ریاض فردوسی
کتاب دراصل تحریری معلومات،خیالات،تصورات اور علم کا ایک مجموعہ ہے،لفظ "کتاب” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "لکھنا” یا "مجموعہ” ہے۔
آسان لفظوں میں ہر وہ تحریر یا معلومات کا مجموعہ جو کسی بھی شکل میں(جیسے کاغذ،چمڑے،یا ڈیجیٹل فارمیٹ میں) محفوظ کیا گیا ہو،کتاب کہلاتا ہے۔کتاب لکھنے کا بنیادی مقصد معلومات اور علم کو محفوظ کرنا، انسانی شعور کو بیدار کرنا،معاشرے کی اصلاح کرنا،جذبات کا اظہار کرنا یا اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔
سب سے بڑھ کر بچوں کی اصلاح کے لیے کہانیاں لکھنے کا بنیادی مقصد ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت کرنا،تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور تفریح کے ذریعے انہیں زندگی کے بنیادی اسباق سکھانا ہوتا ہے۔یہ کہانیاں بچوں میں پڑھنے کی عادت پیدا کرتی ہیں اور ان کے تصوراتی دائرے کو وسعت دیتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے لیے لکھنا بہت مشکل کام ہے،کیونکہ بچوں کی پسند،نفسیات اور سمجھ کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔جو ادیب یہ ذمہ داری کامیابی سے نبھاتے ہیں وہ یقیناً تعریف اور احترام کے مستحق ہیں۔
بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے والے ڈاکٹر قیصر زاہدی صاحب جیسے ادیب ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔یہ شاندار لوگ ننھے ذہنوں کو علم،اخلاق اور محبت کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ان کی لکھی ہوئی کہانیاں بچوں کو صرف تفریح ہی نہیں دیتیں بلکہ زندگی کے اہم۔ اسباق بھی سکھاتی ہیں،سیاہ و سباق سے روشناس کراتی ہیں،معیاری زندگی گزارنے کا درس دیتی ہیں،۔یہی وجہ ہے کہ بچوں کے ادیب قوم کے حقیقی معمار کہلاتے ہیں۔بچپن انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے۔
اس عمر میں سنی اور پڑھی جانے والی باتیں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔بچوں کے کہانی نویس اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں میں سچائی،
ایمانداری،محنت،ہمدردی اور احترامِ انسانیت جیسے اعلیٰ اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ان کی کہانیوں کے کردار بچوں کو اچھے کام کرنے اور برائی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔بچوں کے ادیبوں کا اندازِ تحریر نہایت دلچسپ اور دلکش ہوتا ہے۔وہ آسان الفاظ اور خوبصورت انداز میں ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جہاں بچے خوشی محسوس کرتے ہیں۔کبھی جانوروں کی کہانیاں،کبھی پریوں کی دنیا،اور کبھی بہادر بچوں کے قصے ننھے قارئین کے دل موہ لیتے ہیں۔یہی کہانیاں بچوں کے تخیل کو مضبوط اور ذہن کو وسیع بناتی ہیں۔ہمیں ایسے لکھنے والوں کی قدر کرنی چاہیے،کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر قیصر زاہدی کی مرتّب کردہ کتاب چہار باغ کی زبان بہت ہی سلیس اور سادہ بچوں کے فہم کی زبان ہے۔بہترین اور شاندار کارکردگی کے ساتھ اسے مرتب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی کہانیاں بچوں کے دل میں خوشی اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔
موصوف نے بچوں کی معصوم دنیا کو بہت خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالا ہے۔آپ کی تحریریں نہ صرف دلچسپ ہے،بلکہ اخلاقی سبق بھی دیتی ہیں۔بچوں کے ادب میں آپ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔آپ کی کہانیاں بچوں کے تخیل کو نئی اُڑان دیتی ہیں۔آپ کے قلم نے معصوم خوابوں کو لفظوں کی ایسی قوسِ قزح عطا کی ہے،جس کا ہر رنگ بچوں کے دلوں کو روشنی بخشتا ہے۔آپ کی کہانیوں میں تخیل کی خوشبو،محبت کی نرمی اور تربیت کی روشنی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
آپ بچوں کے ننھے ذہنوں میں امید،حیرت اور خوبصورتی کے چراغ روشن کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
آپ کی تحریر معصومیت کے باغ میں کھلنے والے اُن پھولوں کی مانند ہے جو دل کو بھی مہکاتے ہیں اور سوچ کو بھی۔
آپ کے افسانوی کردار بچوں کے دلوں میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور انہیں اچھائی کی راہوں سے آشنا کرتے ہیں۔
آپ کی کہانیاں صرف قصے نہیں بلکہ ننھی روحوں کے لیے خواب،سبق اور روشنی کا حسین امتزاج ہیں۔
لفظوں پر آپ کی گرفت ایسی ہے کہ ہر کہانی بچے کے تخیل کو ایک نئی دنیا کی سیر کرا دیتی ہے۔
"چہار باغ” کہانیوں اور نظموں کا مجموعہ ہے،اس میں شاہد جمیل اور مناظر حسن شاہین کی نظمیں
"کمپیوٹر” "علم کی دولت دے اللہ”
"نیا سال نئ امنگیں”
"عظمت مادر” "ایک پھول اور کانٹا”
وغیرہ وغیرہ اور
سلطان احمد ساحل کے مضمون
"بچوں کے ڈاک ٹکٹ کی کہانی”
انوکھی گھڑی”
"ترنگی مٹھائیاں”
"ستارے کیوں تمٹماتے ہیں” "اپنی یادداشت کیسے بڑھائیں”
وغیرہ وغیرہ موجود ہیں۔
ڈاکٹر قیصر زاہدی کی "ضمیر کی آواز”
"نافرمانی کا انجام” وغیرہ وغیرہ بھی ہے۔
ڈاکٹر قیصر زاہدی کی طرزِ تحریر بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق سادہ،عام فہم اور پرکشش ہوتی ہے۔کہانی کا موضوع،پلاٹ آسان ہوتی ہے،جو بچوں میں تجسس، اخلاقی اقدار (اچھی باتیں) اور تخیل کی صلاحیت کو بیدار کرتی ہے۔زاہدی صاحب کی کہانیاں ابتدائی عمر (Toddlers)
چھوٹے بچے (Primary)
بڑے بچے (Middle-grade)
کے ذہنوں کے مطابق کتاب ہوتی ہے۔
غزل کے برعکس،نظم کا ایک مرکزی خیال اور عنوان ہوتا ہے۔ایک اچھا نظم نگار اسی ایک موضوع کو شروع سے آخر تک منطقی انداز میں آگے بڑھاتا ہے۔ہیئت اور ساخت کی مہارت،اہم ترین تعبیرات،نظم کے شعراء شاعری کے مختلف شکلیں مثلاً پابند نظم، آزاد نظم (بغیر قافیہ) یا نثری نظم کی بنت پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔نظم میں موسیقی اور آہنگ امتزاج بہت ہی ضروری ہے۔اچھے شاعر کے کلام میں الفاظ کا ایسا انتخاب ہوتا ہے،جو پڑھنے والے پر سحر طاری کر دے اور ایک طبعی موسیقی پیدا کرے۔عصری آگاہی بھی اہم ترین اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
افسانہ و شعراء اپنے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں،رہنمائ کا کام کرتے ہیں، معاشرتی مسائل،فطرت کے مناظر اور انسانی نفسیات کو نثر و شاعری کا روپ دیتے ہیں۔
جن شعراء کی نظمیں "چہار باغ” میں درج ہیں،انہیں اس پیراۓ پر دسترس حاصل ہے۔
بچوں کے لیے نظم لکھنے والے شعراء (اطفال کے نظم نگار) کی تعریف ان کے فکری و فنی محاسن کے ساتھ ساتھ بچوں کی نفسیات کی سمجھ اور تعلیمی پہلوؤں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔بچوں کے لیے لکھنا عام شاعری سے زیادہ مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں شاعر کو بچوں کے ذہنی معیار کے مطابق ڈھلنا ہوتا ہے۔
لٹل سنگھم، لٹل سنگھم !
چلے جاتے ہو برمنگھم
وہاں پر کام کرتے ہو
یہاں آرام کرتے ہو
وہاں بھرتے ہو فراٹے
یہاں لیتے ہو خراٹے
وہاں ہنستے ہو ہا ہا ہا
یہاں کہتے ہو، کیا، کیا، کیا ؟
وہاں گاتے ہو سب گانا
یہاں کہتے ہو، نا، نا، نا
لٹل سنگھم، لٹل سنگھم !
چلے جاتے ہو برمنگھم
نظموں کے ذریعے بچوں کی اخلاقی تربیت،حب الوطنی، اور اچھائی کی ترغیب کتنے غیر محسوس اور دلچسپ انداز میں دی گئی ہے۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ سائنسی حقائق،تاریخ،یا معلوماتِ عامہ کو نظم کے سانچے میں کیسے ڈھالا گیا ہے۔
وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا،یہ تو چلتا رہتا ہے
وقت کی قدر نہ کی جس نے بھی، ہاتھ ہی ملتا رہتا ہے
علم کے نور سے، آؤ ہم بھی دنیا کو روشن کر دیں
پھیلے جس سے پیار کی خوشبو، پیدا وہ گلشن کر دیں
مشکل اور ثقیل الفاظ سے گریز کرتے ہوئے روزمرہ کی آسان اور عام فہم زبان بچوں کی زبان کا استعمال بے حد ضروری ہے۔نظم میں ایسی مٹھاس،موسیقیت اور صوتی آہنگ ہونا چاہیے کہ بچے اسے آسانی سے زبانی یاد کر سکیں۔
گھر کی رونق ہیں ہر ایک دل کے سہارے بچے
باپ کے لاڈلے اور ماں کے دلارے بچے
رشک فردوس بنا ڈالیں گے یہ دنیا کو
خوب دکھلائیں گے جنت کے نظارے بچے
چاند،تارے،بارش،پھول اور موسموں کا دلچسپ بیان۔جانور اور پرندے،جانوروں کے کرداروں(جیسے چڑیا، طوطا،بلی) کے ذریعے سبق آموز کہانیاں بنانا چاہیے۔بچوں کا روزمرہ کھیل کود،اسکول،ماں باپ کی محبت،اور بچوں کے اپنے کھلونوں کے گرد گھومتے موضوعات ہونے چاہیے۔
جو ہی بٹن دبایا، پھر
لنچ ہے ٹیبل پر حاضر
ساتھ یہ میرے، کھیلے بھی
چھپ جاؤں تو ڈھونڈے بھی
کرتا میرے سارے کام
کیسی چھٹی؟ کیا آرام؟
جہاں بیٹھا دو، رہے وہیں
پیٹ کی، اس کو فکر نہیں
رات کو جب ہم سو جاتے
بس، یہ بیٹھا یہ سوچے
دن نکلے تو کام کروں!
میں کیونکر آرام کروں؟
ززز


