
محمد ایوب
ہر انسان اپنی سوچ، تجربات، تعلیم، ماحول اور مشاہدات کے باعث دوسروں سے مختلف انداز میں سوچتا ہے۔ یہی تنوع انسانی معاشرے کا حسن بھی ہے اور اس کی فکری قوت بھی۔ اگر دنیا کے تمام لوگ ایک ہی طرح سوچتے، ایک ہی زاویۂ نظر رکھتے اور ہر معاملے میں یکساں رائے رکھتے، تو شاید نہ کوئی نئی دریافت ہوتی، نہ کوئی سائنسی انقلاب برپا ہوتا، نہ ادب و فلسفہ جنم لیتا اور نہ ہی معاشرے ترقی کی منازل طے کر پاتے۔ اسی لئے اختلافِ رائے کو انسان کا بنیادی حق ہی نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی ناگزیر ضرورت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اختلاف دراصل انسانی عقل کی آزادی، فکری ارتقا اور اجتماعی شعور کا مظہر ہے، جس کے بغیر کسی بھی معاشرے میں صحت مند فکری ماحول قائم نہیں رہ سکتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختلافِ رائے کو اکثر ذاتی مخالفت، بغاوت یا دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص مروجہ سوچ سے ہٹ کر کوئی سوال اٹھاتا ہے یا کسی مسئلے پر مختلف نقطۂ نظر پیش کرتا ہے، اس کی نیت پر شبہ کیا جاتا ہے، اس کی کردار کشی کی جاتی ہے اور اسے خاموش کرانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ یوں دلیل کی جگہ جذبات، مکالمے کی جگہ الزام تراشی اور برداشت کی جگہ نفرت لے لیتی ہے۔ یہ رویہ کسی بھی معاشرے کے فکری زوال کی علامت ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اختلاف برداشت نہ کرنے کی یہ روش صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں بلکہ گھروں، تعلیمی اداروں، مذہبی اجتماعات اور سماجی روابط میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
جمہوری معاشروں کی اصل طاقت پارلیمان کی عمارتوں یا آئینی دستاویزات میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہوتی ہے کہ وہاں مختلف آوازوں کو سنا جاتا ہے۔ اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے اور فیصلے دلیل، مکالمے اور اجتماعی دانش کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ جہاں اختلاف کو جرم سمجھا جائے، وہاں تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں، تحقیق رک جاتی ہے اور معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ آزاد مکالمہ کسی بھی ریاست کی فکری زندگی کا لازمی جز ہے، کیونکہ یہی مختلف آرا بہتر پالیسی سازی، انصاف اور سماجی توازن کی بنیاد بنتی ہیں۔
اسلامی تاریخ بھی اختلافِ رائے کے مثبت نمونوں سے بھری پڑی ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے مختلف معاملات میں اپنی آرا پیش کیں، فقہائے امت کے درمیان علمی اختلافات رہے، لیکن ان اختلافات نے کبھی باہمی احترام، اخوت اور اخلاقی حدود کو مجروح نہیں کیا۔ انہوں نے یہ سبق دیا کہ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں بلکہ حق کی تلاش میں مختلف راستوں کا اختیار کرنا ہے۔ جب دلیل ختم ہو جائے اور تہذیب کا دامن چھوٹ جائے تو اختلاف فساد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی اسلامی روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام، رواداری اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے اظہارِ رائے کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ آج ہر شخص کے ہاتھ میں موجود موبائل فون ایک چھوٹا سا میڈیا ہاؤس بن چکا ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر اختلافِ رائے اکثر گالم گلوچ، نفرت انگیز زبان، جھوٹی معلومات اور ذاتی حملوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رائے سے اختلاف کرنے کے بجائے شخصیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس ماحول میں نہ صرف سچائی متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر ڈیجیٹل ذرائع کو ذمہ داری، تحقیق اور اخلاقیات کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی پلیٹ فارم علمی مکالمے اور مثبت سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اختلافِ رائے کا حق لامحدود نہیں۔ ہر معاشرے میں قانون، اخلاقیات اور دوسروں کے بنیادی حقوق کی حدود موجود ہوتی ہیں۔ ایسی رائے جو تشدد، نفرت، مذہبی یا سماجی منافرت اور جھوٹ کو فروغ دے، اسے آزادیِ اظہار کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اسی طرح محض کسی مختلف رائے رکھنے والے کو غدار، دشمن یا باغی قرار دینا بھی انصاف اور جمہوریت دونوں کے منافی ہے۔ قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کا احترام ہی اختلاف اور آزادیِ اظہار کے درمیان متوازن تعلق قائم رکھ سکتا ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں کا المیہ یہ ہے کہ وہاں طلبہ کو اکثر صرف جواب یاد کرنا سکھایا جاتا ہے، سوال کرنا نہیں۔ حالانکہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے نوجوانوں میں تنقیدی شعور، مکالمے کا سلیقہ اور اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ جب نوجوان دلیل سے اختلاف کرنا سیکھ لیتے ہیں تو وہ معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں، لیکن جب انہیں صرف خاموش رہنا سکھایا جائے تو معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد آزاد ذہن، باشعور شخصیت اور ذمہ دار شہری پیدا کرنا ہے، نہ کہ محض امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا۔
آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بنائیں۔ کسی بھی رائے کو رد کرنے سے پہلے اسے سننا، سمجھنا اور دلیل سے اس کا جواب دینا ایک مہذب شہری کی پہچان ہے۔ برداشت، مکالمہ اور احترام ہی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط معاشرے تعمیر ہوتے ہیں۔ تاریخ نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ قومیں اختلافِ رائے سے نہیں بلکہ عدم برداشت سے ٹوٹتی ہیں۔ جب مختلف آوازوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے تو معاشرے اپنی تخلیقی قوت، فکری تازگی اور اجتماعی بصیرت کھو دیتے ہیں، جبکہ اختلاف کو عزت دینے والے معاشرے ہی علم، انصاف اور ترقی کی نئی منزلیں طے کرتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا دراصل اپنے نظریات پر اعتماد، جمہوری اقدار سے وابستگی اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ہم ایک پرامن، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اختلاف کرنے کا نہیں بلکہ اختلاف سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا۔


