کشمیر کی ثقافتی شناخت میں خطاطوں کا کردار

 

جمیل انصاری

کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، علمی روایت، صوفیانہ تہذیب اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس خطے کی تہذیبی شناخت میں ادب، موسیقی، فنِ تعمیر، دستکاری اور مصوری کے ساتھ ساتھ خوشنویسی کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ خوشنویسی نہ صرف ایک بصری فن ہے بلکہ علم، روحانیت اور تہذیبی شعور کی آئینہ دار بھی ہے۔ کشمیر میں اس فن کی روایت صدیوں پر محیط ہے اور اس نے مذہبی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی تہذیب میں خوشنویسی کو ہمیشہ ایک مقدس فن سمجھا گیا، کیونکہ قرآنِ مجید کی کتابت اور دینی علوم کی تدوین اسی کے ذریعے ممکن ہوئی۔ کشمیر میں بھی یہ فن اسلامی تہذیب کے فروغ کے ساتھ پروان چڑھا اور مقامی ثقافت کا ایک لازمی جزو بن گیا۔

کشمیر میں خوشنویسی کا باقاعدہ فروغ چودھویں صدی عیسوی کے بعد دیکھنے میں آتا ہے، جب وسط ایشیا اور ایران سے صوفیا، علما اور فنکار اس وادی میں وارد ہوئے۔ بالخصوص حضرت میر سید علی ہمدانیؒ اور ان کے رفقا نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا بلکہ متعدد فنون اور دستکاریوں کو بھی متعارف کرایا۔ انہی کی کوششوں سے خوشنویسی کو نئی جہت ملی۔
فارسی زبان صدیوں تک کشمیر کی سرکاری، دفتری اور علمی زبان رہی، اس لیے فارسی رسم الخط اور خطِ نستعلیق کو یہاں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس دور میں قرآنِ مجید، تفاسیر، احادیث، فقہی کتب اور شعری مجموعے ہاتھ سے تحریر کیے جاتے تھے۔ کاتب اور خوشنویس علمی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ محققین کے مطابق کشمیر میں محفوظ قدیم مخطوطات یہاں کے خطاطوں کی اعلیٰ روایات، فنی مہارت اور علمی عروج کا واضح ثبوت ہیں۔

کشمیر کی مذہبی اور روحانی زندگی میں خوشنویسوں کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مساجد، خانقاہوں اور مزارات میں قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی خوبصورت کتابت نہ صرف مذہبی عقیدت کا اظہار ہے بلکہ اسلامی جمالیات کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔
جامع مسجد سرینگر، خانقاہِ معلیٰ، امام بارگاہ حسن آباد، بابا مزارِ علمگری بازار، مزارِ افضل شری بھٹ، مزارِ مدین صاحب اور دیگر تاریخی و مذہبی مقامات پر خوشنویسی کے شاندار نمونے آج بھی موجود ہیں۔ لکڑی پر کندہ قرآنی آیات، دیواروں پر خطِ ثلث اور خطِ نسخ کی تحریریں اس فن کی عظمت کی گواہ ہیں۔
کشمیر میں خطاطی کے تعین اور ارتقا کا بنیادی ماخذ مخطوطات، تاریخی عمارتوں پر موجود خطاطی، سکّہ جات اور سنگِ مزار پر کندہ تحریریں ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ زمانے کی دست برد اور بے احتیاطی کے باوجود ان میں سے متعدد نادر نمونے آج بھی محفوظ ہیں، جو کشمیر کی عظیم تہذیبی روایت کا حصہ ہیں۔

صوفی روایت میں بھی خوشنویسی کو روحانی ریاضت کا درجہ حاصل رہا ہے۔ بہت سے صوفیا قرآنِ کریم اور اذکار کی کتابت کو عبادت تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں خوشنویسی صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک روحانی ورثہ بھی ہے۔
کشمیر صدیوں سے علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں فارسی، عربی، اردو اور کشمیری زبانوں میں بے شمار علمی و ادبی تصانیف تخلیق کی گئیں۔ چھاپہ خانے کی ایجاد سے قبل ان تمام کتابوں کی نقل اور اشاعت خوشنویسوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی تھی۔

کشمیر کے کتب خانوں، خانقاہوں اور نجی ذخائر میں محفوظ نایاب مخطوطات آج بھی اس فن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ مخطوطات نہ صرف تاریخی اور ادبی سرمایہ ہیں بلکہ خوشنویسی کے اعلیٰ شاہکار بھی شمار کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام رسول رینہ کے مطابق، "کشمیر میں محفوظ فارسی اور کشمیری مخطوطات برصغیر کی علمی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، اور ان کی بقا میں خوشنویسوں کی محنت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔”
خوشنویسی کشمیر کی ثقافتی شناخت اور جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے۔ کشمیری دستکاریوں، خصوصاً پیپر ماشی، لکڑی کی نقش و نگاری، قالین بافی اور دیگر روایتی فنون میں خوش خط عبارتوں کا استعمال عام ہے۔
پیپر ماشی کے فن پاروں پر قرآنی آیات، فارسی و اردو اشعار اور تزئینی نقوش کشمیری فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ اسی طرح تاریخی عمارتوں، گھروں اور مذہبی مراکز میں موجود خوشنویسی کے نمونے کشمیری تہذیب کی نفاست، حسن اور فنی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشنویسی کو کشمیر میں خوبصورتی، وقار اور علمی ذوق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزڈ فونٹس کے فروغ نے روایتی خوشنویسی کو متعدد چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ کتابت کے روایتی طریقے تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور نئی نسل میں اس فن کی جانب رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود کشمیر کی کلچرل اکیڈمی، مختلف آرٹ اکیڈمیاں اور انفرادی فنکار خوشنویسی کے تحفظ اور فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ورکشاپس، نمائشوں اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کو اس عظیم فن سے روشناس کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تو خوشنویسی نہ صرف محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر نئی بلندیوں کو بھی چھو سکتی ہے۔
خوشنویسی کشمیر کی ثقافتی شناخت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ اس فن نے صدیوں سے مذہبی، ادبی اور علمی ورثے کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مساجد، خانقاہوں، مخطوطات اور روایتی دستکاریوں میں اس کی موجودگی کشمیر کی تہذیبی عظمت، فنی نفاست اور علمی وقار کی آئینہ دار ہے۔
ہمیں اپنی خطاطی کی روایات پر بجا طور پر فخر ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ قیمتی سرمایہ محسوس اور غیر محسوس انداز میں مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ تیز رفتار، ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے دور میں اس فن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف نئی نسل کو تربیت دینا ہی کافی نہیں، بلکہ قدیم مخطوطات، تاریخی کتب، مذہبی عمارتوں اور سنگی نوشتوں پر موجود خطاطی کے نادر نمونوں کی سائنسی بنیادوں پر حفاظت، دستاویز سازی اور ڈیجیٹل محفوظ کاری بھی ناگزیر ہے۔

آج جب ہم کشمیر میں خوشنویسی کے ماضی، حال اور مستقبل پر غور کرتے ہیں تو یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس عظیم ورثے کی حفاظت، تحقیق، ترویج اور آئندہ نسلوں تک منتقلی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہی اس فن سے حقیقی محبت، اپنی تہذیب سے وفاداری اور آنے والی نسلوں کے ساتھ ہمارا تاریخی فرض ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جب جمہوریت عوام کی آواز سنتی ہے

لوک سبھا کی جانب سے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ...

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

تازہ ترین خبریں

جب جمہوریت عوام کی آواز سنتی ہے

لوک سبھا کی جانب سے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ...

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کشمیر کی ثقافتی شناخت میں خطاطوں کا کردار

 

جمیل انصاری

کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، علمی روایت، صوفیانہ تہذیب اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس خطے کی تہذیبی شناخت میں ادب، موسیقی، فنِ تعمیر، دستکاری اور مصوری کے ساتھ ساتھ خوشنویسی کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ خوشنویسی نہ صرف ایک بصری فن ہے بلکہ علم، روحانیت اور تہذیبی شعور کی آئینہ دار بھی ہے۔ کشمیر میں اس فن کی روایت صدیوں پر محیط ہے اور اس نے مذہبی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی تہذیب میں خوشنویسی کو ہمیشہ ایک مقدس فن سمجھا گیا، کیونکہ قرآنِ مجید کی کتابت اور دینی علوم کی تدوین اسی کے ذریعے ممکن ہوئی۔ کشمیر میں بھی یہ فن اسلامی تہذیب کے فروغ کے ساتھ پروان چڑھا اور مقامی ثقافت کا ایک لازمی جزو بن گیا۔

کشمیر میں خوشنویسی کا باقاعدہ فروغ چودھویں صدی عیسوی کے بعد دیکھنے میں آتا ہے، جب وسط ایشیا اور ایران سے صوفیا، علما اور فنکار اس وادی میں وارد ہوئے۔ بالخصوص حضرت میر سید علی ہمدانیؒ اور ان کے رفقا نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا بلکہ متعدد فنون اور دستکاریوں کو بھی متعارف کرایا۔ انہی کی کوششوں سے خوشنویسی کو نئی جہت ملی۔
فارسی زبان صدیوں تک کشمیر کی سرکاری، دفتری اور علمی زبان رہی، اس لیے فارسی رسم الخط اور خطِ نستعلیق کو یہاں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس دور میں قرآنِ مجید، تفاسیر، احادیث، فقہی کتب اور شعری مجموعے ہاتھ سے تحریر کیے جاتے تھے۔ کاتب اور خوشنویس علمی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ محققین کے مطابق کشمیر میں محفوظ قدیم مخطوطات یہاں کے خطاطوں کی اعلیٰ روایات، فنی مہارت اور علمی عروج کا واضح ثبوت ہیں۔

کشمیر کی مذہبی اور روحانی زندگی میں خوشنویسوں کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مساجد، خانقاہوں اور مزارات میں قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی خوبصورت کتابت نہ صرف مذہبی عقیدت کا اظہار ہے بلکہ اسلامی جمالیات کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔
جامع مسجد سرینگر، خانقاہِ معلیٰ، امام بارگاہ حسن آباد، بابا مزارِ علمگری بازار، مزارِ افضل شری بھٹ، مزارِ مدین صاحب اور دیگر تاریخی و مذہبی مقامات پر خوشنویسی کے شاندار نمونے آج بھی موجود ہیں۔ لکڑی پر کندہ قرآنی آیات، دیواروں پر خطِ ثلث اور خطِ نسخ کی تحریریں اس فن کی عظمت کی گواہ ہیں۔
کشمیر میں خطاطی کے تعین اور ارتقا کا بنیادی ماخذ مخطوطات، تاریخی عمارتوں پر موجود خطاطی، سکّہ جات اور سنگِ مزار پر کندہ تحریریں ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ زمانے کی دست برد اور بے احتیاطی کے باوجود ان میں سے متعدد نادر نمونے آج بھی محفوظ ہیں، جو کشمیر کی عظیم تہذیبی روایت کا حصہ ہیں۔

صوفی روایت میں بھی خوشنویسی کو روحانی ریاضت کا درجہ حاصل رہا ہے۔ بہت سے صوفیا قرآنِ کریم اور اذکار کی کتابت کو عبادت تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں خوشنویسی صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک روحانی ورثہ بھی ہے۔
کشمیر صدیوں سے علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں فارسی، عربی، اردو اور کشمیری زبانوں میں بے شمار علمی و ادبی تصانیف تخلیق کی گئیں۔ چھاپہ خانے کی ایجاد سے قبل ان تمام کتابوں کی نقل اور اشاعت خوشنویسوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی تھی۔

کشمیر کے کتب خانوں، خانقاہوں اور نجی ذخائر میں محفوظ نایاب مخطوطات آج بھی اس فن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ مخطوطات نہ صرف تاریخی اور ادبی سرمایہ ہیں بلکہ خوشنویسی کے اعلیٰ شاہکار بھی شمار کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام رسول رینہ کے مطابق، "کشمیر میں محفوظ فارسی اور کشمیری مخطوطات برصغیر کی علمی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، اور ان کی بقا میں خوشنویسوں کی محنت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔”
خوشنویسی کشمیر کی ثقافتی شناخت اور جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے۔ کشمیری دستکاریوں، خصوصاً پیپر ماشی، لکڑی کی نقش و نگاری، قالین بافی اور دیگر روایتی فنون میں خوش خط عبارتوں کا استعمال عام ہے۔
پیپر ماشی کے فن پاروں پر قرآنی آیات، فارسی و اردو اشعار اور تزئینی نقوش کشمیری فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ اسی طرح تاریخی عمارتوں، گھروں اور مذہبی مراکز میں موجود خوشنویسی کے نمونے کشمیری تہذیب کی نفاست، حسن اور فنی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشنویسی کو کشمیر میں خوبصورتی، وقار اور علمی ذوق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزڈ فونٹس کے فروغ نے روایتی خوشنویسی کو متعدد چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ کتابت کے روایتی طریقے تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور نئی نسل میں اس فن کی جانب رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود کشمیر کی کلچرل اکیڈمی، مختلف آرٹ اکیڈمیاں اور انفرادی فنکار خوشنویسی کے تحفظ اور فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ورکشاپس، نمائشوں اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے نوجوان نسل کو اس عظیم فن سے روشناس کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تو خوشنویسی نہ صرف محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر نئی بلندیوں کو بھی چھو سکتی ہے۔
خوشنویسی کشمیر کی ثقافتی شناخت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ اس فن نے صدیوں سے مذہبی، ادبی اور علمی ورثے کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مساجد، خانقاہوں، مخطوطات اور روایتی دستکاریوں میں اس کی موجودگی کشمیر کی تہذیبی عظمت، فنی نفاست اور علمی وقار کی آئینہ دار ہے۔
ہمیں اپنی خطاطی کی روایات پر بجا طور پر فخر ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ قیمتی سرمایہ محسوس اور غیر محسوس انداز میں مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ تیز رفتار، ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے دور میں اس فن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف نئی نسل کو تربیت دینا ہی کافی نہیں، بلکہ قدیم مخطوطات، تاریخی کتب، مذہبی عمارتوں اور سنگی نوشتوں پر موجود خطاطی کے نادر نمونوں کی سائنسی بنیادوں پر حفاظت، دستاویز سازی اور ڈیجیٹل محفوظ کاری بھی ناگزیر ہے۔

آج جب ہم کشمیر میں خوشنویسی کے ماضی، حال اور مستقبل پر غور کرتے ہیں تو یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس عظیم ورثے کی حفاظت، تحقیق، ترویج اور آئندہ نسلوں تک منتقلی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہی اس فن سے حقیقی محبت، اپنی تہذیب سے وفاداری اور آنے والی نسلوں کے ساتھ ہمارا تاریخی فرض ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں