس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی پہلا قدم ہو۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ 1953 کے واقعات نے جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی اور آئینی حقوق سے متعلق اعتماد کو مجروح کیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ حقوق، انصاف، وقار اور باہمی احترام کی بحالی کے وسیع تر عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں