جنگ نیوز
اسلامی سال کے آخری جمعہ کے موقع پر جامع مسجد ایچھ گام، بڈگام میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انفرادی و اجتماعی محاسبہ نفس، سماجی ذمہ داریوں کے احساس اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
میرواعظ نے کہا کہ اسلامی سال کا اختتام ہر مسلمان کے لئے غور و فکر، احتسابِ نفس اور اپنی زندگی کے مختلف پہلوو ¿ں کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزرے ہوئے سال کے دوران حاصل ہونے والی نعمتوں، درپیش آزمائشوں اور اپنے دینی و سماجی فرائض کے حوالے سے سنجیدہ غور و فکر وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام کے تصورِ محاسبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جس طرح افراد کو اپنے اعمال، کردار اور رویّوں کا جائزہ لینا چاہیے، اسی طرح معاشروں کو بھی اپنی مجموعی سمت، ترجیحات اور اجتماعی رویّوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہم ایمان، انصاف، دیانت داری، رحم دلی، ہمدردی اور باہمی احترام جیسی اعلیٰ اسلامی و انسانی اقدار کے قریب ہو رہے ہیں یا ان سے دور جا رہے ہیں، کیونکہ یہی اقدار ایک صالح، مستحکم اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔
معاشرے کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران بے شمار خاندانوں نے دکھ، غیر یقینیت اور مختلف مشکلات کا سامنا کیا ہے، جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند اور بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم ان اخلاقی اور سماجی بنیادوں کو مضبوط کریں جو معاشرے کو متحد اور مستحکم بناتی ہیں اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لئے مشترکہ جدوجہد کو فروغ دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ محض معاشی یا مادی ترقی سے وجود میں نہیں آتا بلکہ مضبوط خاندانی نظام، معیاری تعلیم، باشعور اور ذمہ دار نوجوانوں، محروم اور کمزور طبقات کی کفالت اور انصاف، انسانی وقار اور اجتماعی بھلائی کے عزم سے تشکیل پاتا ہے۔
میرواعظ نے علماء، خطباء اور واعظین کے کردار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ منبر ایک مقدس امانت ہے جسے ایمان کی مضبوطی، اخلاقی اصلاح، حکمت، اعتدال، رحم دلی اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دینی رہنماو ¿ں پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر امت کی رہنمائی کریں اور ایسے بیانات اور خطابات سے اجتناب کریں جو مسلمانوں کے درمیان انتشار، تفرقہ یا باہمی دوریوں کا سبب بنیں۔
اتحادِ امت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ آج جبکہ دنیا بھر میں مسلمان مختلف مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان مشترکہ عقائد، اقدار اور اصولوں کو مضبوط بنائیں جو امت کو جوڑتے ہیں، نہ کہ ان اختلافات کو ہوا دیں جو تقسیم اور کمزوری کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کا آفاقی پیغام اخوت، باہمی احترام، رواداری، عدل اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی ہے، اور موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔
اس دوران ایک طویل عرصے کے بعد جب میرواعظ ایچھ گام پہنچے توعوام خاص طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے موصوف کا گلدستوں اور گلباری کے ذریعہ پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا اور ان کی آمد پر علاقہ بھر میں خوشی اورمسرت کی لہر دوڑ گئی۔
سیکریٹری


