
فراء تسکین
اردو ادب کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، جس میں ہر قلم کار اپنے منفرد اسلوبِ نگارش، فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث الگ شناخت رکھتا ہے۔ اہلِ قلم اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ نئی نسل تک اردو کی شیرینی، تہذیبی وراثت اور ادبی روایات منتقل کی جا سکیں۔ بعض ادیب اپنی خداداد صلاحیتوں، محنت اور علمی و ادبی خدمات کے ذریعے نہ صرف ادب کو ثروت مند بناتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کو بھی منفرد شناخت عطا کرتے ہیں۔ ایسے ہی فعال اور باصلاحیت ادیبوں میں واجد اختر صدیقی کا نام نمایاں ہے۔
واجد اختر صدیقی کا تعلق ریاستِ کرناٹک کے تاریخی اور علمی شہر گلبرگہ سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان ان کی ادبی خدمات ہیں۔ وہ ان چند قلم کاروں میں شامل ہیں جو بیک وقت نثر اور شاعری دونوں میدانوں میں مہارت رکھتے ہیں اور مسلسل تصنیف و تالیف کے ذریعے اردو ادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اردو ادب میں تنقیدی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین کی ایک درخشاں روایت موجود ہے۔ واجد اختر صدیقی کی تصنیف "نقشِ تحریر” اسی روایت کا اہم تسلسل ہے۔ یہ کتاب نوجوان نسل، نوآموز قلم کاروں، طلبہ و طالبات اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید سرمایہ ہے۔ اس میں مصنف نے گلبرگہ کے مختلف ادباء، شعراء اور افسانہ نگاروں پر تحریر کیے گئے اپنے مضامین کو یکجا کیا ہے، جو 2023ء میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔
کتاب "نقشِ تحریر” کو محمد جاوید اقبال صدیقی نے مرتب کیا ہے، جبکہ ڈاکٹر سید عتیق اجمل وزیر نے اس کی کمپوزنگ انجام دی ہے۔ کتاب کا خوبصورت سرورق سید مشتاق فاروقی کی فنی مہارت کا مظہر ہے، جو پہلی ہی نظر میں قاری کو متوجہ کرتا ہے۔
واجد اختر صدیقی نے اس کتاب کو اپنے استادِ محترم ڈاکٹر وحید انجم (مرحوم) کے نام معنون کیا ہے، جو ان کی استاد نوازی اور علمی وابستگی کا مظہر ہے۔ کتاب کے آغاز میں درج شعر:
"یہ دنیا ہے فانی، یہ دنیا ہے فانی
عجب زندگانی، عجب زندگانی”
زندگی کی ناپائیداری اور دنیا کی عارضی حیثیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
"نقشِ تحریر” مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، تبصروں اور تنقیدی جائزوں کا مجموعہ ہے۔ مصنف نے تحقیق اور تنقید کے مباحث کو نہایت سادہ، جامع اور دل نشین انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بابِ زمن، بابِ سخن، بابِ فن، بابِ ایوان، بابِ چمن، بابِ میزان اور بابِ گمان شامل ہیں۔
بابِ زمن میں گلبرگہ کی نثری روایت اور اہم نثر نگاروں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس باب میں ابراہیم جلیس، عصمت اللہ بیگ، امیر علی اور عطا حسین جیسے ادیبوں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بابِ سخن میں گلبرگہ کے شعراء کے فن اور شخصیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ خصوصاً حمید سہروردی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کی شاعری کسی مخصوص نظریے یا ازم کی پابند نہیں بلکہ انسانی جذبات، احساسات اور زندگی کے متنوع تجربات کی ترجمان ہے۔
بابِ فن میں افسانہ نگاروں اور ان کے فن کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ریاض قاصدار کے افسانوی مجموعے "منظور وقار” کے افسانے "ہوا محل” کے فنی اور فکری پہلوؤں پر مدلل گفتگو کی گئی ہے، جو مصنف کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے۔
مختصراً، "نقشِ تحریر” ایک ایسے سمندر کی مانند ہے جس کی ہر موج قاری کو گلبرگہ کی ادبی شخصیات، ان کے افکار، تخلیقات اور خدمات سے روشناس کراتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف گلبرگہ کی ادبی تاریخ اور روایت کا آئینہ دار ہے بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک اہم حوالہ بھی ہے۔ واجد اختر صدیقی کی یہ کاوش یقیناً گلبرگہ کی ادبی شناخت کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔


