ریاستی درجہ کا مطالبہ: نیشنل کانفرنس کا نئی دہلی سمیت جموں و کشمیر بھر میں احتجاج

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (NC) نے پیر کے روز قومی دارالحکومت نئی دہلی سمیت جموں و کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہوئے عوام کے آئینی حقوق، وقار اور مکمل ریاستی درجہ (Statehood) کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو مزید تاخیر کے بغیر پورا کرے۔
اسی سلسلے میں سرینگر کے نوائے صبح کمپلیکس، جموں کے شیرِ کشمیر بھون اور جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی احتجاجی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں پارٹی کے مقامی قائدین، عہدیداران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے عوام کے آئینی حقوق کی بحالی اور مکمل ریاستی درجہ کی واپسی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
نئی دہلی میں ہونے والے احتجاجی مارچ کی قیادت NC کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کابینہ وزراء، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ارکانِ پارلیمان، MLAs، پارٹی کے سینئر قائدین، عہدیداران، یوتھ ونگ اور خواتین ونگ کے نمائندے بھی اس میں شریک ہوئے۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے مظاہرین پر مختلف پابندیاں عائد کیں اور انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق، وقار، ریاستی درجہ کی بحالی اور مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے مطالبات درج تھے۔
احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس قومی دارالحکومت میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق، عزت و وقار اور مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ لے کر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے کیے گئے ان وعدوں کی یاد دہانی ہے جو پارلیمان، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے کیے گئے تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارٹی کا وفد جموں و کشمیر کے عوام کے جائز اور آئینی حق کا مطالبہ کرنے کے لئے پرامن انداز میں نئی دہلی پہنچا، لیکن افسوس کہ انہیں پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حقوق کو محدود کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارٹی کا مقصد جنتر منتر پر پُرامن دھرنا دے کر مرکزی حکومت کو اس وعدے کی یاد دہانی کرانا تھا جو پارلیمان اور سپریم کورٹ کے سامنے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ کی جلد بحالی کے حوالے سے کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی ریاستی درجہ کی جلد از جلد بحالی کی ہدایت دے چکی ہے۔ اگر حکومت عدالت کے مشاہدات پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتی تو اسے واضح طور پر اس کا اعلان کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ "مناسب وقت” پر ریاستی درجہ کی بحالی کی بات دہرائی جائے، جبکہ اس مناسب وقت کی کبھی وضاحت نہیں کی جاتی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر ملک کے سیاسی مرکز سے دور واقع ہے، اس لئے یہاں کے عوام کے مسائل اکثر قومی سطح پر مطلوبہ توجہ حاصل نہیں کر پاتے، اسی لئے نیشنل کانفرنس کو نئی دہلی آ کر حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی کرانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود پارٹی اپنے مطالبات کے حصول کے لئے پُرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
ادھر سرینگر میں نوائے صبح کمپلیکس واقع نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر میں بھی جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور ریاستی درجہ کی بحالی کے حق میں ایک الگ پروگرام منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلع سرینگر کے صدر پیر آفاق احمد نے کی۔ اس موقع پر پارٹی کے عہدیداران، کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اپنے مطالبات کی حمایت میں ایک پُرامن احتجاجی مارچ نکالا، تاہم پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے مارچ کو اس کے مقررہ راستے پر آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے باعث مظاہرین اپنا جلوس مکمل نہ کر سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

ریاستی درجہ کا مطالبہ: نیشنل کانفرنس کا نئی دہلی سمیت جموں و کشمیر بھر میں احتجاج

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (NC) نے پیر کے روز قومی دارالحکومت نئی دہلی سمیت جموں و کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہوئے عوام کے آئینی حقوق، وقار اور مکمل ریاستی درجہ (Statehood) کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو مزید تاخیر کے بغیر پورا کرے۔
اسی سلسلے میں سرینگر کے نوائے صبح کمپلیکس، جموں کے شیرِ کشمیر بھون اور جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی احتجاجی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں پارٹی کے مقامی قائدین، عہدیداران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے عوام کے آئینی حقوق کی بحالی اور مکمل ریاستی درجہ کی واپسی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
نئی دہلی میں ہونے والے احتجاجی مارچ کی قیادت NC کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کابینہ وزراء، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ارکانِ پارلیمان، MLAs، پارٹی کے سینئر قائدین، عہدیداران، یوتھ ونگ اور خواتین ونگ کے نمائندے بھی اس میں شریک ہوئے۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے مظاہرین پر مختلف پابندیاں عائد کیں اور انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل بھی داغے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق، وقار، ریاستی درجہ کی بحالی اور مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے مطالبات درج تھے۔
احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس قومی دارالحکومت میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق، عزت و وقار اور مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ لے کر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے کیے گئے ان وعدوں کی یاد دہانی ہے جو پارلیمان، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے کیے گئے تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارٹی کا وفد جموں و کشمیر کے عوام کے جائز اور آئینی حق کا مطالبہ کرنے کے لئے پرامن انداز میں نئی دہلی پہنچا، لیکن افسوس کہ انہیں پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حقوق کو محدود کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارٹی کا مقصد جنتر منتر پر پُرامن دھرنا دے کر مرکزی حکومت کو اس وعدے کی یاد دہانی کرانا تھا جو پارلیمان اور سپریم کورٹ کے سامنے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ کی جلد بحالی کے حوالے سے کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی ریاستی درجہ کی جلد از جلد بحالی کی ہدایت دے چکی ہے۔ اگر حکومت عدالت کے مشاہدات پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتی تو اسے واضح طور پر اس کا اعلان کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ "مناسب وقت” پر ریاستی درجہ کی بحالی کی بات دہرائی جائے، جبکہ اس مناسب وقت کی کبھی وضاحت نہیں کی جاتی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر ملک کے سیاسی مرکز سے دور واقع ہے، اس لئے یہاں کے عوام کے مسائل اکثر قومی سطح پر مطلوبہ توجہ حاصل نہیں کر پاتے، اسی لئے نیشنل کانفرنس کو نئی دہلی آ کر حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی کرانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود پارٹی اپنے مطالبات کے حصول کے لئے پُرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
ادھر سرینگر میں نوائے صبح کمپلیکس واقع نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر میں بھی جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور ریاستی درجہ کی بحالی کے حق میں ایک الگ پروگرام منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلع سرینگر کے صدر پیر آفاق احمد نے کی۔ اس موقع پر پارٹی کے عہدیداران، کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اپنے مطالبات کی حمایت میں ایک پُرامن احتجاجی مارچ نکالا، تاہم پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے مارچ کو اس کے مقررہ راستے پر آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے باعث مظاہرین اپنا جلوس مکمل نہ کر سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں