سرینگر:
دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں بھارتی منڈیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ایران اور کشمیر میں پیداوار میں کمی کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے "سرخ سونا” کہلانے والے اس قیمتی مصالحے کی دستیابی مزید محدود کر دی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی ہیں۔
کاشتکاروں اور تاجروں کے مطابق مغربی ایشیا میں سیاسی تناؤ، بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹیں اور کشمیر میں زعفران کی کاشت کو درپیش مسلسل مشکلات قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تازہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق تنازعات کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ تاجروں کے مطابق تجارتی راستوں، نقل و حمل اور مستقبل کی سپلائی سے متعلق خدشات نے پہلے ہی محدود منڈی پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
جنوبی کشمیر کے پانپور قصبے، جو "زعفران ٹاؤن” کے نام سے معروف ہے، میں زعفران کاشتکاروں کی ایک انجمن کے صدر عبدالمجید نے بتایا کہ مقامی پیداوار میں کمی اور ایران سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کشمیر میں زعفران کی پیداوار معمول سے کہیں کم رہی، جبکہ ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی منڈی میں دستیابی کو مزید محدود کر دیا۔
واضح رہے کہ دنیا کی تقریباً 90 فیصد زعفران پیداوار ایران میں ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ شمال مشرقی صوبے خراسان سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ایران کو عالمی سطح پر زعفران کی پیداوار کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
زعفران کی کاشت اور تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث خریداری کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ درآمد کنندگان اور تاجروں کے مطابق ایرانی زعفران، جو عام طور پر 150 سے 160 روپے فی گرام فروخت ہوتا تھا، اب کئی منڈیوں میں 190 سے 200 روپے فی گرام تک پہنچ چکا ہے۔


