ایک نئی عالمی قوت متعارف

 

بے نام گیلانی

اس ماہ کا آغاز ایک جانب مثبت اور دوسری جانب منفی رہا۔ مثبت اس اعتبار سے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر کسی حد تک قدغن لگی، لیکن منفی اس لیے کہ تقریباً تین برس سے جاری روس اور یوکرین کی جنگ تھمنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اس کے خاتمے کے امکانات بھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔
اس تمام صورتِ حال میں امریکہ کا کردار مسلسل زیرِ بحث ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت ہونے کے ناطے امریکہ خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، لیکن طاقت کا یہی احساس بعض اوقات تکبر اور یکطرفہ فیصلوں کو جنم دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم یا حکمران پر اقتدار کا نشہ غالب آتا ہے تو اس کے نتائج عام انسانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
امریکہ 4 جولائی 1776ء کو برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تھا۔ عام طور پر غلامی سے نجات پانے والی قومیں اپنے تلخ تجربات کو یاد رکھتی ہیں، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات آزادی کے بعد طاقت حاصل کرنے والے خود دوسروں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلاشبہ امریکہ ایک وسیع اور طاقتور ملک ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کی خارجہ پالیسی پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کی اور کئی ممالک کو جنگ و عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدور بدلتے رہے، مگر عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال کی پالیسی کم و بیش برقرار رہی۔
موجودہ دور میں دنیا کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ متعدد ممالک اب یک قطبی عالمی نظام کو قبول کرنے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کی بات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں نئی صف بندیاں ابھر رہی ہیں اور مختلف طاقتیں عالمی سیاست میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جہاں تک عالمی جنگ کے تصور کا تعلق ہے، عمومی طور پر جوہری ہتھیاروں کو عالمی جنگ سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، لیکن تاریخ اس کی تائید نہیں کرتی۔ پہلی جنگِ عظیم میں جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے، اس کے باوجود وہ ایک عالمی جنگ تھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے، مگر عالمی جنگ کی تعریف صرف اسی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔
راقم کے نزدیک موجودہ دور کے بعض تنازعات، خواہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اپنے اثرات اور شمولیت کے اعتبار سے عالمی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان جنگوں میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دنیا کے متعدد ممالک شامل ہیں، جس سے ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ان تنازعات میں ہونے والے جانی نقصانات کے درست اعداد و شمار سامنے نہیں آتے، کیونکہ مختلف فریق اپنے اپنے مفادات کے تحت معلومات جاری کرتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عام شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت میں قابلِ افسوس ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری آبادیوں کا تحفظ تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارے اکثر ان تنازعات میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں ان کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نظامِ انصاف اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ بھی مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے، جبکہ حامی حلقے اسے اپنی سلامتی اور مفادات کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر، یہ حقیقت واضح ہے کہ موجودہ بحران نے عالمی سیاست میں نئے سوالات اور نئے توازنِ قوت کو جنم دیا ہے۔
مذکورہ حالات کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں نئی عسکری اور سیاسی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ وہ ممالک جو ماضی میں عالمی سیاست کے حاشیے پر سمجھے جاتے تھے، آج بین الاقوامی معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بتدریج ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت کا مرکز کسی ایک ملک کے بجائے مختلف خطوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا سیاسی سبق ہے کہ کوئی بھی طاقت ہمیشہ کے لیے ناقابلِ چیلنج نہیں رہتی۔ تاریخ کا پہیہ مسلسل گردش میں رہتا ہے اور ہر عروج کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ آج عالمی منظرنامے پر بھی اسی تبدیلی کے آثار نمایاں دکھائی دے رہے ہیں، جہاں ایک نئی عالمی قوت اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

ایک نئی عالمی قوت متعارف

 

بے نام گیلانی

اس ماہ کا آغاز ایک جانب مثبت اور دوسری جانب منفی رہا۔ مثبت اس اعتبار سے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر کسی حد تک قدغن لگی، لیکن منفی اس لیے کہ تقریباً تین برس سے جاری روس اور یوکرین کی جنگ تھمنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اس کے خاتمے کے امکانات بھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔
اس تمام صورتِ حال میں امریکہ کا کردار مسلسل زیرِ بحث ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت ہونے کے ناطے امریکہ خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، لیکن طاقت کا یہی احساس بعض اوقات تکبر اور یکطرفہ فیصلوں کو جنم دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم یا حکمران پر اقتدار کا نشہ غالب آتا ہے تو اس کے نتائج عام انسانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
امریکہ 4 جولائی 1776ء کو برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تھا۔ عام طور پر غلامی سے نجات پانے والی قومیں اپنے تلخ تجربات کو یاد رکھتی ہیں، لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات آزادی کے بعد طاقت حاصل کرنے والے خود دوسروں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلاشبہ امریکہ ایک وسیع اور طاقتور ملک ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کی خارجہ پالیسی پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کی اور کئی ممالک کو جنگ و عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدور بدلتے رہے، مگر عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال کی پالیسی کم و بیش برقرار رہی۔
موجودہ دور میں دنیا کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ متعدد ممالک اب یک قطبی عالمی نظام کو قبول کرنے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کی بات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں نئی صف بندیاں ابھر رہی ہیں اور مختلف طاقتیں عالمی سیاست میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جہاں تک عالمی جنگ کے تصور کا تعلق ہے، عمومی طور پر جوہری ہتھیاروں کو عالمی جنگ سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، لیکن تاریخ اس کی تائید نہیں کرتی۔ پہلی جنگِ عظیم میں جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے، اس کے باوجود وہ ایک عالمی جنگ تھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے، مگر عالمی جنگ کی تعریف صرف اسی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔
راقم کے نزدیک موجودہ دور کے بعض تنازعات، خواہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اپنے اثرات اور شمولیت کے اعتبار سے عالمی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان جنگوں میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دنیا کے متعدد ممالک شامل ہیں، جس سے ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ان تنازعات میں ہونے والے جانی نقصانات کے درست اعداد و شمار سامنے نہیں آتے، کیونکہ مختلف فریق اپنے اپنے مفادات کے تحت معلومات جاری کرتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عام شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت میں قابلِ افسوس ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری آبادیوں کا تحفظ تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارے اکثر ان تنازعات میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں ان کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نظامِ انصاف اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ بھی مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے، جبکہ حامی حلقے اسے اپنی سلامتی اور مفادات کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر، یہ حقیقت واضح ہے کہ موجودہ بحران نے عالمی سیاست میں نئے سوالات اور نئے توازنِ قوت کو جنم دیا ہے۔
مذکورہ حالات کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں نئی عسکری اور سیاسی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ وہ ممالک جو ماضی میں عالمی سیاست کے حاشیے پر سمجھے جاتے تھے، آج بین الاقوامی معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بتدریج ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت کا مرکز کسی ایک ملک کے بجائے مختلف خطوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا سیاسی سبق ہے کہ کوئی بھی طاقت ہمیشہ کے لیے ناقابلِ چیلنج نہیں رہتی۔ تاریخ کا پہیہ مسلسل گردش میں رہتا ہے اور ہر عروج کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ آج عالمی منظرنامے پر بھی اسی تبدیلی کے آثار نمایاں دکھائی دے رہے ہیں، جہاں ایک نئی عالمی قوت اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں