جنگ نیوز
نئی دہلی/ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے لوک سبھا میں کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات صرف ایسے ماحول میں آگے بڑھ سکتے ہیں جو دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدستور بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ دھرمندر یادو کے سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کا انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ واپس لے لیا اور پاکستان سے درآمد یا برآمد ہونے والی تمام اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا کر 200 فیصد کردی تھی۔
حکومت کے مطابق 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں پاکستان سے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عارضی طور پر معطل کیا، اٹاری چیک پوسٹ بند کی، ویزا پابندیاں عائد کیں اور دونوں ممالک کے سفارتی مشنز میں سفارتی و سرکاری عملے کی تعداد کم کردی۔ اس کے علاوہ پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی فوجی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
حکومت نے بتایا کہ دونوں ممالک اس وقت ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں اپنے سفارتی مشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت، بیلسٹک میزائل تجربات سے متعلق پیشگی اطلاعات کا تبادلہ، جوہری تنصیبات اور ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بدستور جاری ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف مناسب کارروائی کرے گا، کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرے گا اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے جامع اقدامات جاری رکھے گا۔ حکومت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ معمول کے دوطرفہ تعلقات کے لئے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔


