
فردین احمد خاں فردؔین رضوی
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
سید الشہداء امام عالی مقام سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہما کی ذات والا صفات دنیا کے کسی حلقے میں محتاج تعارف نہیں۔ آپ کا اسم مبارک رہتی دنیا تک ہمت و بردباری اور صبر و ایثار کا استعارہ بن چکا ہے ۔میدان کار زار میں جو استقامت و ثابت قدمی کے جوہر آپ سے ظاہر ہوے ان کی مثال کسی دور و عصر میں نظر نہیں آتی ۔ کربلا میں جو کچھ ہوا وہ ایک ایسا الم ناک سانحہ تھا کہ جس کے اثرات صرف کسی ایک قوم یا وقت تک محدودو نہیں رہے بلکہ ایک عالمی تاریخی حقیقت (Global Historical Event) بن کر ثقافت انسانی پر انمٹ لکیر کی طرح ثبت ہو گیے۔ مرور زمانہ کے ساتھ کتنے ایسے حادثے ہوتے ہیں جو کہ رو نما ہو کر پردہ نسیان میں گم ہو جاتے ہیں، مگر اس تاریخی واقعے کی خاصیت یہ ہے کہ اسے پڑھنے والے گویا آج بھی تلواروں سے ٹپکتے خون کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اہل تاریخ کے اذہان آج بھی عش عش کر اٹھتے ہیں کہ ایک انسان کس طرح صرف حق کا پرچم بلند کرنے کی خاطر اپنے کنبے کا کنبے لٹا سکتا ہے ؟ اور یہ کیسا اعلی ایمان ہے کہ موت کو سامنے پاکر بھی متزلزل ہوتا نظر نہیں آتا ۔ ہم نے ماضی کی حکایات اٹھا کر دیکھیں تو کئی راجے مہاراجے تھے جو صرف جان بچانے کے لیے میدان سے فرار ہوے، کئیوں نے تو عورتوں کے لباس میں بھاگ نکلے کو غنیمت جانا، کچھ سلاطین تو ایسے بھی تھے کہ محض اپنے حفظ نفس کے لیے اہل و عیال کو موت کے منہ میں چھوڑ کر چلے آے۔ مگر کیا بات ہے اس شہزادے کی، جس کے گھر میں نہ تو سونا ہے نہ ہی ہیرے جواہر، جو نہ محلوں میں رہتا ہے نہ ریشم زیب تن ، جس کے نہ نوکر ہیں نہ وہ پالکی میں چلے، لیکن افریقہ کے بربروں سے لیکر البانیا کے الپوں تک، مصر کے باشندوں سے لیکر شام کے جاں بازوں تک اگر وہ ایک بار صدا لگا دے تو پورا کا پورا عالم اسلام اس کی آواز پر سمٹا چلا آے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کی حکومت دلوں پر اس طور نقش ہے جسے کوئی بڑے سے بڑا طوفان بھی مٹا نہیں سکتا۔ وہ سردار جب معرکہ حق و باطل کے لیے نکلا تو جہان بھر کے دیگر لوگوں کو اپنی لڑائی لڑنے پر آمادہ نہیں کیا بلکہ وقت آنے پر پہلے اپنے خانوادے اور پھر خود اپنی جان قربان کر کے حق کے علم کو ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔
حقیقت تو ہے کہ اسلام میں اس واقعہ کو حق و باطل کی لڑائی سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تاریخ میں اسے قلیل کی کثیر کے سامنے استقامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، مگر عالمی ثقافت کے تناظر میں یہ ظلم و صبر کے مابین جنگ تھی، جہاں ایک طرف ظالم کا ظلم تھا تو دوسری طرف صبر و رضا کے چمکتے ستارے۔ یہی وہ سانحہ تھا جس کے بعد ظلم کے خلاف لڑائی لڑنے ، ہمت و جرات کو ایک نام مل گیا "حسین”، آنے والے ادوار میں جب کبھی کوئی مظلوم حق گوئی اور بزدلی کے دو راہے پر گھڑا ہوا ،فیصلہ کرنے کے لیے اس کے پاس ایک مشعل نور موجود تھا ، اس کے پاس” امام حسین” تھے، جنہیں یاد کر کے وہ ہمت و حوصلہ حاصل کر سکتا تھا اور اپنی جد و جہد کو برقرار رکھ سکتا تھا ۔ یہ واقعہ رو پذیر ہونے کے سالوں بعد تک اور رہتی دنیا تک لوگوں کو ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ و جرات عطا کرتا رہے گا اور ایثار و حق گوئی کا چمن ہمیشہ لہلہاتا رہے گا۔ اگر یہاں کوئی اعتراض کرے کہ یہ واقعہ تاریخ سے متعلق ہے اور جو تاریخ سے واقف نہیں وہ کیسے اسے جانے گا؟ تو جواب یوں ہو گا کہ اگرچہ یہ حقیقت تاریخ کے پنوں میں ثبت ہے جس سے صرف نگاہ کیا جا سکتا ہے ، مگر وہیں دوسری طرف امام عالی مقام کے کروڑوں شیدائی ہیں جو اس حقیقت کو نسل در نسل منتقل کرتے آے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے، کاغذ کی پرتوں میں چھپے سچ کو تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر جب وہی تعلیمات زندگی کے سانچے میں ڈھل کر سامنے کھڑی ہوں تو ان سے منہ ہر گز نہیں موڑا جا سکتا ۔
یہاں مجھے یہ کہنے دیا جاے کہ جتنا اثر اس واقعہ کا عالم اسلام پر ہوا ہے ، اتنا ہی بلکہ چند صورتوں میں اس سے کہیں زیادہ اثر عالم مشرق و مغرب پر بھی ہوا ہے ۔ دنیاے شرق و غرب کے کئی ایسے قائدین، شہرت یافتہ ہستیاں اور اسکالر حضرات گزرے ہیں جنہوں نے حضرت امام حسین کے صبر و استقلال سے نہ صرف سیکھ لی ہے بلکہ ان کے افکار کو اپنی جد و جہد کا حصہ بنایا ہے ۔ اس دعوے کے ثبوت میں چند اقوال پیش کرنا چاہوں گا۔
٭ کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈورڈ -جی-براؤن (E.G. Brown)اپنی کتاب "ادبی تاریخ فارس” (A Literary History of Persia) میں امام عالی مقام کے متعلق رقم طراز ہیں: "کربلا کا خونیں منظر ایک ایسی تذکیر ہے جہاں رسول خدا کے نواسے کو شدید تشنہ لبی کی حالت میں اپنے اہل و عیال کی نعشوں کے مابین بے دردی سے شہید کر دیا گیا، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے سن کر ایک غافل و سنگ دل انسان بھی، ایسے شدید غم و اندوہ اور جذبات کے تلاطم سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا جن کے آگے خوف، موت اور درد ہیچ نظر آتے ہیں۔ "
٭ اسکاٹش تاریخ داں ، تھامس کارلائل (Thomas Carlyle) کہتے ہیں: "سانحہ کربلا سے جو سب سے عظیم درس حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ امام حسین اور ان کے جاں نثار حقیقی طور پر خدا پرست تھے۔ اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ جب معرکہ حق و باطل کے درمیان ہو تو تعداد افواج معنی نہیں رکھتی ، تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود امام کی فتح مجھے خوش گوار حیرت سے دو چار کرتی ہے ۔”
٭ مشہور انگریزی ناول نگار چارلس ڈکنس (Charles Dickens) لکھتے ہیں :”اگر امام حسین کی لڑائی ذاتی مفاد کے لیے ہوتی تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کی ہمشیرہ، اہلیہ اور اولاد ان کے ساتھ ہوتے ، لہذا یہ بات معقول ہے کہ ان کی قربانی خالص اسلام کے لیے تھی۔ "
٭ مستشرق ولیم موئر (William Muir) اپنی کتاب "ابتدائی خلافت کے دستاویز”(Annals of Early Caliphate)میں لکھتے ہیں: "سانحہ کربلا نے صرف خلافت ہی نہیں بلکہ بعد کی آنے والی مسلم سلطنتوں کی بقا کا بھی فیصلہ کیا جب کہ خلافت کو ختم ہوے عرصہ گزر چکا تھا۔”
٭ لبنانی مصنف آنٹوان بارا(Antoine Bara) اپنی کتاب "حسین: عیسائی افکار کے تناظر میں” (Husayn in Christian Ideology) میں لکھتے ہیں : "انسانی تاریخ میں کسی جنگ کو اس قدر ہمدردی اور تعریف حاصل نہیں اور نہ ہی کسی نے اتنے اعلی دروس دئیے ہیں جتنے جنگ کربلا میں امام حسین کی شہادت نے ۔”
یہ چند مثالیں مغربی دنیا سے پیش کرنے کے بعد یہ کہنا چنداں مشکل نہیں کہ امام حسین کے چرچے نہ صرف عرب و عراق کے صحراؤں میں ہیں بلکہ کیمبرج و کولمبیا کے کیمپس اور لندن کا ہاؤس آوف کامنس بھی آپ کی مدح وثنا سے گونج رہے ہیں ،جوش ملیح آبادی کہتے ہیں،
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ،ہمارے ہیں حسین
بعد ازاں میں کچھ اقوال مشرقی دنیا سے بھی پیش کرنا چاہوں گا۔
٭ آزادی ہند کے معمار گاندھی جی (M K Gandhi)امام عالی مقام کے متعلق کہتے ہیں: "مظلوم ہوتے ہوے بھی جنگ کیسے فتح کی جاتی ہے یہ میں نے امام حسین سے سیکھا ۔۔۔” اور کہتے ہیں کہ : "میرا یقین ہے کہ اسلام کی ترقی مسلمانوں کی تیغ بازی نہیں بلکہ اس عظیم ہستی امام حسین کی قربانئ اعظم کا ثمرہ ہے ۔”
٭آزاد ہندوستان کے دوسرے صدر، ڈاکٹر ایس-رادھا کرشنن (Dr. S Radha Krishnan) کہتے ہیں: "حال آں کہ امام حسین کو جاں قربان کیے صدیاں گزر گئیں، مگر ان کی لا فانی روح آج بھی دلوں پر حکومت کرتی ہے ۔”
٭ بلبل ہند ، سروجنی نائڈو (Sarojini Naidu) امام عالی مقام کے متعلق کہتی ہیں : "میں مسلمانوں کو مبارک باد پیش کرتی ہوں کہ ان میں سے امام حسین پیدا ہوے ، ایک ایسی ہستی جسے ہر خاص و عام کلی طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔”
٭ مشہور ہندوستانی نظم نگار ربندر ناتھ ٹیگور(Rabindranath Tagore) امام کی مدح میں یوں رقم طراز ہیں : "انصاف و حق کو زندہ رکھنے کے لیے افواج و اسلحہ کی بجاے جان قربان کر کے کی بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ، جیسا کہ امام حسین کے عمل سے ظاہر ہے۔ "
اس طرح کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جہاں امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی جاں بازی، جذبہ ایثار، حق گوئی، جرات و ہمت، شجاعت و بہادری نے مشرقی و مغربی دنیا کے اذہان و قلوب پر ایک نہ مٹنے والی چھاپ چھوڑی ہے ۔
غرض یہ کہ امام حسینؑ کی ذات صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے ایک مشعل راہ ہے، اور ہمیں چاہیے کہ آپ کے پیغام ایثار و وفا کو دنیا میں عام کرنے کی کوشش جاری رکھیں، اس یقین کے ساتھ کہ کل جب کوئی ظالم کسی پر جبر و جور کے پہاڑ توڑے تو مظلوم ہمت نہ ہارے اور حوصلہ نہ چھوڑے بلکہ امام عالی مقام کے کردار کو نمونہ عمل بناے اور ظلم کی طاقتوں کو زمیں بوس کر دے ۔ اپنی تاریخ سے آگاہی زندہ قوموں کی علامت ہوا کرتی ہے، مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ہمہ وقت اور ماہ محرم میں بالخصوص امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ذکر کی محفلوں کا اہتمام کریں اور ان کی تعلیمات کو دنیا کے شرق و غرب میں پہنچانے کی سعی فرمائیں۔ اقبال کے اس شعر سے اپنی گفتگو ختم کرنا چاہوں گا ،
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حُسین ، ابتدا ہے اسماعیل


