جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت 23 مزید افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے نام قانون کے چوتھے شیڈول میں شامل کر دیے ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 11 افراد بھی شامل ہیں، جبکہ حکومت کے مطابق یہ تمام افراد اس وقت پاکستان یا پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر سے سرگرم ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت دہشت گردی کے خلاف "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر قائم ہے اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس اقدام سے دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورک، بھرتی، نقل و حرکت اور دیگر سرگرمیوں پر مؤثر روک لگانے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، وزارتِ داخلہ کے مطابق نامزد کیے گئے افراد کا تعلق جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ، حرکت المجاہدین، القاعدہ اور داعش سمیت مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے۔ ان پر سرحد پار دراندازی، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی فراہمی، دہشت گردوں کی بھرتی، مالی معاونت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔


