ڈاکٹر فرزانہ فرح کی تصنیف "گل افشانیاں”: طنز و ظرافت کا مرقع

 

واجد اختر صدیقی

اردو ادب کی دلکش روایت میں طنز و مزاح ایک ایسی صنف ہے جو تحریر کو شگفتگی کے ساتھ فکری گہرائی بھی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں ہنسی محض تفریح نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ پیغام کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ اسی روایت کو اپنے مخصوص اسلوب میں آگے بڑھانے والوں میں ڈاکٹر فرزانہ فرح کا نام نمایاں ہے۔

ڈاکٹر فرزانہ فرح ریاست کرناٹک کی معروف شاعرہ اور طنز و ظرافت نگار ہیں۔ ان کی چار کتابیں، شوخیِ تحریر (2011)، دیکھنا تحریر کی لذت (2016)، رُکا سا موسم (2023) اور گل افشانیاں (2024) شائع ہو چکی ہیں۔ وہ شاعری اور انشائیہ نگاری دونوں میدانوں میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے انشائیوں میں شگفتگی اور طنز کا امتزاج ملتا ہے، جبکہ شاعری میں سنجیدگی، گہرائی اور بے باکی نمایاں ہے۔

ان کی تخلیقات کا بنیادی محور معاشرتی نابرابری، ناانصافی، فریب، حسد اور انسانی کمزوریاں ہیں۔ وہ نہ صرف ان مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ قاری کو ان کا شعور بھی عطا کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک ادب محض تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
سن 2024 میں شائع ہونے والی گل افشانیاں میں چودہ مضامین شامل ہیں۔ ہر مضمون ایک مکمل فکری اکائی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ کتاب اردو طنز و مزاح کی معروف شخصیت مصطفیٰ کمال کے نام معنون ہے۔ "حروفِ اخلاص” میں مصطفیٰ کمال لکھتے ہیں:
"گل افشانیاں کی خالق فرزانہ فرح اکیسویں صدی میں تیزی سے ابھرنے والی ایسی مزاح نگار ہیں جن کی رشحاتِ قلم طنز و مزاح کے دلدادہ قارئین بڑے شوق و دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔”
وہ مزید لکھتے ہیں:
"فرزانہ فرح اپنی خوش باش تحریروں کے ذریعے قاری کو مہکاتی ہیں۔ ان کے چونکا دینے والے مضامین پڑھ کر قاری مسرت و شادمانی کے جذبوں سے سرشار رہتا ہے۔ ان کے ہاں تلخی اور زہرخند لہجے کا گزر نہیں ہے۔”
یہ رائے اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ فرزانہ فرح کی تحریروں میں شگفتگی کے ساتھ اعتدال بھی موجود ہے۔ ان کے ہاں طنز ہے مگر دل آزاری نہیں، چبھن ہے مگر کڑواہٹ نہیں۔

اپنے پیش لفظ "اقرار” میں مصنفہ طنز و مزاح کو تسکینِ خاطر کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:
"میرے لیے طنز و ظرافت دراصل تسکینِ خاطر کی وہ چنندہ راہ ہے جہاں دریائے زیست کے مدوجزر کا پرتو راست نہ سہی، بالواسطہ جھلک دکھا جاتا ہے۔”
مزید وہ لکھتی ہیں:
"یہ انشائیے زندگی میں توازن بنائے رکھنے کی دانستہ کاوشوں کا ثمر ہیں کہ شاعری میں اتنا رو لیا جائے کہ ہنسنے کی ہمت جٹائی جا سکے۔”
ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک طنز و مزاح داخلی کرب اور تجربات کا مہذب اظہار ہے۔ ان کی تحریریں محض ہنسانے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے تلخ حقائق کو نرم انداز میں بیان کرنے کا ذریعہ ہیں۔
کتاب کے بیشتر مضامین انسانی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ٹماٹر کی ٹر ٹر، ٹیریفک ٹرافک، اومیکرون، کھدائی کی خدائی، دھن کی بات، آ گلے لگ جا، آن لائن مشاعرے، سیل کا کھیل، مفت ہاتھ آئے تو اور سفر خوبصورت ہے منزل حسین ہے جیسے عنوانات بظاہر سادہ ہیں مگر ان کے اندر گہری سماجی معنویت پوشیدہ ہے۔
کتاب کے اختتام پر مصنفہ نے اپنی آپ بیتی "من خوب می شناسم” کے عنوان سے افسانوی انداز میں قلم بند کی ہے جو دلچسپ اور دلکش ہے۔ آغاز میں انیس صدیقی کا خاکہ "خوش جمال و خوش خصال: فرزانہ فرح” بھی شامل ہے جو ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
"ٹماٹر کی ٹر ٹر”
"سنتے ہیں کہ ارتقا کی راہ میں ٹماٹر ان دنوں بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ معیاری زندگی اس قدر بلند ہو گئی ہے کہ آلو بخاروں اور سیب کے ساتھ نشست و برخاست ہونے لگی ہے۔”
"دھن کی بات”
"آدھا ہندوستان اپنی جمع پونجی گن رہا ہے اور باقی آدھا ملک کی صورتِ حال کا لطف لیتے ہوئے واٹس ایپ پر خود کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔”
"آن لائن مشاعرے”
"گھر بیٹھے بیٹھے غیر معروف شاعر بین الاقوامی شاعر بنتے ہوئے شکاگو، نیویارک اور اٹلی تک مشہور ہو جاتے ہیں۔”
ان اقتباسات سے مصنفہ کی باریک بینی، مشاہدے کی گہرائی اور شگفتہ طرزِ اظہار کا اندازہ ہوتا ہے۔

اردو ادب میں طنز و مزاح محض ہنسانے کا فن نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ایک مہذب ذریعہ ہے۔ اسی تناظر میں فرزانہ فرح اس روایت کی ایک باوقار نمائندہ کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ وہ نرم لہجے میں سخت بات کہنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کو ہنساتی بھی ہیں، چونکاتی بھی ہیں اور سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
مختصراً یہ کہ ڈاکٹر فرزانہ فرح نے سلگتے ہوئے موضوعات کو نہایت خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ زبان و بیان کی روانی، شگفتگی اور ادبی چاشنی نے ان کی تحریروں کو مزید دل نشیں بنا دیا ہے۔ 143 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محبانِ اردو تنظیم برائے فروغِ اردو زبان و ادب، گلبرگہ نے شائع کی ہے اور یقیناً اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر اضافہ ہے۔
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

ڈاکٹر فرزانہ فرح کی تصنیف "گل افشانیاں”: طنز و ظرافت کا مرقع

 

واجد اختر صدیقی

اردو ادب کی دلکش روایت میں طنز و مزاح ایک ایسی صنف ہے جو تحریر کو شگفتگی کے ساتھ فکری گہرائی بھی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں ہنسی محض تفریح نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ پیغام کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ اسی روایت کو اپنے مخصوص اسلوب میں آگے بڑھانے والوں میں ڈاکٹر فرزانہ فرح کا نام نمایاں ہے۔

ڈاکٹر فرزانہ فرح ریاست کرناٹک کی معروف شاعرہ اور طنز و ظرافت نگار ہیں۔ ان کی چار کتابیں، شوخیِ تحریر (2011)، دیکھنا تحریر کی لذت (2016)، رُکا سا موسم (2023) اور گل افشانیاں (2024) شائع ہو چکی ہیں۔ وہ شاعری اور انشائیہ نگاری دونوں میدانوں میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے انشائیوں میں شگفتگی اور طنز کا امتزاج ملتا ہے، جبکہ شاعری میں سنجیدگی، گہرائی اور بے باکی نمایاں ہے۔

ان کی تخلیقات کا بنیادی محور معاشرتی نابرابری، ناانصافی، فریب، حسد اور انسانی کمزوریاں ہیں۔ وہ نہ صرف ان مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ قاری کو ان کا شعور بھی عطا کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک ادب محض تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
سن 2024 میں شائع ہونے والی گل افشانیاں میں چودہ مضامین شامل ہیں۔ ہر مضمون ایک مکمل فکری اکائی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ کتاب اردو طنز و مزاح کی معروف شخصیت مصطفیٰ کمال کے نام معنون ہے۔ "حروفِ اخلاص” میں مصطفیٰ کمال لکھتے ہیں:
"گل افشانیاں کی خالق فرزانہ فرح اکیسویں صدی میں تیزی سے ابھرنے والی ایسی مزاح نگار ہیں جن کی رشحاتِ قلم طنز و مزاح کے دلدادہ قارئین بڑے شوق و دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔”
وہ مزید لکھتے ہیں:
"فرزانہ فرح اپنی خوش باش تحریروں کے ذریعے قاری کو مہکاتی ہیں۔ ان کے چونکا دینے والے مضامین پڑھ کر قاری مسرت و شادمانی کے جذبوں سے سرشار رہتا ہے۔ ان کے ہاں تلخی اور زہرخند لہجے کا گزر نہیں ہے۔”
یہ رائے اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ فرزانہ فرح کی تحریروں میں شگفتگی کے ساتھ اعتدال بھی موجود ہے۔ ان کے ہاں طنز ہے مگر دل آزاری نہیں، چبھن ہے مگر کڑواہٹ نہیں۔

اپنے پیش لفظ "اقرار” میں مصنفہ طنز و مزاح کو تسکینِ خاطر کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:
"میرے لیے طنز و ظرافت دراصل تسکینِ خاطر کی وہ چنندہ راہ ہے جہاں دریائے زیست کے مدوجزر کا پرتو راست نہ سہی، بالواسطہ جھلک دکھا جاتا ہے۔”
مزید وہ لکھتی ہیں:
"یہ انشائیے زندگی میں توازن بنائے رکھنے کی دانستہ کاوشوں کا ثمر ہیں کہ شاعری میں اتنا رو لیا جائے کہ ہنسنے کی ہمت جٹائی جا سکے۔”
ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک طنز و مزاح داخلی کرب اور تجربات کا مہذب اظہار ہے۔ ان کی تحریریں محض ہنسانے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے تلخ حقائق کو نرم انداز میں بیان کرنے کا ذریعہ ہیں۔
کتاب کے بیشتر مضامین انسانی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ٹماٹر کی ٹر ٹر، ٹیریفک ٹرافک، اومیکرون، کھدائی کی خدائی، دھن کی بات، آ گلے لگ جا، آن لائن مشاعرے، سیل کا کھیل، مفت ہاتھ آئے تو اور سفر خوبصورت ہے منزل حسین ہے جیسے عنوانات بظاہر سادہ ہیں مگر ان کے اندر گہری سماجی معنویت پوشیدہ ہے۔
کتاب کے اختتام پر مصنفہ نے اپنی آپ بیتی "من خوب می شناسم” کے عنوان سے افسانوی انداز میں قلم بند کی ہے جو دلچسپ اور دلکش ہے۔ آغاز میں انیس صدیقی کا خاکہ "خوش جمال و خوش خصال: فرزانہ فرح” بھی شامل ہے جو ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
"ٹماٹر کی ٹر ٹر”
"سنتے ہیں کہ ارتقا کی راہ میں ٹماٹر ان دنوں بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ معیاری زندگی اس قدر بلند ہو گئی ہے کہ آلو بخاروں اور سیب کے ساتھ نشست و برخاست ہونے لگی ہے۔”
"دھن کی بات”
"آدھا ہندوستان اپنی جمع پونجی گن رہا ہے اور باقی آدھا ملک کی صورتِ حال کا لطف لیتے ہوئے واٹس ایپ پر خود کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔”
"آن لائن مشاعرے”
"گھر بیٹھے بیٹھے غیر معروف شاعر بین الاقوامی شاعر بنتے ہوئے شکاگو، نیویارک اور اٹلی تک مشہور ہو جاتے ہیں۔”
ان اقتباسات سے مصنفہ کی باریک بینی، مشاہدے کی گہرائی اور شگفتہ طرزِ اظہار کا اندازہ ہوتا ہے۔

اردو ادب میں طنز و مزاح محض ہنسانے کا فن نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ایک مہذب ذریعہ ہے۔ اسی تناظر میں فرزانہ فرح اس روایت کی ایک باوقار نمائندہ کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ وہ نرم لہجے میں سخت بات کہنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کو ہنساتی بھی ہیں، چونکاتی بھی ہیں اور سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
مختصراً یہ کہ ڈاکٹر فرزانہ فرح نے سلگتے ہوئے موضوعات کو نہایت خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ زبان و بیان کی روانی، شگفتگی اور ادبی چاشنی نے ان کی تحریروں کو مزید دل نشیں بنا دیا ہے۔ 143 صفحات پر مشتمل یہ کتاب محبانِ اردو تنظیم برائے فروغِ اردو زبان و ادب، گلبرگہ نے شائع کی ہے اور یقیناً اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر اضافہ ہے۔
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں