ڈاکٹر محمد یاسین گنائی
پلوامہ کشمیر
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
(علامہ اقبالؔ)
جس طرح جانداروں خاص کر انسانوں کی ناسٹلجیا ہوتی ہے،ٹھیک اسی طرح زُبانوں ،کتابوں اور اصناف کی بھی عجیب وغریب ناسٹلجیا ہوتی ہے۔آج زیرِ تبصرہ کتاب’’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘ کی رسم رونمائی کے موقع پر اُردو زُبان کی اپنی ناسٹلجیا دعوتِ سُخن دے رہی ہے اور غلام حسن طالبؔ کا ادبی سفر الگ سے اپنی ناسٹلجیائی داستان سنانے کو بے تاب ہے،لیکن انشائیہ بطور صنف اپنی ایک خوبصورت چار سو سالہ ناسٹلجیائی داستان رکھتی ہے۔اس صنف کا آغاز غیرارادی طور پر ملاوجہی کے ہاتھوں 1635 سے پہلے ہوا تھا اور اس کے نمونے’’سب رس‘‘نامی تمثیلی داستان میںملتے ہیں۔انشائیہ کی تازہ کڑی حال میں طالبؔ کی زیرِ ِبحث کتاب ہے اور اس کی اولین کڑی ماضی میں وجہی کی ’’سب رس‘‘ ہے۔دیکھنے ،پرکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ1635 سے2026 تک اس صنف کی جڑیں مضبوط کرنے والے تمام انشائیہ نگار خراجِ تحسین کے مُستحق ہیں۔
زیرِ نظر کتاب ’’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘مُصنف کے بتیس انشائیوں کا مجموعہ ہے اور مجموعی طور پر ان کے انشائیوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ ’’گوہر سُفتہ‘‘ فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنو کے مالی تعاون سے شائع ہوا تھا۔ جہاں تک ان بتیس انشائیوں کے موضوعات کی بات ہے تو ’’ہر دیگی چمچہ، ہر فن مولا، حجامت، بڑھاپا، آدمیت، آئینہ، ایوانِ صدارت، جنابِ عالی‘‘ کو سماج کا آئینہ کہاسکتا ہے کیونکہ یہ عنوانات بطور منصب، پروفیشن اور عہدہ اپنی اہمیت وافادیت بیان کرتے ہیں۔ جہاں تک’’ فُرصت، زمانہ، رشتے، ہوس،تگڈم بازی، ڈپلومیسی، مہمان داری، ہمدردی، احساس، خیال، مکان، حساب کتاب، لومیریج، کریک ڈاؤن ‘‘وغیرہ کی بات ہے تو ان میں کچھ سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے ابتدائی دو انشائیے سماج کے دو ایسے کرداروں کے بارے میں ہیں جو ہر جگہ اور ہر کام میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔’’ ہر دیگی چمچہ ‘‘میں سماج کے اُس منفی کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے جو خوشامد کا پیروکار بن کر ہر کام میں ٹانگ اڑانا چاہتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے گدھے کو بھی باپ بنا تا ہے۔ اس کے مقابلے میں "ہر فن مولا” ایک مثبت کردار ہے جو ہمارے ڈیلی ویجر ملازم کی طرح ہرکام کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کرپاتا ہے۔ یوں ’’ہر دیگی چمچہ‘‘ اور’’ہر فن مولا‘‘ اگرچہ ہمارے معاشرے کے دو اہم کارندے ہیں لیکن اول الذکر ہر جگہ اور ہر کام میں دخل اندازی کے باوجود اپنے لیے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے میں ناکام نظرآتا ہے جبکہ دوسرے کو ہر کام میں لگایا جاتا ہے اور یوں وہ اپنا اصل کام بھی بھول جاتا ہے۔یوں ’’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘میں کچھ اشراف کے ساتھ ساتھ اَجلاف(کمینے) کی زندگی کا خاکہ بھی کھینچا گیا ہے اور اگر تیسری آنکھ سے مشاہدہ کیا جائے تو’’ہر دیگی چمچہ، ہرفن مولا،ڈپلومیسی،حجامت،جنابِ عالی،تگڈم بازی،لومیریج اور ایوان صدارت‘‘میں ایسے ہی اشخاص کو سامنے لانے کی پہل نظر آتی ہے۔
ان انشائیوں کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان میں مصنف نے اپنی زندگی کے ستر سالہ تجربات و مشاہدات کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ ان مشاہدات و تجربات کو سیدھے سادھے الفاظ و اسلوب کے بجائے مصنف نے طنز و مزاح کے رنگ میں رنگا ہے ۔ان انشائیوں کو سیاسی و سماجی، معاشی و مذہبی تصورات کے حوض میں بھی نہلایا گیا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ انشائیے پھیکے پڑ جاتے ۔ زبان و بیان کے معاملے میں ہم ایسی نثر پڑھتے ہیں جس کا اب خال خال ہی نمونہ دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔ ’’حجامت، مہمان داری، ہمدردی، احسان، حساب کتاب، مکان، خیال، فرصت، غصہ اور شرارت، زمانہ، بڑھاپا، رشتے، ہوس‘‘ سب کے سب مصنف کے تجربات و مشاہدات پر مبنی انشائیے ہیں۔
’’ حجامت‘‘میں مصنف نے حجامت کو بطور پیشہ سماج کے لیے ایک جیتا جاگتا آئینہ پیش کیا ہے اور اس میں کسی بھی لحاظ سے حجام کی تضحیک یا اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونے دیا ہے۔ بلکہ اس پیشہ سے تمام پیشوں کی اہمیت وافادیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہاں حجامت پیشہ بہاریوں اور لڑکیوں کو احساسِ برتری کا شکار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پیشے کی مدد سے مصنف نے گائوں اور شہر کے حجام گھروں کی سیر کرائی ہے اور کبھی پگڈنڈی، تو کبھی ٹاٹ پر کی جانے والی حجامت کے سنہرے دور کی یاد تازہ کی ہے۔ کہاں پرانے زمانے میں لوگ زمین پر بیٹھ کر حجامت کرواتے تھے اور کہاں آج فسٹ کلاس مجسٹریٹ کی جیسی سندلیوں پر لوگ سیلون گھروں اور ہیر ڈریسنگ دکانوں پر سکون و اطمینان کے انداز میں حجامت کے نام پر مساج، میک اپ، مہندی وغیرہ لگاتے ہیں۔ مصنف نے کیا خوب انداز میں ایک حقیر سا پیشہ نظر آنے والی حجامت کو بادشاہوں کی فضیلت بخشی ہے۔ان انشائیوں میں نرالی بات یہی ہے کہ ان میں ادبیت بھی ہے اور علمیت بھی۔ یہاں طنز و مزاح کے انداز بھی ملتے ہیں اور بات سے بات نکلنے کا ڈھنگ بھی۔
’’مکان ‘‘بھی ایک حقیقت پسند اور مشاہدات کا عملی مظاہرہ ہے۔ اس میں مصنف نے مکان کی اہمیت، مکان کے مترادفات ؛گھر اور خانہ کے ساتھ ساتھ مکان تعمیر کرنے سے مکان جلنے تک کا ذکر کیا ہے۔ مہمان کو گھر دعوت دینا ہو یا کسی کو مکان نمبر دینا ہو، انسانوں کے مکان ہوں یا پھر مختلف مخلوق کے نوح نوح کے مکانات ہوں، ان کا ذکر خوش اسلوبی سے کیا ہے اور یہ بات واضح کی ہے کہ مکان صرف رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ یادوں کا مسکن بھی ہے اور ماضی کا دریچہ بھی ۔بقول مصنف جس کا کوئی مکان نہیں ہوتا گویا اس کی کوئی پہچان نہیں ہوتی ہے۔
جب ہم انشائیہ’’ حساب کتاب ” کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں دنیاوی حساب کتاب کا موازنہ آخروی حساب کتاب سے کیاگیا ہے۔ دنیاوی حساب کتاب سے ہوتے ہوئے آخروی حساب کتاب تک اور پھر دنیاوی تعلیم کے مشکل ترین مضمون علمِ ریاضی کی بات چھیڑی ہے اور اس کا اثر کم ہونے کے وجوہات بیان کیے ہیں۔ آسمانی کتب یعنی قرآن، زبور، انجیل اور تورات کا خاکہ کھینچا ہے۔ یوں حساب کتاب کا ایک مکمل احاطہ پیش کیا ہے۔ ’’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘مصنف کی ایک ایسی جمع پونجی ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ یہاں فرش سے عرش تک کا حسبِ حال عمودی لکیریں بیاں کرتی ہیں، جبکہ مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کے کشف و قبور افقی لکیروں سے بیان کیا گیا ہے۔چند انشائیوں کے اقتباسات پیش کرتے ہیں:
’’اب ٹریک تھری ڈپلومیسی بھی لانچ ہو رہی ہے۔ اس میں پبلک اور کلچرل دونوں قسم کی ڈپلومیسی شامل ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی، کشتی ڈپلومیسی اور نہ جانے کتنی اور ڈپلومیسیاں ہوں گیں جو سفارت کاروں کے دلوں کے بہلانے کے کام آتی ہیں ۔‘‘(ڈپلومیسی)
’’سماج میں مشہور ہونے کی جتنی تمنا اکثر سیاست دانوں، ادیبوں، شاعروں، واعظین، علمائے دین، مقررین وغیرہ کو ہوتی ہے، اتنی آرزو تکنیکی خصوصیات رکھنے والے افراد کو نہیں ہوتی ہے۔‘‘ (مشہور ہونا)
’’ایوانِ صدارت میں مدعو کرنے والوں کے انتخاب یا نامزدگی کے لیے کوئی قاعدہ نہیں بنا ہے البتہ یہ بات طے ہے کہ پرایوں کو اپنوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔‘‘(ایوانِ صدارت )
جہاں تک جموں و کشمیر میں انشائیہ نگاری کے ماضی، حال اور مستقبل کی بات ہے تو تینوں زمانے یکساں قسم کے معلوم ہوتے ہیں۔ماضی میں بھی انشائیہ نگاری کے حوالے سے یہی روش ملتی ہے کہ صرف ذائقہ بدلنے کے لیے انشائیہ نگاری کی طرف توجہ کی گئی تھی اور جن حضرات کے قلم میں ایسی روانی تھی کہ اس میدان میں ملکی سطح پر جموں و کشمیر کی نمائندگی بھی کرسکتے تھے اور اپنا نام ناموروں کی فہرست میں درج کراسکتے تھے ، انہوں نے بھی نہ جانے کس مصلحت کے پیشِ نظر اس صنف کو بیچ راہ میں چھوڑ دیا ۔ بہرحال جب جموں و کشمیر میں اس صنف کے حال پر نظر دوڑاتے ہیں تو لکھنے والوں کا ایسا کال نظر آتا ہے کہ ان کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے اور اگر ان میں عمدہ اور بہترین انشائیہ نگاروں کا انتخاب پیش کیا جائے تو دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کسی شمار میں نہیں آتی ہیں۔ عصر ی منظر نامے کے طور پر شیرازہ کا انشائیہ نمبر قابل ذکر ہے اور اس میں بھی گنتی کے چند انشائیہ نگارملتے ہیں۔
جہاں تک طالب کے زیر نظر انشائیوں کے مجموعہ ’’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘ کی بات ہے تو اس سے وہی قارئین زیادہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں جن کے پاس فرصت ہو، جو اطمینان سے ایک ایک انشائیہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریںگے ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ’پھلجھڑی انشائیوں کی‘‘کے اوصاف، اہداف، اشراف، اوظاف، اطراف کے پیش نظر اس کو کچھ سنجیدہ قاری نصیب ہوں جو حقیقی معنوں میں طالبؔ کی محبت اور محنت کا حق ادا کرسکیں۔۲۰۲۵میں منظر عام پر آنے والی یہ کتاب۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت ۴۰۰ روپے ہے۔طالبؔ صاحب کے قلم میں جو روانی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روانی میں مزید برکت عطا فرمائے اور طالبؔ صاحب کو اردو زباں و ادب کا دامن بھرنے کی مزید استقامت عطا فرمائے۔ ایک قلمکار میں اتنا حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ ادب برائے ادب ،ادب برائے زندگی، ادب برائے سماج،ادب برائے انسانیت پر توجہ مرکوز رکھے اور ادب برائے اشتہار، ادب برائے چاپلوسی، ادب برائے انعام سے اپنے فن کو دور ہی رکھے تو بہتر ہے۔


