قرآن مجید کی دعوت عقل و تدبر: انسانی فلاح کا بنیادی اصول

 

 

ارشد احمد ارشٓد

1.تعارف اور عقل کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان میں سب سے عظیم نعمت عقل ہے۔ عقل ہی وہ امتیازی وصف ہے جس کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات پر فضیلت رکھتا ہے۔ اسی عقل کے ذریعے انسان حق و باطل، خیر و شر، ہدایت و گمراہی اور نفع و نقصان میں تمیز کرتا ہے۔ اسلام نے عقل کو نہ صرف اہمیت دی ہے بلکہ اسے ایمان، علم اور عملِ صالح کے حصول کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں بار بار انسان کو سوچنے، سمجھنے، غور و فکر کرنے اور کائنات و وحی کی نشانیوں میں تدبر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
قرآنِ کریم کا اسلوب یہ نہیں کہ انسان کو محض تقلید پر آمادہ کرے، بلکہ وہ اس کے ضمیر، شعور اور عقل کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن میں تعقل، تدبر، تفکر، تذکر اور أُولُو الْأَلْبَاب جیسے الفاظ بار بار استعمال ہوئے ہیں، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان سے شعوری ایمان اور فکری بصیرت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی آیات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں، وہاں مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اللہ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کو پہچانے اور اس کا ایمان مضبوط ہو۔ اسی طرح امام قرطبی فرماتے ہیں کہ تدبرِ قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آیات کے معانی میں غور کرے اور ان پر عمل کرے، کیونکہ محض تلاوت مقصودِ شریعت نہیں۔
2: قرآن کی دعوتِ تعقل:
قرآنِ مجید انسان کو سب سے پہلے اپنے کردار اور عمل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ حوالہ:(سورۃ البقرۃ: 44)
ترجمہ: "کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کیا، لیکن اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو دوسروں کو نصیحت کرے مگر خود اس پر عمل نہ کرے۔ آیت کے آخر میں "أَفَلَا تَعْقِلُونَ” فرما کر یہ واضح کیا گیا کہ حقیقی عقل وہی ہے جو انسان کو اپنے قول و فعل میں یکسانیت اختیار کرنے پر آمادہ کرے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔ حوالہ:سورۃ: البقرۃ آیت: 73
ترجمہ: "پھر ہم نے فرمایا: اس (گائے) کا ایک حصہ اس (مقتول) پر مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں اس لئے ظاہر کرتے ہیں تاکہ انسان اپنی عقل استعمال کرے، حقیقت کو سمجھے اور اللہ کی قدرت پر کامل یقین حاصل کرے۔ گویا قرآن کے نزدیک عقل وحی کی مخالف نہیں بلکہ وحی کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

خلاصہ:
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو اندھی تقلید کی بجائے شعوری ایمان، خود احتسابی اور فکری بیداری کی دعوت دیتا ہے۔ جو شخص اپنی عقل کو قرآن کی روشنی میں استعمال کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنی اصلاح کرتا ہے بلکہ اپنے رب کی معرفت بھی حاصل کرتا ہے۔ یہی قرآنی فکر کی بنیاد ہے،
3: تدبرِ قرآن اور أُولُو الْأَلْبَاب:
قرآنِ مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، فکر اور عمل کی کتاب ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کی عقل کو بیدار کرنا، اس کے دل کو منور کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچانا ہے۔ اسی لئے قرآن بار بار انسان کو اپنی آیات میں تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تدبر کا مطلب کسی بات کے ظاہر پر اکتفا نہ کرنا بلکہ اس کے معانی، حکمت، مقاصد اور نتائج میں گہرائی کے ساتھ غور کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔ حوالہ:(سورۃ النساء: 82)
ترجمہ: "کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اعجاز کی ایک عقلی دلیل بیان فرمائی ہے۔ انسان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ قرآن کو کھلے ذہن سے پڑھے، اس کے مضامین پر غور کرے اور اس کے پیغام کو سمجھے۔ اگر یہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس میں تضادات اور اختلافات پائے جاتے، لیکن چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لئے اس میں کامل ہم آہنگی، حکمت اور حقانیت موجود ہے۔
امام طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قرآن میں تدبر کا حکم دیا تاکہ وہ اس کی سچائی، احکام کی حکمت اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن میں غور و فکر کی ترغیب دیتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا ہر حکم اور ہر خبر حکمت پر مبنی ہے۔
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:(سورۃ ص: 29)
ترجمہ: "یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید کے نزول کا ایک بنیادی مقصد تدبر ہے۔ صرف الفاظ کی تلاوت کافی نہیں، بلکہ آیات کے معانی، احکام، اخلاقی تعلیمات اور عملی تقاضوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہی تدبر انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے۔

آیت کے آخر میں "أُولُو الْأَلْبَاب” کا ذکر کیا گیا ہے۔ لُبّ کے معنی کسی چیز کے خالص اور بہترین حصے کے ہیں، اس لئے أُولُو الْأَلْبَاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل تعصب، خواہشات اور گمراہی سے پاک ہو۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کا رہنما بناتے ہیں۔
اسی مضمون کو سورۂ آل عمران میں نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:(سورۃ آل عمران: 190)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ أُولُو الْأَلْبَاب وہ ہیں:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ… حوالہ (سورۃ آل عمران:191)
ترجمہ: "جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔”
یہ آیات بتاتی ہیں کہ حقیقی عقل صرف علمی معلومات کا نام نہیں بلکہ ایسی بصیرت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کا یقین عطا کرے۔ اسی لئے امام قرطبی لکھتے ہیں کہ ان آیات میں اہلِ عقل کی پہچان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ذکر اور فکر دونوں کو جمع کرتے ہیں؛ ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے اور ان کا دل کائنات کی نشانیوں میں غور و فکر کرتا رہتا ہے۔

تفسیر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام علم اور عقل کا مخالف نہیں، بلکہ صحیح علم اور صحیح عقل انسان کو ایمان کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ جب عقل وحی کی رہنمائی میں کام کرتی ہے تو وہ انسان کو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی عطا کرتی ہے۔
خلاصہ:
اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے، سوچنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تدبرِ قرآن انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ أُولُو الْأَلْبَاب وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو اللہ کی آیات سے نصیحت حاصل کرکے اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ یہی وہ قرآنی منہج ہے جو انسان کو فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور روحانی کامیابی عطا کرتا ہے۔
4: تفکرِ کائنات اور عقل کا عملی استعمال:
قرآنِ مجید انسان کو صرف اپنی ذات یا قرآن کی آیات میں غور و فکر کی دعوت نہیں دیتا بلکہ پوری کائنات کو ایک عظیم کتاب قرار دیتا ہے، جس کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کی گواہی دیتی ہے۔ آسمان، زمین، سورج، چاند، بارش، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، نباتات اور انسان کی اپنی تخلیق، یہ سب اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں ہیں جن پر غور و فکر کرکے انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ اسی لئے قرآنِ کریم بار بار انسان کو تفکر کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔ حوالہ:سورۃ: الأعراف آیت: 184
ترجمہ: "کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا؟ ان کے ساتھی (محمد ﷺ) کو کوئی جنون نہیں، وہ تو صرف کھلے طور پر ڈرانے والے ہیں۔”
اس آیت میں کفارِ مکہ کو دعوت دی گئی کہ وہ تعصب اور ضد سے ہٹ کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت، کردار اور دعوت پر غور کریں۔ اگر وہ انصاف کے ساتھ سوچیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ آپ ﷺ نہایت صادق و امین ہیں اور اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن جذبات یا اندھی تقلید کی بجائے دلیل اور عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عظیم نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ حوالہ:سورۃ: الروم آیت: 24
ترجمہ: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے، ڈر اور امید کے لئے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کا ہر نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا آئینہ دار ہے۔ بجلی کا چمکنا، بارش کا برسنا، خشک زمین کا سرسبز ہو جانا اور زندگی کا دوبارہ لوٹ آنا محض طبعی واقعات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی عقل کو صحیح سمت میں استعمال کرتے ہیں۔
علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بارش اور زمین کے زندہ ہونے کو قیامت کے دن مردوں کے دوبارہ زندہ کیے جانے کی دلیل بنایا ہے۔ جس ذات نے بے جان زمین کو زندگی دی، وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف امام قرطبی بھی اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات میں موجود ہر نشانی انسان کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور حکمت کا یقین دلاتی ہے، بشرطیکہ انسان تعصب سے پاک ہو کر غور و فکر کرے۔
قرآنِ مجید یہ بھی واضح کرتا ہے کہ نصیحت اور عبرت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کی عقل بیدار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:سورۃ: الزمر آیت: 21

ترجمہ: "بے شک اس میں عقل والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے۔”
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہر شخص کے سامنے موجود ہیں، لیکن ان سے سبق وہی حاصل کرتا ہے جو خالص عقل اور کھلے دل کے ساتھ حق کی تلاش کرتا ہے۔ یہی لوگ أُولُو الْأَلْبَاب ہیں، جن کی عقل خواہشات، تعصب اور تقلیدِ باطل سے آزاد ہوتی ہے۔
تفسیر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید کا مقصد انسان کو کائنات کی نشانیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرنا ہے۔ جب انسان زمین، آسمان، بارش، نباتات اور اپنی تخلیق پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کا یقین پیدا ہوتا ہے، اور یہی یقین اسے اطاعتِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ قرآن جس عقل کی دعوت دیتا ہے وہ محض دنیاوی ذہانت نہیں بلکہ ایسی بصیرت ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچائے، اسے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے پر آمادہ کرے اور اس کی زندگی کو اخلاقی اصولوں کے مطابق ڈھال دے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک عقل کا مقصد صرف مادی ترقی یا سائنسی دریافتیں نہیں بلکہ انسان کو اپنے خالق کی معرفت، اعلیٰ اخلاق اور صالح عمل کی طرف رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔ جب عقل وحی کی روشنی میں کام کرتی ہے تو انسان دنیا میں عدل، امن اور خیر کا ذریعہ بنتا ہے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے۔
خلاصہ:
قرآنِ مجید کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ تفکر اور تعقل ایمان کے معاون ہیں، نہ کہ اس کے مخالف۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اپنی نشانیوں سے بھر دیا ہے تاکہ انسان ان میں غور کرے، اپنے رب کو پہچانے اور اس کی اطاعت اختیار کرے۔ جو شخص قرآن اور کائنات دونوں میں تدبر کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں أُولُو الْأَلْبَاب میں شامل ہوتا ہے، اور یہی لوگ دنیا و آخرت کی کامیابی کے مستحق ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

قرآن مجید کی دعوت عقل و تدبر: انسانی فلاح کا بنیادی اصول

 

 

ارشد احمد ارشٓد

1.تعارف اور عقل کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان میں سب سے عظیم نعمت عقل ہے۔ عقل ہی وہ امتیازی وصف ہے جس کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات پر فضیلت رکھتا ہے۔ اسی عقل کے ذریعے انسان حق و باطل، خیر و شر، ہدایت و گمراہی اور نفع و نقصان میں تمیز کرتا ہے۔ اسلام نے عقل کو نہ صرف اہمیت دی ہے بلکہ اسے ایمان، علم اور عملِ صالح کے حصول کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں بار بار انسان کو سوچنے، سمجھنے، غور و فکر کرنے اور کائنات و وحی کی نشانیوں میں تدبر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
قرآنِ کریم کا اسلوب یہ نہیں کہ انسان کو محض تقلید پر آمادہ کرے، بلکہ وہ اس کے ضمیر، شعور اور عقل کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن میں تعقل، تدبر، تفکر، تذکر اور أُولُو الْأَلْبَاب جیسے الفاظ بار بار استعمال ہوئے ہیں، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان سے شعوری ایمان اور فکری بصیرت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی آیات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں، وہاں مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اللہ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کو پہچانے اور اس کا ایمان مضبوط ہو۔ اسی طرح امام قرطبی فرماتے ہیں کہ تدبرِ قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آیات کے معانی میں غور کرے اور ان پر عمل کرے، کیونکہ محض تلاوت مقصودِ شریعت نہیں۔
2: قرآن کی دعوتِ تعقل:
قرآنِ مجید انسان کو سب سے پہلے اپنے کردار اور عمل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ حوالہ:(سورۃ البقرۃ: 44)
ترجمہ: "کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کیا، لیکن اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو دوسروں کو نصیحت کرے مگر خود اس پر عمل نہ کرے۔ آیت کے آخر میں "أَفَلَا تَعْقِلُونَ” فرما کر یہ واضح کیا گیا کہ حقیقی عقل وہی ہے جو انسان کو اپنے قول و فعل میں یکسانیت اختیار کرنے پر آمادہ کرے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔ حوالہ:سورۃ: البقرۃ آیت: 73
ترجمہ: "پھر ہم نے فرمایا: اس (گائے) کا ایک حصہ اس (مقتول) پر مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں اس لئے ظاہر کرتے ہیں تاکہ انسان اپنی عقل استعمال کرے، حقیقت کو سمجھے اور اللہ کی قدرت پر کامل یقین حاصل کرے۔ گویا قرآن کے نزدیک عقل وحی کی مخالف نہیں بلکہ وحی کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

خلاصہ:
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو اندھی تقلید کی بجائے شعوری ایمان، خود احتسابی اور فکری بیداری کی دعوت دیتا ہے۔ جو شخص اپنی عقل کو قرآن کی روشنی میں استعمال کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنی اصلاح کرتا ہے بلکہ اپنے رب کی معرفت بھی حاصل کرتا ہے۔ یہی قرآنی فکر کی بنیاد ہے،
3: تدبرِ قرآن اور أُولُو الْأَلْبَاب:
قرآنِ مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، فکر اور عمل کی کتاب ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کی عقل کو بیدار کرنا، اس کے دل کو منور کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچانا ہے۔ اسی لئے قرآن بار بار انسان کو اپنی آیات میں تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تدبر کا مطلب کسی بات کے ظاہر پر اکتفا نہ کرنا بلکہ اس کے معانی، حکمت، مقاصد اور نتائج میں گہرائی کے ساتھ غور کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔ حوالہ:(سورۃ النساء: 82)
ترجمہ: "کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اعجاز کی ایک عقلی دلیل بیان فرمائی ہے۔ انسان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ قرآن کو کھلے ذہن سے پڑھے، اس کے مضامین پر غور کرے اور اس کے پیغام کو سمجھے۔ اگر یہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس میں تضادات اور اختلافات پائے جاتے، لیکن چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لئے اس میں کامل ہم آہنگی، حکمت اور حقانیت موجود ہے۔
امام طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قرآن میں تدبر کا حکم دیا تاکہ وہ اس کی سچائی، احکام کی حکمت اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن میں غور و فکر کی ترغیب دیتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا ہر حکم اور ہر خبر حکمت پر مبنی ہے۔
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:(سورۃ ص: 29)
ترجمہ: "یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید کے نزول کا ایک بنیادی مقصد تدبر ہے۔ صرف الفاظ کی تلاوت کافی نہیں، بلکہ آیات کے معانی، احکام، اخلاقی تعلیمات اور عملی تقاضوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہی تدبر انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے۔

آیت کے آخر میں "أُولُو الْأَلْبَاب” کا ذکر کیا گیا ہے۔ لُبّ کے معنی کسی چیز کے خالص اور بہترین حصے کے ہیں، اس لئے أُولُو الْأَلْبَاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل تعصب، خواہشات اور گمراہی سے پاک ہو۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کا رہنما بناتے ہیں۔
اسی مضمون کو سورۂ آل عمران میں نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:(سورۃ آل عمران: 190)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ أُولُو الْأَلْبَاب وہ ہیں:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ… حوالہ (سورۃ آل عمران:191)
ترجمہ: "جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔”
یہ آیات بتاتی ہیں کہ حقیقی عقل صرف علمی معلومات کا نام نہیں بلکہ ایسی بصیرت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کا یقین عطا کرے۔ اسی لئے امام قرطبی لکھتے ہیں کہ ان آیات میں اہلِ عقل کی پہچان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ذکر اور فکر دونوں کو جمع کرتے ہیں؛ ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے اور ان کا دل کائنات کی نشانیوں میں غور و فکر کرتا رہتا ہے۔

تفسیر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام علم اور عقل کا مخالف نہیں، بلکہ صحیح علم اور صحیح عقل انسان کو ایمان کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ جب عقل وحی کی رہنمائی میں کام کرتی ہے تو وہ انسان کو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی عطا کرتی ہے۔
خلاصہ:
اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے، سوچنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تدبرِ قرآن انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ أُولُو الْأَلْبَاب وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو اللہ کی آیات سے نصیحت حاصل کرکے اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ یہی وہ قرآنی منہج ہے جو انسان کو فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور روحانی کامیابی عطا کرتا ہے۔
4: تفکرِ کائنات اور عقل کا عملی استعمال:
قرآنِ مجید انسان کو صرف اپنی ذات یا قرآن کی آیات میں غور و فکر کی دعوت نہیں دیتا بلکہ پوری کائنات کو ایک عظیم کتاب قرار دیتا ہے، جس کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کی گواہی دیتی ہے۔ آسمان، زمین، سورج، چاند، بارش، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، نباتات اور انسان کی اپنی تخلیق، یہ سب اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں ہیں جن پر غور و فکر کرکے انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ اسی لئے قرآنِ کریم بار بار انسان کو تفکر کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔ حوالہ:سورۃ: الأعراف آیت: 184
ترجمہ: "کیا انہوں نے غور و فکر نہیں کیا؟ ان کے ساتھی (محمد ﷺ) کو کوئی جنون نہیں، وہ تو صرف کھلے طور پر ڈرانے والے ہیں۔”
اس آیت میں کفارِ مکہ کو دعوت دی گئی کہ وہ تعصب اور ضد سے ہٹ کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت، کردار اور دعوت پر غور کریں۔ اگر وہ انصاف کے ساتھ سوچیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ آپ ﷺ نہایت صادق و امین ہیں اور اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن جذبات یا اندھی تقلید کی بجائے دلیل اور عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عظیم نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ حوالہ:سورۃ: الروم آیت: 24
ترجمہ: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے، ڈر اور امید کے لئے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کا ہر نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا آئینہ دار ہے۔ بجلی کا چمکنا، بارش کا برسنا، خشک زمین کا سرسبز ہو جانا اور زندگی کا دوبارہ لوٹ آنا محض طبعی واقعات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی عقل کو صحیح سمت میں استعمال کرتے ہیں۔
علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بارش اور زمین کے زندہ ہونے کو قیامت کے دن مردوں کے دوبارہ زندہ کیے جانے کی دلیل بنایا ہے۔ جس ذات نے بے جان زمین کو زندگی دی، وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف امام قرطبی بھی اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات میں موجود ہر نشانی انسان کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور حکمت کا یقین دلاتی ہے، بشرطیکہ انسان تعصب سے پاک ہو کر غور و فکر کرے۔
قرآنِ مجید یہ بھی واضح کرتا ہے کہ نصیحت اور عبرت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کی عقل بیدار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔ حوالہ:سورۃ: الزمر آیت: 21

ترجمہ: "بے شک اس میں عقل والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے۔”
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہر شخص کے سامنے موجود ہیں، لیکن ان سے سبق وہی حاصل کرتا ہے جو خالص عقل اور کھلے دل کے ساتھ حق کی تلاش کرتا ہے۔ یہی لوگ أُولُو الْأَلْبَاب ہیں، جن کی عقل خواہشات، تعصب اور تقلیدِ باطل سے آزاد ہوتی ہے۔
تفسیر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید کا مقصد انسان کو کائنات کی نشانیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرنا ہے۔ جب انسان زمین، آسمان، بارش، نباتات اور اپنی تخلیق پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کا یقین پیدا ہوتا ہے، اور یہی یقین اسے اطاعتِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ قرآن جس عقل کی دعوت دیتا ہے وہ محض دنیاوی ذہانت نہیں بلکہ ایسی بصیرت ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچائے، اسے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے پر آمادہ کرے اور اس کی زندگی کو اخلاقی اصولوں کے مطابق ڈھال دے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک عقل کا مقصد صرف مادی ترقی یا سائنسی دریافتیں نہیں بلکہ انسان کو اپنے خالق کی معرفت، اعلیٰ اخلاق اور صالح عمل کی طرف رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔ جب عقل وحی کی روشنی میں کام کرتی ہے تو انسان دنیا میں عدل، امن اور خیر کا ذریعہ بنتا ہے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے۔
خلاصہ:
قرآنِ مجید کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ تفکر اور تعقل ایمان کے معاون ہیں، نہ کہ اس کے مخالف۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اپنی نشانیوں سے بھر دیا ہے تاکہ انسان ان میں غور کرے، اپنے رب کو پہچانے اور اس کی اطاعت اختیار کرے۔ جو شخص قرآن اور کائنات دونوں میں تدبر کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں أُولُو الْأَلْبَاب میں شامل ہوتا ہے، اور یہی لوگ دنیا و آخرت کی کامیابی کے مستحق ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں