
محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
کسی بھی زبان کی بقا، ترویج اور شادابی ان مخلص اور انتھک مسافروں کی مرہونِ منت ہوتی ہے جو صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر عمر بھر علم و ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب اردو کا مسافر: سلطان اختر، جسے اورنگ آباد کے صاحب طرز قلمکار ش۔ شکیل نے نہایت محبت، عرق ریزی اور علمی سنجیدگی سے مرتب کیا ہے، اسی مخلصانہ روایت کی ایک روشن مثال ہے۔
یہ کتاب محض ایک سوانحی تذکرہ نہیں بلکہ سولاپور، مہاراشٹر کے ممتاز ادیب، صحافی، مرتب اور اردو کے بے لوث خادم سلطان اختر کی علمی، ادبی، صحافتی اور تنظیمی خدمات کا جامع دستاویز ہے۔ ان کی شخصیت اور خدمات کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے، وہ انہیں اردو ادب کی معاصر تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
مرتب نے روایتی اور جدید اسلوب کو یکجا کرتے ہوئے کتاب کو دلکش، مربوط اور بامعنی بنایا ہے۔ ابتدائی صفحات میں اظہارِ تشکر اور عرضِ مرتب سے سلطان اختر کے تئیں عقیدت کے ساتھ مرتب کی ادبی بصیرت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ کتاب کا انتساب معروف ادیب ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی کے نام ہے، جبکہ شکیل ابن شرف، ارشد صدیقی اور رئیس احمد قتیل کی تہنیتی نظموں نے اس کی ادبی وقعت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
کتاب کا سب سے اہم حصہ "حرفِ ستائش” اور "حرفِ پیکر” پر مشتمل ہے، جس میں اردو دنیا کے متعدد معتبر ادیبوں، ناقدوں اور محققین نے سلطان اختر کی شخصیت، افسانہ نگاری، خطوط نگاری، ادبی خدمات اور تنظیمی کردار کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ نورالحسنین، غلام ثاقب، رفیق جعفر، ایم مبین، ڈاکٹر ابراہیم افسر اور ڈاکٹر شبیر اقبال جیسے اہل قلم نے ان کے فکری پس منظر، سادہ مگر مؤثر اسلوب، فنی مہارت اور تخلیقی خصوصیات کو اجاگر کیا ہے۔ ان مضامین نے کتاب کو محض تاثراتی مجموعہ نہیں رہنے دیا بلکہ ایک مستند ادبی و تحقیقی دستاویز کی حیثیت عطا کی ہے۔
سلطان اختر یکم جون 1980ء کو سولاپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم اے اردو اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کی اور تدریس و صحافت سے وابستہ ہوئے۔ وہ بھارتیہ اردو کاس فاؤنڈیشن، سولاپور کے صدر کی حیثیت سے بھی سرگرم خدمات انجام دے رہے ہیں اور نئی نسل کی فکری و لسانی تربیت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کا ادبی سفر مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے متعدد اہم کتابیں مرتب کی ہیں جن میں آٹھ آنے کی مٹھاس، امریکہ میں اردو کے علمبردار: ڈاکٹر عبدالقادر فاروقی، مسلم سائنسدانوں کی سائنسی خدمات اور نذیر بنام سلطان اختر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف و تالیفات ان کے فکری تنوع، وسیع مطالعے اور تخلیقی بصیرت کی غماز ہیں۔ بحیثیت مرتب انہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف کو نئی توانائی عطا کی ہے۔
ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کا خصوصی ایوارڈ اور وارث اردو صحافت ایوارڈ نمایاں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں انہوں نے قومی و بین الاقوامی سیمیناروں، مشاعروں، کتابوں کی رونمائی اور آن لائن ادبی پروگراموں کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ مراٹھی صحافت میں بھی انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے، جبکہ مختلف جامعات اور علمی اداروں سے ان کی وابستگی ان کے وسیع علمی حلقے کی عکاس ہے۔
کتاب کا ایک اہم اور تاریخی حصہ خطوط نگاری سے متعلق ہے۔ اس میں سلطان اختر کے نام لکھے گئے اور ان کی جانب سے ارسال کردہ متعدد نادر خطوط شامل ہیں، جو محض شخصی مکاتبت نہیں بلکہ اپنے عہد کے ادبی، فکری اور تنقیدی مباحث کا ریکارڈ ہیں۔ ان خطوط کی اشاعت اردو میں دم توڑتی ہوئی مکتوب نگاری کی روایت کو زندہ کرنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔ یہی حصہ کتاب کی تحقیقی اور دستاویزی اہمیت کو مزید مستحکم بناتا ہے۔
متعدد اہل قلم نے سلطان اختر کو اردو کا سچا سپاہی قرار دیتے ہوئے ان کی ادبی بصیرت، تنظیمی صلاحیتوں اور فروغِ اردو کے لیے مسلسل جدوجہد کو سراہا ہے۔ ان کی افسانچہ نگاری، تنقیدی شعور، مرتبانہ صلاحیت اور علمی سرگرمیوں کو اردو دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے رفقا اور ناقدین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عملی سرگرمیوں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اردو کے معتبر اشاعتی ادارے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی سے شائع ہونے والی یہ 112 صفحات پر مشتمل کتاب معیار اور مواد دونوں اعتبار سے قابلِ توجہ ہے۔ خوبصورت سرورق، عمدہ طباعت، معیاری کتابت اور مرتبانہ حسنِ ترتیب اس کی کشش کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر اردو کا مسافر: سلطان اختر محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک، ایک فکری سفر اور ایک مخلص ادیب کی زندگی کا آئینہ ہے۔ ش۔ شکیل نے سلطان اختر کی ہمہ جہت خدمات کو نہایت سلیقے، توازن اور جامعیت کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کے طلبہ، اساتذہ،


