
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
اسلامی تاریخ اور عقائد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پاکیزہ گھرانہ ’’اہلِ بیت‘‘ ایک مرکزی اور کلیدی مقام رکھتا ہے۔ اہلِ بیت کی معنویت صرف نسبی تعلق تک محدود نہیں، بلکہ یہ دین کی بقا، علم کی ترویج اور اخلاقی و سماجی اصلاح کا ایک روشن مینار ہیں۔
ذیل میں اُن کی دینی، علمی، روحانی، اخلاقی اور سماجی معنویت کا ایک مختصر جائزہ پیش ہے، مثلاً:
1۔ دینی معنویت
دینی نقطۂ نظر سے اہلِ بیت کی محبت اور اتباع کو ’’جزوِ ایمان‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر اس تعلق سے مختلف آیات و فرمودات موجود ہیں، جیسے:
آیتِ تطہیر کی گواہی:
قرآنِ مجید میں ہے:
اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمھیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ (الاحزاب: 33)
حضرت عمر بن ابی سلمہ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو اُس وقت میں حضرت اُمِ سلمہ کے خانۂ اقدس پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین کو بلایا اور اُن پر اپنی چادر ڈال دی، پھر بارگاہِ الٰہی میں یہ دعا فرمائی:
’’یا اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، اِن سے نجاست دور فرما اور اِنھیں خوب پاک فرما۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث: 2424)
یہ آیت و حدیث اہلِ بیت کی طہارت، عظمت اور عزت کی واضح دلیل ہیں۔
آیتِ مودّت کی گواہی:
قرآنِ مجید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داروں سے محبت کا حکم آیا ہے اور اسے کارِ ثواب بتایا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابت داروں (اہلِ بیت) سے محبت۔‘‘ (الشوریٰ: 23)
اہلِ بیت سے شدید محبت پلِ صراط پر ثباتِ قدمی کی ضمانت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اَثْبَتُکُمْ عَلَی الصِّرَاطِ اَشَدُّکُمْ حُبًّا لِاَھْلِ بَیْتِیْ وَلِاَصْحَابِیْ۔
(دیلمی، مسند الفردوس بمأثور الخطاب، جلد: 1، حدیث: 331)
ترجمہ: پلِ صراط پر تم میں زیادہ ثابت قدم وہ رہے گا جو میرے اہلِ بیت اور میرے صحابہ سے شدید محبت کرنے والا ہوگا۔ (مسند الفردوس، 1/331)
یہ آیت و حدیث اس بات کی علامت ہیں کہ اہلِ بیت سے محبت دراصل اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہے، اور اللہ و رسول سے محبت عینِ دین ہے۔
حدیثِ ثقلین کی گواہی:
اہلِ بیت رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر تم اُن دونوں کا دامن تھامے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ اُن میں سے ایک قرآنِ مجید ہے اور دوسرے میرے اہلِ بیت۔‘‘
(مسند احمد، حدیث: 11119)
اس حدیث کی تائید آیتِ اعتصام سے بھی ہوتی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’تم سب کامل طور پر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ (آلِ عمران: 103)
اس آیت کی تفسیر میں اہلِ سنت کے جلیل القدر اور معتمد و معتبر محدث و مفسر امام ثعلبی لکھتے ہیں کہ ’’حبل اللہ‘‘ (اللہ کی رسی) سے مراد قرآنِ مجید اور دینِ اسلام ہیں، اور امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کی روایات کے مطابق ’’اہلِ بیت‘‘ بھی مراد ہیں۔ (تفسیر ثعلبی، زیرِ آیتِ مذکور)
مزید برآں ’’حدیثِ ثقلین‘‘ میں قرآنِ مجید اور اہلِ بیت دونوں سے متعلق ’’تمسک‘‘ (مضبوطی سے تھامنے) کا حکم آیا ہے، جو اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔
الغرض یہ آیت و حدیث اس پر شاہدِ عدل ہیں کہ قرآن کے ساتھ اہلِ بیت بھی ’’حبل اللہ‘‘ میں داخل ہیں اور اُن کا تمسک بھی لازم ہے، یعنی قرآنِ پاک کی طرح اہلِ بیتِ اطہار بھی اتحاد و اتفاق اور رشد و ہدایت کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی سے نجات کا اہم ذریعہ ہیں۔
2۔ علمی و روحانی معنویت
علمی و روحانی لحاظ سے بھی اہلِ بیت اعلیٰ مقام پر فائز ہیں، بلکہ دراصل وہ علمِ نبوی کے اصلی و حقیقی وارث و امین ہیں، جن پر قرآنِ کریم کی متعدد آیات دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً قرآنِ کریم میں جہاں کہیں بھی ’’الراسخون فی العلم‘‘، ’’اہل الذکر‘‘، ’’صاحبانِ علم الکتاب‘‘ وغیرہ کا ذکر آیا ہے، اُس سے مراد و مصداق ممتاز شخصیات میں اہلِ بیت ثریا کی مانند ہیں، اور اس پر دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ مشہور فرمودات ہیں جن میں فرمایا گیا ہے:
1۔ ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کے دروازے ہیں۔‘‘ (المستدرک: 4637)
2۔ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔ (جامع ترمذی، باب مناقب علی، حدیث: 3713)
ترجمہ: میں جس کا مولیٰ ہوں، علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3713)
معلوم ہوا کہ اسلامی عقائد و احکامات، تفسیر و تشریح اور باطنی اسرار و رموز تک رسائی کے لئے اہلِ بیت کی دہلیز پر پہنچنا لازمی ہے۔ سیدنا علی، سیدہ فاطمہ زہرا، امام حسن، امام حسین، امام زین العابدین اور امام زید، اور بعد کے علمائے اہلِ بیت نے جس طرح علمِ دین کی حفاظت اور اُس کی ترویج و اشاعت فرمائی، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔
3۔ سماجی و اخلاقی معنویت
اہلِ بیت کی سماجی معنویت محض ایک خاندان کی نہیں بلکہ ایک ’’کردار‘‘ کی ہے، جس نے معاشرے کو جینے کا سلیقہ عطا کیا، مثلاً:
ایثار اور سخاوت:
اہلِ بیت فقر و فاقے میں بھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے۔ خود بھوکے رہنا گوارا تو تھا لیکن کوئی بھوکا رہے، یہ گوارا نہیں تھا۔
ایک مرتبہ حسنینِ کریمین بیمار ہوئے تو سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ زہرا نے تین روزے رکھنے کی منت مانی۔ جب افطار کا وقت آیا تو پہلے دن ایک مسکین، دوسرے دن ایک یتیم اور تیسرے دن ایک قیدی نے دروازے پر دستک دی۔ اہلِ بیت نے تینوں دن اپنے افطار کا کھانا سائل کو دے دیا اور خود صرف پانی سے افطار کیا۔
اہلِ بیت کے اس عمل کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے (الدہر: 8-9) میں فرمایا ہے:
’’وہ اللہ کی محبت میں اپنا کھانا مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔‘‘
(تفسیر بسیط)
سخاوت صرف مال کی نہیں ہوتی بلکہ جان کی بھی ہوتی ہے۔ ہجرت کی رات جب کفارِ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے محاصرے میں تھے تو یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہی تھے جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر پر آرام فرما ہوئے۔
ایسے ہی جاں نثاروں کی تعریف اللہ سبحانہٗ نے اپنے مقدس کلام میں بیان فرمائی ہے:
’’اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو رضائے الٰہی پانے کے لئے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ: 207)
پھر ایثار و سخاوت کی معراج تو اُس وقت ہوئی جب اہلِ بیت نے کربلا میں دینِ اسلام کی بقا کے لئے اپنا گھر بار، مال و اسباب اور جوان بیٹوں سے لے کر چھ ماہ کے علی اصغر تک کی قربانی پیش کر دی۔ پیاس کی شدت کے باوجود اہلِ بیت کا صبر و استقامت اور رضائے الٰہی پر راضی رہنا رہتی دنیا تک اُن کے ایثار کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
ظلم کے خلاف مزاحمت:
اہلِ بیت نے باطل سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ معرکۂ کربلا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں سیدنا امام حسین نے حق و ناحق کے درمیان محض ایک واضح لکیر نہیں کھینچی بلکہ بقائے دین و ملت کی خاطر اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ ظلم کا خاتمہ اور انسانیت کی بقا اصولوں پر قائم رہنے میں ہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان بھی ہے:
’’سب سے بہتر جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔‘‘ (ترمذی، حدیث: 2174)
اتحادِ اُمت کا مرکز:
جس طرح قرآن تمام مکاتبِ فکر کے لئے محبت و اتحاد کا مرکز ہے، اُسی طرح اہلِ بیت بھی تمام مکاتبِ فکر کے لئے محبت و اتحاد کا مرکز ہیں۔ معاشرتی وحدت اور اخوت و مروّت کی علامت ہیں، جہاں رنگ، نسل اور علاقے کے فرق مٹ جاتے ہیں۔ اس کی واضح دلیل حدیثِ ثقلین ہے۔
علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
’’تمہارے درمیان میرے اہلِ بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے، جو اُس میں سوار ہوا اُس نے نجات پائی اور جو اُس سے دور ہوا وہ غرق ہو گیا۔‘‘
(مسند الشہاب، حدیث: 1345)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ بیت کی محبت اور اتباع کسی ایک جماعت یا گروہ کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ اُمتِ مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ جب اُمت قرآن کے ساتھ اہلِ بیت کے دامن کو بھی تھام لیتی ہے تو وہ فکری اور عملی ہر طرح کے انتشار و اختلاف سے محفوظ و مامون ہو کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (مرکزِ اتحاد) بن جاتی ہے۔
حسنِ اخلاق کے پیکر:
اہلِ بیت نے اپنے عمل و اخلاق سے بھی سماج و معاشرے کو تقویٰ و طہارت، عاجزی و انکساری، عزیمت و استقامت اور صبر و شکر کے اسباق دیے، جیسے:
عزیمت و استقامت اور صبر و شکر ایسا کہ جوان و شیر خوار بچوں کی لاشیں سیدنا امام حسین کی گود میں ہیں مگر شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں۔
مصالحت پسندی ایسی کہ سیدنا امام حسن نے تخت و تاج بھی دے ڈالے اور اُف تک نہ کی۔ یہ محض اس لئے تاکہ اُمتِ مسلمہ اور انسانی سماج و معاشرہ آپسی خوں ریزی کا شکار نہ ہوں اور بہر صورت صلح و آشتی قائم رہے۔
رضائے الٰہی کی صادق و خالص طلب ایسی کہ حق و باطل کی جنگ کے دوران بھی شکست خوردہ دشمن سیدنا علی کے چہرے پر تھوک دے تو اُسے محض اس لئے معاف کر دیں کہ کہیں اخلاص و للّٰہیت میں کچھ بال نہ آ جائے، اور جذبۂ عدل ایسا کہ خلیفۂ وقت ہوتے ہوئے بھی بلا جھجک عدالتی کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں۔
حیا و پردہ ایسا کہ سیدہ فاطمہ اپنا جنازہ بھی رات میں نکالنے کا حکم دیں تاکہ کسی نامحرم کی نظر اُن پر نہ پڑ جائے۔ (الاستیعاب، 4/1898)
ایسے میں سیدنا امام علی کا عفو و درگزر، سیدہ فاطمہ کی عفت و حیا، امام حسن کی صلح جُوئی اور امام حسین کی استقامت و عزیمت آج بھی ہر مسلمان کے لئے دینی و دنیوی دونوں سطحوں پر زندگی گزارنے کے لئے بہترین اصول فراہم کرتی ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ اہلِ بیتِ اطہار کی دینی معنویت یہ ہے کہ وہ ’’کشتیِ نوح‘‘ کی مانند ہیں کہ جو بھی اُن کے دامن سے وابستہ ہوا وہ نجات پا گیا، اور علمی و روحانی معنویت یہ ہے کہ وہ اسرارِ ربانی و علومِ ربانی کے بحرِ بیکراں ہیں جس میں ڈوب کر ہی زندگی کا سراغ پایا جا سکتا ہے، جب کہ سماجی اور معاشرتی طور پر وہ ایک ایسے نظام کے علمبردار ہیں جو عدل، مساوات اور انسانیت کے تحفظ کا ضامن ہے۔
گویا اُن کی زندگی کا مطالعہ اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنا ماضی، حال اور مستقبل، ہر زمانے میں مذہبی، ملی، سماجی و معاشرتی فساد و بگاڑ کا عمدہ اور واحد حل ہے۔
عداوت ہو جسے آلِ عبا سے
بھٹک جائے نہ کیوں راہِ ہدیٰ سے
سعیدؔ، اللہ کی قربت ملی ہے
غلامیٔ درِ آلِ عبا سے


