نیوز ڈیسک
سرینگر/منوج سنہا نے آج سرینگر میں عالمی کشمیری پنڈت کنکلیو میں شرکت کی ۔ اس تاریخی تقریب میں کشمیری پنڈت برادری کے لچک ، نشاۃ ثانیہ اور واپسی کے جشن کو منانے کیلئے ہندوستان اور بیرون ملک سے کشمیری پنڈت برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عالمی کشمیری پنڈت کنکلیو کمیونٹی کے صبر اور لچک کا جشن مناتا ہے اور ان کی کامیابیوں کا احترام کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر کمیونٹی کے ارکان کی واپسی کی بنیاد رکھتا ہے ۔
مسٹر منوج سنہا نے کہا ’’ تبدیلی کا ایک لمحہ یہاں ہے ۔ وہ لوگ جو ایک بار اپنے وطن سے اکھڑ گئے تھے اُن کی وطن واپسی سب سے سچی فتح ہے ۔ کاروباری رہنماؤں ، کارپوریٹ سربراہوں ، ٹیکنالوجی کے کاروباریوں اور ثقافتی شبیہین کی موجودگی جموں و کشمیر کے امن میں اعتماد کا ایک طاقتور پیغام بھیجتی ہے اور عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں انتظامی استحکام پر بھروسہ کرتی ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ کشمیری پنڈت کمیونٹی کا سفر نسل کشی ، جلا وطنی اور جدوجہد کے زخموں سے بھرا ہوا ہے ۔ دُنیا نے ایک بار ان کے زخموں کا مشاہدہ کیا اور اب ان کی فتح دیکھ رہی ہے ۔ کمیونٹی نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے زخموں اور جدوجہد سے خود کو متعین ہونے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے اس درد کو طاقت میں تبدیل کر دیا ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کشمیری پنڈت کمیونٹی کے ممتاز اراکین سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں صنعتوں ، تعلیمی اور ثقافتی اداروں کا قیام کریں جو ان کی وراثت کی ابدی کہانی بن جائیں گے اور آنے والی نسلوں کو مواقع فراہم کریں گے ۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری پنڈت کمیونٹی کا تعاون صنعت ، تعلیم ، فنون لطیفہ اور روحانیت کے شعبوں میں ناگزیر ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’مجھت یقین ہے کہ زندگی کا حقیقی معیار اس میں ہے کہ ہم کیا واپس دیتے ہیں ، وہ امید جو ہم پیدا کرتے ہیں اور وہ تبدیلی جو ہم اپنے معاشرے اور قوم کیلئے چھوڑ جاتے ہیں ۔ یہی ایک بامعنی زندگی کا جوہر ہے اور یہی حقیقی خدمت ہے اور یہی وہ ورثہ ہے جو آنے والے نسلوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتا رہے گا ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی کہا کہ دنیا 1990 کی دہائی کو یاد رکھتی ہے جب کشمیری پنڈت برادری کو ناقابل تصور ظلم و بربریت کا سامنا کرنا پڑا ، قتلِ عام برداشت کرنا پڑے اور راتوں رات خاندانوں کو سب کچھ چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں جلا وطنی کی زندگی گذارنی پڑی ۔
انہوں نے کہا ’’ درد اور جدوجہد سے بھری زندگیوں نے کشمیری پنڈت برادری کے سامنے صرف مایوسی یا دوبارہ تعمیر کے دو راستے رکھے ۔ انہوں نے تخلیق ، دوبارہ تعمیر اور بے لوث خدمت کا راستہ اختیار کیا اور ایسا کرتے ہوئے اس برادری نے تاریخ رقم کر دی ۔ قتلِ عام کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھی وہ اپنے مقصد سے کبھی نہیں مڑے ۔
مشکلات نے کبھی کشمیری پنڈت برادری کے حوصلے کو نہیں تاڑا ۔ تکلیف نے ان کی خواہش اور عزائم کوکبھی خاموش نہیں کیا بلکہ انہوں نے صنعتوں کی بنیاد رکھ کر ، ادارے قائم کر کے ، جدت طرازی کو آگے بڑھا کر اور دنیا بھر میں احترام حاصل کر کے اپنی تقدیر خود سنواری ‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج میں اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ کشمیری پنڈت برادری کو کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچنے پر سراہا جا رہا ہے ۔ دُنیا ان کے فن ، قیادت اور انسانیت کیلئے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گلوبل کنکلیو یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری پنڈت برادری کی قدیم شان و شوکت کی تعمیر نو اور احیاء کا وقت آ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کنکلیو میں عالمی صنعتوں اور اداروں کی تعمیر اور مشترکہ معاشی مستقبل پر ہونے والی بات چیت ثقافتی احیاء ، معاشی بااختیاری اور برادری کی بحالی کیلئے خاکہ اور راستے ہیں ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ آپ نے جدوجہد کو طاقت میں تبدیل کیا اور اس جدوجہد نے برادری کے ایسے لیڈروں کو جنم دیا جنہوں نے ٹیکنالوجی ، فائنانس ، طب ، فنون لطیفہ اور سول سروسز میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں ۔ اس جدوجہد میں آپ کی وابستگی نے ایسے کاروباری افراد پیدا کئے جنہوں نے عالمی مارکیٹوں کو تشکیل دینے والی کمپنیاں بنائیں اور مجھے یقین ہے کہ اس نے ایسے علماء بھی پیدا کئے جنہوں نے تعلیمی دنیا کو مالا مال کیا اور پالیسیوں پر اثر انداز ہوئے ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کنکلیو میں موجود معزز اراکین سے کہا ’’ آپ کی ترقی کے ذریعے کشمیری پنڈت کمیونٹی نے دنیا کو یاد دلایا کہ عزم ، ہمت اور استقامت ہی سب سے بڑھ کر ہتھیار ہیں ۔ آج جب دنیا آپ کی کامیابیوں کا جشن منا رہی ہے تو وہ آپ کے فن ، آپ کے صبر اور اس روح کی عزت کر رہی ہے جس نے کبھی سر نہیں جھکایا ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کشمیری پنڈت کمیونٹی کی واپسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ 2019 کے بعد ایک نیا جموں و کشمیر پیدا ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ اس نئے جموں و کشمیر کی طاقت آپ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس کی امید آپ کے وژن کی عکاسی کرتی ہے ، جموں و کشمیر ، جس نے کشمیری پنڈت کمیونٹی کے قتلِ عام ، درد اور بے گھری کا سامنا کیا تھا ، اسے قابلِ احترام وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے تعمیر نو کا مرکز بنا دیا ہے ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ کشمیری پنڈت کمیونٹی کا وکست بھارت کی تعمیر میں حصہ داری بہت اہم ہو گی اور قوم کی ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرے گا ۔
اس موقع پر شرکاء نے مختلف سیشنز دیکھ جن کے دوران ممتاز مقررین اور کشمیری پنڈت کمیونٹی کے نمایاں اراکین نے اپنے تجربات اور بصیرت کا اشتراک کیا ۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، صدر کشمیری اوورسیز ایسوسی ایشن ( کے او اے ) مسٹر اُپہار کوٹرو ، انٹر نیشنل کوارڈینیٹر اور گلوبل کشمیری پنڈت ڈائسپورہ ( جی کے پی ڈی ) مسٹر اُتپل کول ، صدر کشمیری پنڈت ایسوسی ایشن ( کے پی اے ) ممبئی مسٹر اشونی بھٹ ، صدر آل مائنارٹی ایمپلائیز ایسوسی ایشن کشنمیر مسٹر سنجے کول ، سوشل ایکٹوسٹ اور آرگنائیزنگ سیکرٹری سنجیونی شاردا کیندر مسٹر اوتار کرشن ٹرکرو ، صدر جموں کشمیر وچار منچ مسٹر دلیپ مٹو ، صدر یوتھ آل انڈیا کشمیری سماج مسٹر آر کے بھٹ ، پولیس اور سول انتظامیہ کے سینئر افسران ، نمایاں شہری ، نوجوان اور کشمیری پنڈت کمیونٹی کے بڑی تعداد میں اراکین بھی شریک ہوئے ۔


