جنگ نیوز
وزیر اعظم نریندر مودی کے نیوزی لینڈ پہنچنے پر آکلینڈ میں شاندار اور تاریخی استقبال کیا گیا، جہاں وہ تقریباً چار دہائیوں بعد نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود آکلینڈ ہوائی اڈے پر وزیر اعظم مودی کا خیرمقدم کیا، جبکہ بڑی تعداد میں موجود ہندوستانی برادری نے ترنگے لہرا کر اور "کیا اوڑا مودی” کے نعروں کے ساتھ اپنے محبوب رہنما کا استقبال کیا۔ پورا ماحول ہندوستانی ثقافت اور جوش و خروش کے رنگ میں رنگا نظر آیا۔
بعد ازاں آکلینڈ میں منعقدہ خصوصی کمیونٹی استقبالیہ تقریب میں وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے شاندار ثقافتی ورثے کی جھلکیاں دیکھیں۔ تقریب میں پنجاب اور تمل ناڈو کی ثقافتی پیشکشوں کے علاوہ کرناٹک اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا خوبصورت امتزاج اور "وندے ماترم” کی پُرجوش پیشکش نے حاضرین کے دل جیت لئے۔
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پیغامات میں بھارتی تارکین وطن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں نسل در نسل ہندوستانی ثقافت اور روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہندوستان و نیوزی لینڈ کے عوامی روابط کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
انہوں نے ناد ووکل انسمبل کی پیشکش کو بھی سراہا اور کہا کہ موسیقی لوگوں کو جوڑنے کی منفرد طاقت رکھتی ہے، جبکہ آج کی تقریب نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوستی کی گرمجوشی اور گہرائی کو خوبصورتی سے اجاگر کیا۔
وزیر اعظم مودی کے دو روزہ دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ دورہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو نئی سمت دینے کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔


