جنگ نیوز
لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور اِنٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا کے زیر اہتمام منعقدہ ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ پروگرام سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے ہندوستان کی قدیم تہذیب ورثے کو اُجاگر کیا جو باہمی احترام پر قائم ہے جہاں مختلف مذاہب باہم مل جل کر رہتے ہیںاور دُنیا کو امن کی حکمت سکھاتے ہیں۔
اُنہوںنے کہا،’’دُنیا اِس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندومت سناتن دھرم جو دُنیا کا سب سے قدیم مذہب ہے، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ بلکہ اِس نے تنوع اورہم آہنگی کو اَپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایسی بنیاد قائم کی جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور زرتشتی مذہب کو آزادی کے ساتھ پنپنے کا موقع دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ایک ایسی دنیا میں جو تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی ہے، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اَصل رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج دُنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر بٹی ہوئی ہے لیکن ہندوستاتی فکر میں ان تقسیموں کو ختم کرنے کی منفرد طاقت موجود ہے۔‘‘
اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک زندہ نظریہ ہے جو یہ پیغام دیتا ہے کہ ِانسانیت کو ایک خاندان کی طرح مل جل کر رہنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس ویژن کو آگے لے جاناہوگا اور دُنیا کویہ یاد دِلانا چاہیے کہ اَمن باہمی احترام سے ممکن ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’ علمی، روحانی اور ثقافتی زبان میں اسے ’’ہندوستانیت‘‘ کہتے ہیں، جو ایک ایسا تصور ہے جس نے دُنیا کو تمام مذاہب کے لئے یکساں احترام، سچائی کی جستجو، کثرت میں وحدت ، ’’واسودھیو کٹم بکم‘‘ اور مشترکہ ثقافتی شعور کا پیغام دیا۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے قدیم تحریریں، وید اور اپنشدجوزائد اَز پانچ ہزار سال پرانی علمی روایت کی علامت ہیں، نے ہمیشہ ہم آہنگی سے زِندگی گزارنے کا درس دیا ہے۔ اُنہوں نے اِنسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہوئے مل جل کر رہیں ۔ یہی ابدی اصول ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہزاروں سال پہلے ہمارے رشیوں و سنتوں نے کہا تھا کہ سچائی کسی ایک راستے تک محدود نہیں ہے۔ سچائی لامحدود ہے اور اس تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں۔ اِسی لئے ہندوستان نے ہمیشہ تنوع کو تقسیم نہیں بلکہ ایک نعمت سمجھا ہے۔ یہ نظریہ ہندوستان کے تاج جموں و کشمیر میں جھلکتا ہے جہاں صدیوں سے ہم آہنگی اور بقائے باہمی کا جذبہ زِندگی کا حصہ رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’لوگ اکثر لفظ ’کشمیرت‘ اِستعمال کرتے ہیں، جو دراصل ’ہندوستانیت‘ کے فلسفے سے جنم لیتی ہے اور اِس بنیادی جذبے کی علامت ہے جو ہندوستان نے ویدک دور سے دُنیا کو تمام مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے لئے یکساں احترام سکھایا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب بارہویں اورتیرہویں صدی میں اِسلام ہندوستان آیا اور بہت سے صوفی بزرگ اور اسلامی علماء یہاں تشریف لائے تو انہیں ایک ایسی منفرد ہندوستانی تہذیب ملی جو محبت، روحانیت، ہمدردی اور مساوات پر قائم تھی۔
اُنہوں نے کہا،’’صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مت اور جین مت کی تعلیمات سے متاثر ہوئے اور اُنہوں نے ہندوستانی صحیفوں سے بقائے باہمی کے نظریات سیکھے ۔ اِس کے علاوہ سنسکرت علم کے بے شمار ذخیرے عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔ میں منتقل کئے گئے۔ ہمارے آباؤ اجداد دعا کرتے تھے،’’سرو بھونتو سکھینا: سرو سنتو نرامیہ ‘‘ یعنی سب خوش رہیں اور سب بیماریوں سے محفوظ رہیں۔یہ دعا کسی ایک مذہب یا فرقے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ پوری اِنسانیت کی بھلائی کی دعا ہے، میرا ماننا ہے کہ یہ ہندوستان کی پہچان ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی کو اپنا عقیدہ چھوڑنے کو نہیں کہا۔ ہندوستان ہمیشہ یہ پیغام دیتا آیا ہے کہ اپنا عقیدہ، اپنی روایات ساتھ لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ یہ ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔‘‘
اِس موقعہ پر سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کرن سنگھ، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسرنیلوفر خان،صدر انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد،ڈائریکٹر نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لنگویج نئی دہلی ڈاکٹر ایم ڈِی شمس اقبال، بانی دارا شکوہ سینٹر سری نگر ڈائریکٹر ڈاکٹر جیوتسنا سنگھ، ڈائریکٹر آپریشنز انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا ڈاکٹر نسرین شما، صدرکشمیر رائٹرز ایسوسی ایشن فدا فردوس، نیشنل کوآرڈی نیٹر انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیانوید الاسلام خان، ایس ایس پی سرینگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی ، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اکشے لابرو ، سینئر افسران ، ممتاز شہری اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔


